Site icon DUNYA PAKISTAN

بنوں آپریشن میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کو یرغمال بنانے والے 25 دہشتگرد ہلاک: پاکستانی فوج

Share

ترجمان پاکستانی فوج میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں دوران آپریشن شدید فائرنگ کے تبادلے میں 25 دہشتگرد اور دو سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔

منگل کی شب جیو نیوز سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ 18 دسمبر کو بنوں کے سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں زیرِ تفتیش 35 دہشتگردوں نے ہتھیار چھین کر فائرنگ کی اور سی ٹی ڈی کے دو جوانوں کو ہلاک کیا اور باقی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’زیر تفتیش لوگوں نے سی ٹی ڈی کے جوانوں کو قابو کر کے یہ صورتحال پیدا کی۔ باہر سے کوئی حملہ نہیں ہوا۔۔۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی سکیورٹی فورسز نے وہاں پہنچ کر کمپاؤنڈ کا محاصرہ کر لیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ دہشتگرد افغانستان جانے کے لیے محفوظ راستہ مانگ رہے تھے مگر اس مطالبے کو رد کیا گیا۔ ان کے مطابق دہشتگرد ہتھیار ڈالنے کو تیار نہ تھے اور اسی وجہ سے بھرپور آپریشن کیا گیا اور پاکستانی فوج کے جوان ’انتہائی بہادری سے لڑے۔‘

میجر جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے 48 گھنٹوں تک بھرپور کوشش کی گئی کہ دہشتگرد کسی صورت سرنڈر کر دیں مگر کامیابی حاصل نہ ہونے پر آپریشن کیا گیا اور شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 25 دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق سات دہشتگردوں نے سرنڈر کیا اور تین فرار کی کوشش کے دوران گرفتار کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں دو سپاہی ہلاک جبکہ تین افسران اور دو جوان زخمی ہوئے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان سے متعلق حکومت کی پالیسی کے حوالے سے سوال پر فوج کے ترجمان نے کہا کہ کسی مسلح جتھے کو پاکستان میں کسی قسم کی گنجائش نہیں دی جاسکتی اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت قائم کیا جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ آپریشن دہشتگردی کے خاتمے کے لیے جنگ کا منھ بولتا ثبوت ہے۔۔۔ افواج پاکستان دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشتگردی کی تازہ ہوا مغربی جانب سے چلی ہے مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے ابھرنے نہیں دیں گے۔

’شدت پسندوں نے دو درجن کے لگ بھگ افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا‘

ادھر پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے مطابق بنوں میں سی ٹی ڈی دفتر میں اہلکاروں کو یرغمال بنانے والے تمام شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور اس دوران تمام یرغمال افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

خواجہ آصف کی جانب سے اس حوالے سے تفصیلات قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بتائی گئیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’بنوں میں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ میں 33 دہشتگرد تھے، ان میں سے ایک نے باتھ روم جاتے وقت وہاں ایک اہلکار کے سر پر اینٹ مار کر باقی لوگوں کو بھی یرغمال بنا لیا۔

’آج ساڑھے 12 بجے سی ٹی ڈی نے آپریشن شروع کیا۔ تمام دہشتگرد اس آپریشن میں ہلاک کر دیے گئے ہیں اور آج ڈھائی بجے سی ٹی ڈی کا کمپاؤنڈ کلیئر کر دیا گیا ہے۔‘

خواجہ آصف نے آپریشن کے حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران دو فوجی ہلاک جبکہ ایک افسر سمیت 10 سے 15 جوان زخمی ہوئے ہیں جبکہ سارے کے سارے افراد جنھیں یرغمال بنایا گیا تھا انھیں رہا کروا لیا گیا ہے۔ تاہم خواجہ آصف کی جانب سے یرغمالیوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

خیال رہے کہ اطلاعات کے مطابق بنوں چھاؤنی میں انسداد دہشت گردی کے دفتر میں شدت پسندوں نے دو درجن کے لگ بھگ افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔

بیرسٹر سیف نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے عمارت کا محاصرہ کرتے ہوئے مقامی سطح پر مختلف وفود کے ذریعے عسکریت پسندوں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ہتھیار پھینک کر اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دیں۔

انھوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جا رہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ کوئی نقصان نہ ہو اور صورتحال پر قابو پا لیا جائے۔

دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ وہ بنوں میں جاری صورتحال سے واقف ہے اور اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اپنی پریس بریفنگ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ وہ ذمہ داروں سے یرغمالیوں کی فوری رہائی پر زور دیتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت افغانستان میں اور پاک افغان سرحد کے ساتھ موجود دہشتگردوں سمیت ایسے ’مشترکہ چیلنج‘ میں امریکہ کی شراکت دار ہے۔

نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ نے اس چیلنج سے نمٹنے میں پاکستانی حکومت کی مدد کی ہے اور وہ اس موجودہ صورتحال یا وسیع تر صورتحال سے نمٹنے میں مدد کے لیے بھی تیار ہیں تاہم اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستانی حکومت سے استفسار کیا جانا چاہیے۔

بنوں چھاؤنی کی صورتحال کیا تھی؟

ضلع بنوں میں منگل کو تمام تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ چھاؤنی کے داخلی اور خارجی راستے تیسرے روز بھی سیل رکھے گئے۔

میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ بنوں اور اس کے ذیلی اداروں میں طبی ایمرجنسی نافذ رہی۔

ڈپٹی کمشنر بنوں نے گذشتہ روز ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بنوں کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے آج بند رہیں گے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ کل رات سے بیشتر علاقوں میں بجلی نہیں تھی اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

بنوں چھاؤنی کے رہائشی جو اتوار کے روز گھروں سے باہر شہر کی جانب آئے تھے وہ اب تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے، انھوں نے دوسری رات بھی اپنے گھروں سے باہر گزاری ہے۔

بنوں میرانشاہ روڈ بھی بند ہے جبکہ علاقے میں خوف پایا جاتا ہے۔

اغوا کار یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور حکومت ان کا کوئی مطالبہ پورا نہیں کرے گی۔

ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بنوں چھاؤنی کے علاقے میں کرائے کے ایک مکان میں سی ٹی ڈی کا دفتر قائم ہے جہاں شدت پسندی میں ملوث ملزمان کو تفتیش کے لیے رکھا جاتا ہے اور اتوار کو ان شدت پسندوں نے ڈیوٹی پر تعینات ایک اہلکار سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کی اور وہاں موجود متعدد اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

شدت پسندوں کی تعداد دو درجن کے لگ بھگ بتائی گئی جبکہ فائرنگ کے واقعے میں تین اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی گئی۔

بنوں پولیس یا پاکستانی فوج کی جانب سے اس واقعے کے بارے میں کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد پاکستانی فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور فوجی حکام ہی اس آپریشن کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

،تصویر کا کیپشنچھاؤنی کی جانب جانے والے راستے رکاوٹیں لگا کر بند کیے گئے ہیں

ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعات سامنے آئی تھی کہ شدت پسندوں نے سی ٹی ڈی کے تھانے پر حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو رہا کروانے کی کوشش کی تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بنوں سی ٹی ڈی پولیس سٹیشن پر کسی نے حملہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سٹیشن میں کچھ ملزم دہشت گردی کے شبہے میں زیرحراست تھے جن سے تفتیش کی جا رہی تھی جہاں پر ان ملزمان نے سٹیشن میں موجود سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی۔

پیر کو جاری ہونے والے بیان میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بنوں کینٹ میں صورتحال پولیس اور سکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہے اور عوام پریشان نہ ہوں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت دہشت گردوں کا کوئی مطالبہ پورا نہیں کرے گی اور مسلح افراد کے لیے بہتر ہے کہ وہ ہتھیار پھینک دیں ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔

،تصویر کا کیپشنعلاقے میں کرفیو کا سا سماں ہے

سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے والے شدت پسندوں کی جانب سے اتوار کو ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں ایک یرغمالی اور چند مسلح شدت پسندوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو میں شدت پسند محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے دیکھے جا سکتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انھیں ہیلی کاپٹر میں افغانستان پہنچایا جائے۔

ویڈیو میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر انھیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا تو ہی وہ اہلکاروں کو رہا کریں گے اور ایسا نہ کیا گیا تو وہ یرغمالیوں کو قتل کر دیں گے۔

شدت پسندوں نے تو اس ویڈیو میں افغانستان جانے کے لیے محفوظ فضائی سہولت کا مطالبہ کیا لیکن دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پیر کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ جیل کے عملے کو یرغمال بنانے والے بیشتر افراد ان کے ساتھی ہیں اور طویل عرصے تک قید میں رہنے کی وجہ سے انھیں حالات کا علم نہیں، اس لیے انھوں نے افغانستان جانے کی بات کی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سلسلے میں اتوار کی شب حکومتی ذمہ داران سے بات ہوئی ہے کہ انھیں جنوبی یا شمالی وزیرستان منتقل کیا جائے لیکن اس بارے میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

Exit mobile version