یقین اور گمان !!

ڈاکٹر اظہر وحیدazhar

یقین ۔۔۔ ایک ایسی سواری ہے جوزمین پر بسنے والے انسان کواپنے پروں پر اُٹھاتی ہے اور سوئے آسمان لے چلتی ہے ۔ انسانی فکر وشعور کو ’’زمینی حقائق‘‘ سے نکال کر آسمانی حقیقتوں تک رسائی دینے والے معجزے کا نام یقین ہے ۔ خیال کی دنیامیںیقین شہد کی مثل ہے۔ جس طرح شہد میں ڈوبا ہوا پھل گلنے سڑنے سے محفوظ ہو جاتا ہے ‘اسی طرح یقین میں ڈوب جانے والاشخص بھی زمانے کی دست برد سے دُور ہوجاتا ہے۔یقین کے شہد میں سرتاپاڈوب جانے والا۔۔۔ایمان کی لذت پاتاہے۔ یقین ۔۔۔ فانی انسان کو عازمِ بقا کرتا ہے۔ یقین ، علم اور عمل۔۔۔ ایک ہی مثلث کے تین پہلو ہیں ۔علم پر یقین ۔۔۔عمل پر آمادہ کرتا ہے اور علم پر عمل یقین کو پختہ کرتا ہے۔ اپنے یقین کی حفاظت اپنے علم پر کاربند رہ کر ممکن پذیر ہوتی ہے۔ جب تک علم پر یقین نہ ہو ‘ عمل صورت پذیر نہیں ہوتا۔ اپنے علم پر یقین کا مطلب ہے ‘ علم دینے والی ذات پر یقین !! توحید ایک علم ہے۔۔۔ یہ درِ رسالت ؐ سے عطا ہوتا ہے۔ جب تک ذاتِ رسولِ کریم ﷺ پر یقین نہ ہو‘ علمِ توحید میسر نہیں آسکتا ۔ اپنے علم کی وحدت تک پہنچا بھی لازم ہے‘ وگرنہ وحدتِ عمل میسر نہ آئے گی ۔وحدتِ علم و عمل اس وقت حاصل ہوتی ہے ‘ جب علم دینے والی ذات پر یقین کامل ہو! کامل یقین ‘ کامل محبت کی عطا ہے۔ہر صاحبِ یقین پہلے صاحبِ محبت ہوتا ہے!!
علم الیقین کو عین الیقین کے درجہ تک پہنچانے کیلئے عمل ، مسلسل عمل اور حسنِ عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔علم پر عمل فرض ہے اور حسنِ عمل‘ ایک درجۂ احسان ! حسنِ عمل کا حامل اپنے عمل کے حسن کی گواہی تلاش کرنے سے بے نیاز ہوتا ہے۔ درجۂ احسان یہ ہے کہ اپنی وفا کا تذکرہ نہ ہو ۔۔۔اور دوسرے کی جفا کا ذکر نہ ہو۔ ’’اُف‘‘ کہنا درجۂ احسان سے گرنے کی آوازہے۔ ’’اُف ‘‘کا تاثر دینا بھی اِحسان کی تاثیر سے محروم ہونے کی علامت ہے۔
ْٰٰ یقین ۔۔۔ سچ اور اخلاص کی دنیا کا مکین ہے ۔یقین قائم ہونے کیلئے کسی حاملِ یقین ذات کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ اس لئے یقین صرف سچ پر ہوگا۔۔۔ سچا انسان کرے گا ۔۔۔ اور سچے پر کرے گا۔ جھوٹ پر یقین قائم نہیں ہوسکتا ۔۔۔ کیونکہ یقین حالتِ سفر میں ہوتا ۔۔۔ اورجھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ جھوٹ کی وادیوں میں صرف گمانوں کے لشکر کا پڑاؤ پایا جاتا ہے۔ یقین ۔۔۔ کامل سے اکمل کی طرف مکمل ہونے کیلئے اپنے حبیب کی ہمراہی میں محوِ سفر رہتا ہے ۔۔۔ یہانتک کے ’من تو شدم ‘ تو من شدی ‘کی صورت میں حق الیقین کا درجہ پالے۔۔۔ اور مجاہدہ ‘ مشاہدے میں ۔۔۔ اور مشاہدہ ‘مکاشفے میں بدل جائے !! یقین ‘خیال اور خوشبو کی لپٹ ساتھ لے کر آتا ہے۔ گمان ‘ متردّد اور متعفن ہوتا ہے۔۔۔ نفاق اور غرور میں مبتلا ہونے کے سبب ۔ یقین ۔۔۔ عجز کے بوریے پر بھی بڑے فخر سے بیٹھتا ہے ۔ یقین خود شناسی ہے۔۔۔ اور گمان خود فریبی !
یقین کا ہما اخلاص کے سر پر بیٹھتا ہے۔ نفاق بدگمانیوں میں گھرا رہتا ہے۔ منافق آدمی سچے تک نہیں پہنچ سکتا ۔۔۔ کہ پہنچنے کا تعلق پہچان سے ہے اور پہچان کا تعلق اخلاص سے ! مخلص متلاشی ۔۔۔ اخلاص اور بندۂاخلاص تک ضرورپہنچے گا۔ راہ میں گھات لگائے ہوئے راہبروں کے بھیس میں راہزن ‘اس کا سرمایۂ یقین چھین لینے میں ناکام رہتے ہیں۔توحید کی طرح یقین کی امانت بھی سینوں میں ہوتی ہے ۔ ظن زینہ بہ زینہ ہے ۔۔۔ یقین ‘ سینہ بہ سینہ !!
فکرو شعور کے راہی کو جب بھی کوئی دوراہا درپیش ہوا۔۔۔ اس کے ایک طرف انسان اور انسانی اقدار تھیں اور دوسری طرف مادّہ اورمادّی اَقدار ! جب اس نے انسان پر یقین کیا تو اسے انسان کی قدر کا ادراک ہوا۔۔۔ اور اس قدر کے سبب اسے روحانی منزلوں کی طرف چلنے کی قدرت حاصل ہوئی ۔ اس کے برعکس جب اُس کا ووٹ مادّی مفاد کے طرف ہواتو وہ مادّیت کے اندھیروں کا مسافر ٹھہرا۔ یقین کرناعالی ہمت اور عالی ظرف لوگوں کا کام ہے۔ کم ہمت اور کم ظرف ‘کسی پر اعتماد نہیں کرتے۔ جو اعتماد کرتا نہیں ‘ وہ قابل اعتماد ہوتا نہیں۔ جسے کوئی معتمد نہ ملا ‘ اس نے زندگی میں کیا پایا؟ لوگ کہتے ہیں ‘ اعتماد کریں تو لوگ دھوکا دے جاتے ہیں ، حالانکہ جب لوگوں پر یقین کر لیا جاتا ہے تو وہ دھوکہ دینے کے قابل ہی کہاں رہتے ہیں ؟
یقین اور شک میں وہی فرق ہے جوزندگی اور موت میں ہوتاہے۔ یقین سرچشمہ حیات ہے۔۔۔ یقین حیات آفریں ہے ۔۔۔اور شک خاموش قاتل ہے۔ شک کرنے والا دوسروں کے حق میں بڑا ظالم ٹھہرتا ہے ۔ وہم و گما ن کے پالنے میں پلنے والا بہت جلد معنوی موت اور مردنی کا شکار ہوجاتاہے۔ جب ہم کسی پر یقین کرتے ہیں توخود میں جینے کا ایک جواز پاتے ہیں ۔۔۔اورجس پر یقین کرتے ہیں ‘ اس کیلئے بھی ایک روحانی زندگی عطا ہونے کا جواز بنتے ہیں ۔
یقین ۔۔۔ اپنی ماہیتِ اصلیہ میں غیر مادّی ہوتا ۔۔۔ اس لئے یقین ہمیشہ کسی روحانی آدرش پرقائم ہوگا۔ مادّ ی اشیاء تغیر پذیر ہوتی ہیں ۔۔۔وہ یقین کا بوجھ اٹھانے کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔
یقین ۔۔۔ قوتِ عمل ہے۔مادّی دنیا میں روحانی قوتوں کا تصرف یقین کے سبب ممکن ہوتا ہے۔ یقین۔۔۔ جذبوں کو لفظ دیتا ہے اور لفظوں کو معنی ! یقین کی سماعت کیلئے کوئی کلام مہمل نہیں ۔۔۔ یقین کی نظر میں کوئی منظر لایعنی نہیں۔ یقین ہر کلام میں کلمہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ یقین نہ ہوتو ہر کلمہ ماضی اور گمان کے دھندلکوں میں کھو جاتا ہے ۔ خدا ۔۔۔ یقین کی دھوپ میں نکھر کر مشہود ہوجاتاہے ۔۔۔ اور شک کی دُھند میں گم ہو جاتاہے۔ یقین ہی وہ راستہ ہے جو ظاہر سے غیب کی طرف لے کر جاتاہے ۔۔۔ درحقیقت جب ہم اپنے ہادی پر یقین کرتے ہیں ٗتو اُس کے غیب میں غوطہ زن ہوتے ہیں۔ زندگی میں معانی کا سراغ یقین کے آلے سے لگایا جاتا ہے ۔یقین میسر نہ ہو‘ تو کتاب سے لفظ اٹھا لیے جاتے ہیں اور لفظ سے معانی!
facebook.com/dr.azharwaheed

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *