خودآگاہی و خوداحتسابی

farooq-khalid

نیدرلینڈ میں، یورپ کے بیشتر ممالک کی طرح، ٹیلی ویژن پر بچوں کے لیے خبروں کا ایک علیحدہ بلیٹن دِکھایا جاتا ہے جس سے بالغ مرد و زن بھی برابر مستفید ہوتے ہیں۔ آج صبح اس پروگرام میں ایک خبر نشر کی گئی کہ فرانس کے صدر، فرانسس ہالیندے، نے کہا ہے کہ وہ آیندہ برس ملک کے صدارتی انتخابات میں حصّہ نہیں لیں گے کیونکہ وہ عوام سے کیے گئے اپنے تمام وعدوں سے عہدہ برا نہیں ہو سکے۔ مزید براں انہوں نے اس کا برملا اقرار کیا ہے کہ وہ اب عوام میں اتنے مقبول نہیں رہےکہ دوبارہ اس عہدے پر براجمان ہونے کے کیے کوئی کوشش کریں۔ دوسری طرف اگر ہم شروع سے لے کر اب تک پاکستان پر، مختلف ہتھکنڈون سے کام لیتے ہوئے، فوجی اور غیر فوجی حکمرانوں کا جائزہ لیں تو کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے اپنی کوتاہیوں و کمیوں سے باخبر ہوتے ہوئے اپنے غیر مستحق ہونے کا احساس ہوا ہو اور نتیجتاً وہ بذاتِ خود اپنے عہدے سے دست بردار ہوا ہو۔ یا تو اسے عوام کے پُرزور احتجاج پر فارغ کیا گیا یا پھر کسی قدرتی سانحہ کے نتیجے میں اس خود ساختہ نجات دہندہ سے نجات حاصل ہوئی۔

اپنی غیر ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہوئے خود احتسابی کی روایت یہاں نہیں پائی جاتی بلکہ اس کے اُلٹ ایسی مضحکہ خیز تاویلات پیش کی جاتی ہیںکہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور جہالت ضرب الامثال میں شامل ہونی چاہیے۔ کون نہیں جانتا کہ جب صوبہءبلوچستان کے ایک گورنر کی جعلی ڈگری پکڑی گئی تو موصوف نے بڑے اعتماد سے یہ بیان دیا کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے، وہ اصلی ہو یا نقلی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور پھر ملک میں ٹرین کے ایک ہولناک حادثے میں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہونے پر ریلوے کے ایک وزیر کو ہمسایہ ملک میں ایسے ہی ایک حادثے کے نتیجے میں وہاں کے وزیر کے مستعفی ہونے کا کہا گیا تو ان صاحب کا بیان تھا کہ مَیں الحمدﷲ مسلمان ہوں، ہمیں کافروں کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ موجودہ حالات کو لیں۔ برسرِ اقتدار طبقہ ہو یا اس دوڑ میں آگے نکلنے والے دیگر سرکردہ سیاسی اکابرین سب کے سب حکومت میں رہنے یا پھر اسے حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کے درپے ہیں اور اس ضمن میں کسی قسم کے جھوٹ، منافقت، دغابازی اور ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے یا اپنے واحد مقصدکے لیے کسی بھی حد تک جانے سے دریغ نہیں کرتے۔ انہیں عوام کی حقیقی بہبود اور خوشحالی سے دلچسپی ہے اور نا بحثیت یاد رکھے جانے والے ایک اچھے لیڈر کے طور پر اپنی بقا سے کوئی تعلق واسطہ۔ اس پر مستزاد یہ کہ عوام کی زبوں حالی اور انتہائی ناگفتہ بہ حالات کے برعکس ان کا شاہانہ اندازِ زندگی ان کے مکارانہ روّیے کی بھرپور عکاسی ہے۔ اس پر یہ قطعاً شرم یا ندامت محسوس نہیں کرتے بلکہ انہی طور طریقون کو قائم دائم رکھنے کے لیے ان کے معاونین اور میڈیا کی ایک بکاو اکثریت پوری تن دہی سے ان کی خدمت سر انجام دیتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عوام کی زیادہ تعدادخود اپنے رویّوں میں ان سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی اور اگر انہیں موقعہ میّسر آئے تو یہ اپنے اعمال میں ان سے دو ہاتھ آگے ہو گی۔

اس بدنصیبی، لعنتی ماحول اور حد درجہ قابلِ تشویش صورتِ حال سے چھٹکارے کے لیے صرف اور صرف پہلے خود آگاہی اور پھر خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہر فرد خواہ وہ کسی عہدے پر فائز ہو یا بے روز گار ہواپنے افکار و اعمال کی کڑی جانچ پڑتال کرتے ہوئے اپنے آپ کے سامنے یا کسی کے روبروغلط کاری یا بد نیّتی کا مرتکب نہ ہو۔ راست بازی یا حق گوئی اس کے لیے پہلی شرط ہے جو باقی کے مراحل آسان کرتی ہے۔ یہ فکری یا عملی رویّہ ٹھیک نہیں ہے کہ جب جان پر بنی ہو تو حرام بھی حلال ہے۔ جان پر بنے یا بھائی جان پر بنے ہمیں کسی صورت میں بھی سچائی اور خود احتسابی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ طرزِ حیات ہم میں ایک باوقار فرد ہونے کی روح پھونکے گا جس سے ہم مجموعی طور پر قابلِ فخر قوم ہو کر سرخرُو ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *