ایک پہیہ پر )سفرنامہِ جاپان)

japanflagpicture9چو تھی قسط
جس مسجد میں میرا آنا ہوا تھا وہ جدید طرز کی ایک خوبصورت عمارت تھی۔ اس کے عقبی صحن میں لوگ کھانے پینے کی مختلف اشیاء لے کر آئے تھے۔ اذان کے وقت ہم نے معمولی افطاری کی اور نماز پڑھنے گئے۔ امام مسجد افریقی نثراد تھاجس کی قراٗ ت اور لحن میں ایک حقیقی حسن تھاجو جاذبِ سماعت تو تھا ہی مگر اپنے منبعء عقیدت کی جانب راغب کرنے کی قوّت بھی رکھتا تھا۔افسوس یہ سلسلہ جلد ہی ختم ہوگیا اور بعد میں ایک صاحب نے اردو میں واعظ کرنا شروع کیا کہ اس مسجد کی اضافی تعمیر کے لیے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ رقم دینی چاہیے، بقول اُس کے رسول اللہ کا فرمان ہے کہ جو مسجد کی تعمیر میں پیسہ دے گا، اللہ اُس کو جنت میں رہنے کے لیے محل دے گا، وغیرہ وغیرہ۔ وہ ایک غلیظ اور دھبے دار تقریر تھی۔ غلاظت طمع کی اور دھبے حقانیت کا جھانسا دیتے ہوے نام نہاد عبادت کے تھے۔
میں مسجد کے صحن میں آیا۔ وہاں بہت سے لوگ پہلے سے جمع تھے جو ایک دوسرے سے ہنس بول کر عمومی گفتگو کرتے ہوے خوردونوش کا سامان فرش پر بچھی چٹائیوں پر لگوا رہے تھے اور بے تکلّفانہ انداز میں ادھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے۔وہاں بچے بچیاں بھی تھے جو بھاگتے دوڑتے ہوے ایک اپنا رنگ جمائے ہوے تھے۔ وہاں مجموعی طور پر ایک پکنک کا سماں تھا۔ میرے نزدیک یہ معیوب یا قابلِ اعتراض نہیں ہے بلکہ ایسا ہونا چاہیے۔ کم و بیش تمام مذاہب کی عبادت گاہوں میں مردنی لیے سوگ کا سا ماحول ہوتا ہے، گویا لوگ اپنے اپنے خداؤں کی موت پر وہاں پر جمع ہوے ہوں۔ عیسائیت کے ہاں یہ رویہ کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے۔ خیال ہے کہ اسلام نے اس مذہب کے بے شمار طور و طریقے اور روایات کو بلاوجہ خود سے منسلک کیا ہوا ہے۔ مسجد کے ہال اور صحن میں بھی مجھے خواتین دکھائی نہیں دیں، ان کے لیے مسجد کے ایک علیحدہ حصّے میں انتظام کیا گیا تھا۔ اس پر بھی مجھے غور کرنے کی اسلیے ضرورت پیش آئی کہ جب حج جو اسلام کا ایک بنیادی رکن اور عبادتی معراج ہے، کہ موقع پر مردو زن باہم جمع ہوتے ہیں تو اسی ذیل میں دوسرے موقعوں پرکیوں نہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *