کیا یہ حکومت کا فرض نہیں؟

shakeel-qamar

جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان میں غربا ء،مساکین،نادار،بے روزگار،اَپا ہج،بیواؤں اورعمر رسیدہ افراد کی حکومت کی طرف سے کسی قسم کی کوئی باقاعدہ مالی اعانت نہیں کی جاتی اور اگر زکاۃ اور بے نظیر انکم سکیم کے تحت دکھاوے کے لئے کچھ لوگوں کو معمولی سی امداد مہیا بھی کی جاتی ہے تو وہ ’’آٹے میں نمک ‘‘کے مصداق اتنی کم ہوتی ہے کہ نہ ہونے کے برابر ہی سمجھئے ایسے حالات میں ہر کسی کو اپنی زندگی کی گاڑی کوخود ہی دھکّا لگانا پڑتا ہے عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ وائٹ کالرطبقے کے لوگ سب سے زیادہ مصائب اور مشکلات کا شکار رہتے ہیں ایسے ہی لوگوں میں بیواؤں،عمر رسیدہ شہریوں اور پینشنرزکے لئے زندگی کچھ زیادہ ہی مشکل اور دشوار دکھائی دیتی ہے اِسی لئے کچھ بیواؤں، عمر رسیدہ شہریوں اور پینشنروں نے اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی کو حکومت کی بچت کی سکیموں میں لگایا ہوتا ہے تاکہ کم سے کم گھر کا چولہا تو جلتا رہے پاکستان میں جن لوگوں نے مرکزِقومی بچت کی مختلف سکیموں میں سرمایہ کار ی کر رکھی ہے اُن کو اس سے ماہانا اور سالانہ منافع کی مد میں کچھ رقم مل جاتی ہے اور اس طرح ضرورت مند لوگوں کے گھروں کے سلسلے چلتے رہتے ہیں اگر چہ اسلام میں ایسی کسی سرمایہ کاری کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے جس کا منافع سود کے زُمرے میں آتا ہو،بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے ،یہاں اِن سطور میں جو معاملہ اُجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں جن مجبور اور ضرورت مند لوگوں نے مرکزِقومی بچت کی سکیموں میں اپنی رقوم جمع کروارکھی ہیں اُنہیں سابق صدر مشرف کے دورِحکومت میں تقریباًاٹھارہ فیصدسالانہ منافع دیا جاتا تھا جس سے اُن کو اپنے گھروں کاچولہا گرم رکھنے میں کچھ مدد مل جاتی تھی مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ سابق حکومت کے دور میں مرکزِ قومی بچت کی سکیموں کے منافع کو بارہ فیصدتک کم کر دیا گیا اور اَب جبکہ خاص طور پر موجودہ حکومت برسرِاقتدارآئی ہے تو مرکزِ قومی بچت کی سکیموں کے منافع کو کم کر کے بیواؤں عمررسیدہ افراد اور پینشنروں کی ماہانہ آمدن کی بچت کی سکیموں پر حاصل دس فیصد ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ کوبھی ختم کر دیا گیا ہے اس سے مستحقافراد کی ریگولر آمدنی میں مزید کمی واقع ہوگئی ہے موجودہ دور میں یہ معاملہ اور بھی زیادہ تکلیف دہ اِس لئے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی تایخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور عام آدمی کی زندگی مہنگائی نے اَجیرن کر رکھی ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ نے پورے ملک کے عوام کو مشکل میں ڈال رکھا ہے اور بجلی کی قیمتیںآسمان سے باتیں کر رہی ہیں جیسا کہ پاکستان کے ہر ادارے میں کرپشن کا راج ہے ایسے میں بجلیکے بل وصول کرنے والی کمپنیوں نے اپنی من مانی کرتے ہوئے عام لوگوں کے بلوں میں بے جا اضافہ کرکے غریب عوام کا جینا حرام کر دیا ہے بلوں میں ناجائز اضافے کے خلاف نہ تومتعلقہ محکمہ کسی کی بات سنتا ہے اور نہ ہی کوئی اور ادارہ یا عدالت اس سلسلے میں عوام کی کوئی دادرسی کرنے کے لئے تیار ہیں ایسے میں جن ضرورت مند لوگوں نے مرکز قومی بچت کی سکیموں میں اپنی جمع پونجی لگا رکھی ہے اور وہ ماہانہ آمدنی کےلئے اس پر انحصار کرتے ہیں وہ آجکل زبردست مشکلات کا شکار دکھائی دیتے ہیں ان سطور میں اس معاملہ کی تفصیلات بیان کرنے کا مقصدصرف یہی ہے کہ اگر صدر مشرف کے سابقہ دور میں منافع کی شرح زیادہ تھی اور بیواؤں ،عمر ر سیدہ افراد اور پینشیروں کی ماہانہ آمدنی پر دسفیصد ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ بھی تھی اور یہی صورتِ حال سابقہ دورِحکومت میں بھی قائم رہی تو موجودہِ حکومت کے دور میں منافع کی شرحانتہائی کم کر کے دس فیصدہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ کو ختم کرنے کی کیا ضرورت تھی اس طرح اس کٹوتی سے براہ راست سب سے زیادہبیوہ،عمررسیدہ اور پینشنرافراد متاثر ہوئے ہیں جن کا گزر بسر مذکورہ آمدنی پر ہی منحصر تھاہو سکتا ہے کہ اس کٹوتی کے بارے میں وزیرِاعظممیاں محمد نواز شرئف اور وزیرِخزانہ اسحاق ڈارکو اعتماد میں لئے بغیر ہی افسرانِ بالا نے فیصلہ کر دیا ہو وگرنہ اس بات کایقین نہیں آتا کہوزیرِاعظم میاں محمد نوازشرئف نے اس قسم کے عوام دشمن فیصلے کی منظوری دی ہوجبکہ حکومت کی طرف سے توباربارغریب اور نچلے طبقے کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کئے جانے کا عندیہ دیا جاتا ہے بہرحال حکومت کی طرف سے قومی بچت کی سکیموں پر دس فیصد ہولڈنگ ٹیکسکی چھوٹ کو ختم کرنے سے بیواؤں،عمررسیدہ افراد اورپینشنرزکوجو نقصان پہنچا ہے اُس سے ہو سکتا ہے کہ کئی لوگوں کے گھروں کے چولہے بھی نہ جل سکیں کیونکہ حکومت کے مذکورہ فیصلے سے سب سے زیادہ بیوہ خواتین،عمررسیدہ افراد اورپینشنرزہی متاثر ہوئے ہیں جن کا گذربسرہی مذکورہ آمدنی پر تھا یہاں میں خاص طور پر اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں قومی بچت کے ہزاروں دفاترمیں کہیں بھیجاکر دیکھ لیں ہر ماہ پہلی تاریخ کو عمر رسیدہ اور ضعیف افراد قطاروں میں لگ کر اپنا ماہانہ منافع حاصل کر رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مہنگائی کا رونا بھی رو رہے ہوتے ہیں ایسے حالات میں جہاں پوری قوم کو موجودہ حکومت سے بہت سی توقعات وابسطہ تھیں وہاں بیواؤں ،عمررسیدہ افراد اور پینشنرزکو بھی یہ توقع تھی کہ موجودہ حکومت قومی بچت کی سکیموں کی شرح منافع میں اضافہ کرئے گی مگر موجودہ حکومت کےبااختیار لوگوں نے سابقہ دونوں حکومتوں کے ریکارڈتوڑتے ہوئے نہ صرف قومی بچت کی سکیموں کے شرح منافع میں کٹوتی کردی بلکہ وہدس فیصد ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ بھی واپس لے لی جو سابقہ حکومتوں کے دور میں موجود تھی آخر میں اس تحریر کے ذریعے میں وزیرِاعظم میاںمحمد نواز شرئف اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے یہ گذارش کروں گا کہ وہ قومی بچت کی سکیموں کے منافع اور ہولڈنگ ٹیکس کے معاملات کا ازسرِنو
جائزہ لیکر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ ملک کے موجودہ سنگین حالات میں مذکورہ متاثرین کی دادرسی ہو سکے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *