پرفارمنس ریویو

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

کسی بھی وزارت کی کارکردگی کا جائزہ (performance review) لینے کے لئے تین باتیں ضروری ہیں۔ پہلی،کیا متعلقہ وزیر کے کاموں کی تفصیل(Job Description)کہیں درج ہے ۔ دوسری، کیا اسے محکمہ سونپتے وقت قابل پیمائش (measurable) اہداف دئیے گئے تھے اور تیسری ، کیا وزیر موصوف کی جانب سے پیش کی گئی کارکردگی کی رپورٹ زمینی حقائق سے مطابقت رکھتی ہے! لیکن ان تینوں باتوں سے پہلے ایک بنیادی بات کا تعین کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ کیا وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کا نتیجہ خیز جائزہ لینا ممکن بھی ہے یا نہیں ؟فرض کیجئے کہ وزیر اعظم اپنی کابینہ کی کارکردگی کے احتساب کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کم از کم تین وزارتیں ایسی ہیں جن کے وزرا کی کارکردگی ضرورت سے زیادہ خراب ہے توایسی صورت میں ان کے پاس کیا آپشن ہے ،کیا ان کی سرزنش کرکے انہیں آئندہ تین ماہ میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع دیا جائے ، کیا ان وزرا کا محکمہ تبدیل کردیا جائے یا پھر انہیں کابینہ سے فارغ کر کے ان کی جگہ کسی قابل اور قدرے نوجوان چہروں کو سامنے لایا جائے ؟کسی ایسے شخص کو کارکردگی بہتر بنانے کے لئے مزید تین ماہ دینا جس نے گزشتہ سوا سال میں ایک دھیلے کا بھی کام نہ کیا ہو وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں ۔اگر کسی میں اہلیت نہ ہو تو اس کے لئے تین ماہ تو کیا تین برس بھی کم ہیں اور اگر وزیر اعظم ایک ٹھوس تجزئیے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ فلاں وزارت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ،یہ خبر میڈیا میں جاری بھی ہو جاتی ہے اور اس کے بعد متعلقہ وزیر اسی وزارت میں براجمان رہتا ہے تو خفت کا سامنا پرائم منسٹر کے دفتر کو کرنا پڑے گا جو کسی طور مناسب نہیں۔ دوسرا آپشن بھی قابل عمل نہیں کیونکہ جو وزیر ایک محکمے میں پرفارم نہیں کر سکا توکیسے ممکن ہے کہ وزارت تبدیل ہوتے ہی اس کے جسم سے شعاعیں نکلنی شروع ہو جائیں اور وہ سٹفین کوی کی طرح مینجمنٹ گرو بن جائے لہٰذا اونگھتے ہوئے وزرا کا محکمہ تبدیل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا الٹا انہیں ایک دوسری وزارت میں نئے سرے سے خرابیاں پیدا کرنے کے لئے مزید توانائی مل جائے گی!تیسرے آپشن پر سیاسی اعتبار سے عمل کرنا ممکن نہیں ،ما سوائے اکادکا وزرا کے،کابینہ کے تقریباً تمام ممبران جماعت کے سرکردہ رہنما ہیں،اگر ان میں سے کسی کی کارکردگی خراب نکل آتی ہے تو ایسے وزیر کو ہٹانے کی سیاسی قیمت چکانے کا کم از کم یہ موقع نہیں ۔
یہ قباحتیں اپنی جگہ مگر کارکردگی کا جائزہ لینا بہر حال ایک درست اور مستحسن فیصلہ ہے ۔اس سے دھنیا پی کر سوئے ہوئے محکمے ، چند روز کے لئے ہی سہی، بیدار ہو کر look busy do nothingکی تصویر تو بن جائیں گے۔مگر ایسا کیا جادو کیا جائے کہ وزیر اعظم کا یہ پرفارمنس ریویو نتیجہ خیز ثابت ہو۔ پہلا سوال job description کا ہونا چاہئے ،گو کہ وفاقی وزارتوں کے دائرہ کار کا تعین رولز آف بزنس میں کیا گیاہے مگر اس میں کسی وزیر کے کام کی واضح تفصیلات درج نہیں ، پھر اب کیا کیا جائے ؟ بہترین طریقہ یہ ہے کہ متعلقہ وزیر سے ہی پوچھا جائے کہ وہ اپنے محکمے کے بارے کتنا علم رکھتا ہے ، اس ایک سوا ل سے ہی اس کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔Power point presentationدینے پر پابندی ہو ( جتنا نقصان ہمیں power point presentations نے پہنچایا ہے اتنا کسی سافٹ ویئر نے نہیں پہنچایا،زمین پر چاہے دھول اڑتی ہو مگر پاور پوائنٹ پر ہم اس جگہ کو برج الخلیفہ بنا کر بیچ سکتے ہیں، اور وزرا کو کہا جائے کہ وہ اپنے سیکرٹری کی مدد کے بغیر سفید تختے پر اپنے ہاتھ سے لکھ کر صرف یہ سمجھائیں کہ ان کی وزارت کیا کام کرتی ہے، انہوں نے اپنے اہداف کا تعین کیسے کیا ، اپنی ترجیحات کیسے طے کیں، ان اہداف کو پانے کے لئے انہوں نے کیا اقدامات کئے اور ان کا کیا نتیجہ نکلا!
بجلی والوں سے پوچھا جائے کہ بجلی چوری ،ترسیل کے طریقہ کار ، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں کرپشن ، تعیناتیوں کے طریقہ کار میں شفافیت، بجلی کے درست بلوں کی بروقت تقسیم اور نئے منصوبوں کی بنیاد رکھنے میں سے آپ نے کون سی ترجیحات طے کیں!فرض کریں کہ آپ کی پہلی ترجیح بجلی چوری روکنا تھی اور وزارت سنبھالتے وقت بجلی چوری کی شرح اکیس فیصد تھی تو اب یہ شرح کم (یا زیادہ) ہو کر کتنے فیصد ہو گئی ہے ؟کامر س والے بتائیں کہ ہمارا ایکسپورٹ سرپلس کتنا ہے ،کیا یہ مقامی منڈی میں سستے داموں بک رہا ہے، اگر اسے ایکسپورٹ کیا جائے تو اس کے بدلے کتنا زر مبادلہ اکٹھا ہو سکتا ہے ؟پلاننگ والے اس بات پر روشنی ڈالیں کہ کیا منصوبہ بندی کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں ،پی سی ون بننے سے لے کر سروس ڈلیوری کے مرحلے تک جو وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے اس کی پانچ بنیادی وجوہات کیا ہیں ،ان کو دور کرنے کے لئے کیا قدم اٹھائے گئے ہیں ؟خزانہ والے فرمائیں کہ ان کی وزارت ہر سال بجٹ بناتی ہے ، محکموں کو فنڈ جاری کئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود ہر محکمہ جون کی آخری تاریخوںمیں نہایت عجلت اور لا پر واہی سے اربوںروپے کابجٹ ختم کرتا ہے کیونکہ آج تک وفاق کی cash flowکا مسئلہ ہی حل نہیں ہو سکا،آج تک اس بات کا تعین نہیںہو سکا کہ وفاق کے سست اور تیز رفتار منصوبے کون سے ہیں اور انہیں کس وقت کتنا کیش درکار ہوگا ، لہٰذاوزارت نے اپنے cash flow کو بہتر بنانے کے لئے کیا اقدامات کئے؟ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے پوچھا جائے کہ آپ کے محکمے نے کیا اس بات کا پتہ چلا لیا ہے کہ ملک میں کتنی سافٹ ویئر کمپنیاں ہیں ،ان میں سافٹ ویئر کے کتنے ماہر ہیں ، ان کی استعداد کیا ہے اور کیا ہم ان کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر سافٹ ویئر ایکسپورٹ میں اضافہ کر سکتے ہیں ؟ محکمہ داخلہ کم از کم یہ بتائے کہ سزا یابی کی شرح (conviction rate) کیا ہے ، اس میں کمی کی پانچ بڑی وجوہات کیا ہیں اور ان پر قابو پانے کے لئے کون سے تین اقدامات کئے گئے ہیں ؟
بات صرف اقدامات پر ختم نہ ہو بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ ان اقدامات کا نتیجہ کیا نکلا ! فرض کریں کہ بجلی کا محکمہ اعدداد و شمار کے گورکھ دھندے میں ایسا الجھائے کہ کچھ سجھائی نہ دے تو ایسے میں وزیر اعظم اپنے کسی چپراسی کو بجلی کاکوئی غلط بل دے کر لیسکو کے دفتر بھیجیں ‘ انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ بجلی کے جن غلط بلوںکی بدولت حکومت کی رسوائی ہو رہی ہے انہیں ٹھیک کروانا کس قدر جوکھم کا کام ہے اور کیسے بجلی کے دفتر میں بیٹھا ایک سپرنٹنڈنٹ پوری حکومت کی ساکھ کو ڈبونے کے لئے کافی ہے !سرکاری دستاویز میں کیسی ہی انگریزی لکھی ہو ،ان کی چھپائی کتنی ہی دیدہ زیب ہو ، ان میں کتنے ہی با رعب اعداد و شمار کیوں نہ درج ہوں ،ان کے مقابلے میں زمینی حقائق خاصے بے رحم اور تکلیف دہ ہوتے ہیں ، لہٰذا کسی بھی وزارت کا کوئی بھی دعویٰ فقط اس لئے تسلیم نہ کیا جائے کہ اسے کسی سیکرٹر ی نے کاغذ پر لکھ دیا ہے ،کاغذ پورے کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر کئے جانے والے اقدام کی نچلی سطح تک پہنچتے پہنچتے کیسے دھجیاں اڑتی ہیں ۔ بالکل ایسے جیسے ایک روز بد ترین فرقہ وارانہ تشدد کے بعدوزیر اعظم نے اعلان کیا کہ اشتعال انگیز تقاریر کسی صورت برداشت نہ کی جائیں اور ا گلی ہی صبح ایک شخص سائیکل پر لائوڈ اسپیکر لگا کر لاہور ہائیکورٹ کے عین سامنے پولیس گارد کے آگے اشتعال انگیز تقریرکرتا ہواگزرتا ہے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، اب کیجئے پرفارمنس ریویو!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *