داعش کو پاکستان میں لایا جا رہا ہے ، طاہر القادری

download-3

کراچی ۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ اسلام کا عنوان امن اور سلامتی ہے،جس مذہب میں گردنیں کٹیں ظلم ہو وہ اسلام نہیں ہوسکتا،آج کی کانفرنس کا عنوان خاص طور پر کراچی کے لئیے رکھاگیا ہے ،جتنی بدامنی کراچی میں ہوئی ہے اس کی مثال کہیں نہیں ،ہم ابھی تک امتیاز نہیں کرسکے کہ دشمن اصل میں ہے کون ۔اگر کراچی اجڑ گیا تو پاکستان اجڑ جائے گا،داعش ایک بہت بڑا خطرہ ہے، جس کو پاکستان لایا جارہاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کونشترپارک میں تحریک منہاج القرآن کراچی کے تحت سیرت النبی اورقیام امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں نے بھی شرکت کی ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ کیا ہم نے آج تک دہشت گردی کی تشخیص کرلی ہے ؟میرا کہنا ہے کہ نہیں کی ہے ۔دہشت گردی در اصل انتہا پسندی سے جنم لیتی ہے۔اس کے پیچھے بین الااقوامی دہشت گردی معاشی دہشت گردی اور دہشت گردی کی سوچ ہے۔بین الااقوامی عوامل پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتے ہیں ۔اسی لئیے غیر مستحکم کرنے کے لئیے دہشت گرد قوتوں کے لئیے آسان ٹول دہشت گردی ہے۔ دہشت گردی کے پیچھے معاشرے میں ناانصافی بھی ہے جس کی وجہ سے انتہا پسندی جنم لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18کروڑ عوام اپنے حقوق سے محروم ہیں ۔ملک کے سارے وسائل پر مافیا قابض ہوگی تو پھر دہشت گردی ہی جنم لے گی ۔دہشت گردی کو سمجھنے کے لئیے پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،بلکہ بس سمجھ نے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کو پالنے والے شہرکراچی کوآج کاٹا جارہا ہے اور عرصہ دراز سے  یہ ظلم ہے، اس کے زمہ دار کا تعین نہ ہی ظلم ہے ۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ کراچی میں معلوم نہیں کہ خون کون بہاتا ہے۔اللہ نہ کرے کہ اگر کراچی اجڑ گیا تو پاکستان اجڑ جائے گا۔پاکستان کو قوت دینے والا شہرآج خود قوت سے محروم ہے،جبکہ شہریوں کو روٹی کی ضرورت ہے چاہے اس کے لئیے انہیں دہشت گرد ہی کیوں نہ بننا پڑے۔دہشت گردی کا گٹھ جوڑ توڑا نہیں گیا۔انہوں نے کہا کہ القاعدہ سے جو کام لینا تھا وہ لینے کے بعد ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا گیا،اب داعش کا نام آگیا ہے جس کی سوچ اور طریقہ کر القاعدہ کی طرح ہے۔داعش اب پاکستان آرہی ہے یاداعش کو لایا جارہا ہے اوریہاں ٹھہرایا جارہا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ  یہ ملک اللہ کا ہمارے لئے خصوصی تحفہ ہے اور اللہ کے اس تحفے کو بچانا ہے۔ملک کے اندر کا ڈیفنس سسٹم کمزور ہے۔جب اندر سے باہر کے دشمن کو پناہ دینے والا نہ ہو اس وقت تک دشمن کامیاب نہیں ہوسکتا، مگریہاں ملک میں دہشت گردی کو قبول کرنے والے موجود ہیں۔ ہماری فوج کس کس سے لڑے گی۔ جب تک دہشت گردی کو قبولیت کو جڑ سے ختم نہ کیا گیا اس وقت کروڑوں گولیاں کچھ نہیں کرسکتی۔ میں آج فوج کو پیغام دے رہا ہوں کہ اسلام کا عنوان امن اور سلامتی ہے جس مذہب میں گردنیں کٹیں ظلم ہو وہ اسلام نہیں ہوسکتا ۔داعش کے دہشت گردوں کی علامتیں اور ساری نشانیاں حدیث مبارکہ میں بیان کی جاچکی ہیں۔اب اسکا علاج یہ کہ اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ہم دہشت گردوں کے ہاتھ میں گروی رکھے جارہے ہیں۔دہشت گردوں کا نشانہ پاکستان کا ایٹمی بم ہے،اس فتنہ سے بچنے کا واحد راستہ سیرت مبارکہ پر عمل کی صورت میں ہی یقینی ہے۔قرآن کی تعلیمات پر پاکستان کو استوار کرنا ناگزیر ہے۔ہمیشہ انسانیت کے لئیے جینا اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔کرپشن کا راستہ اسلام کا راستہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ آج سیرت مبارکہ کی برکات ہیں کہ ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے قائدین ایک ہی اسٹیج پر اکھٹھے ہوگئے ہیں۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے قرآن و حدیث کی روشنی میں سیرت طیبہ پر تفصیلی بیان کیا۔ کانفرنس میں میئر کراچی وسیم اختر نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔دریں اثناء ڈاکٹر طاہر القادری نے اتوار کی رات مزار قائد پر حاضری اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ ایک عظیم انسان اور سچے مسلمان تھے۔ آج کا پاکستان دیکھ کر قائد کی روح تڑپ رہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پرامن کراچی، پرا من پاکستان کی ضمانت ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون، پاناما لیکس، کرپشن اور دہشت گردی کی گٹھ جوڑ کے خلاف پوری قوم کو قیام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ک (ن) لیگ نے جھنگ میں کالعدم تنظیم کی سرپرستی کرتے ہوئے اسے جتوایا جو نیشنل ایکشن پلان کے منہ پر طمانچہ ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *