بدقسمت شہزادی سیتا وائٹ اور عمران خان کی کہانی..... قسط نمبر2

sita whiteبشکریہ وینیٹی فائر میگزین نیویارک

چرچ سروس میں 40یا اس سے کچھ زیادہ تعزیت کرنے والے تھے مگر ان میں سے کوئی بھی مرنے والی کارشتے دار نہ تھا۔ نہ سیتا کی ماں ، بہن اور سوتیلا بھائی اس کی آخری رسومات میں شریک ہوئے اور حتیٰ کہ نہ ہی اس کی بیٹی اور اس کی سوتیلی ماں شریک ہوئیں۔ تابوت اٹھانے والوں کی قیادت، ایک پرجوش اور خوبصورت، ارجنٹینی نژاد 41سالہ ویٹرجوہن ارسِک کر رہا تھا جس نے جون 2002ء میں سیتا سے شادی کر لی تھی، لیکن اس کی وفات کے وقت، وہ اسے طلاق دے رہا تھا۔ سیتا نے قانونی کاغذات میں دعویٰ کیا تھا کہ جوہن اس کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر تکلیف پہنچاتا تھا(تاہم جوہن اس الزام کو تسلیم کرنے سے انکارکرتاہے)۔
سیتا کی الوداعی رسومات سے دو راتیں قبل، لندن کے سرمایہ دارنکولس کیمی لیری، برطانیہ کے سابق ریس کار ڈرائیوررروپرٹ کی گان، سابق ماڈل لنگ ہزبروک اور ریئل اسٹیٹ کے سرمایہ دار علی وِنسٹن بھی بیورلے ہِلز میں مسٹر کوو کے یہاں بیٹھے شیمپئن پی رہے تھے۔ وہ پریشان تھے۔سیتا کے دوستوں میں سے ایک نے پیچیدہ الوداعی رسومات کے خاکے پر مبنی ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا، ’’کون آ رہا ہے؟‘‘ مگر کوئی بھی جواب نہ دے سکا۔
یہ سوال انتہائی گلابی چہرے والے 44سالہ کیمی لیری نے اٹھایا، جس کا اس موقع پر لہجہ حیرت انگیز حد تک تلخ تھا۔ کیمی لیری اس بات پر بر ا بھلا کہہ رہا تھا کہ سیتا کی 48سالہ بہن کیرولینا نے اس صبح دوستوں اور اہل خاندان کو یہ کہنے کیلئے بلایا تھا کہ وہ نہیں جا رہی تھی۔(جاری ہے)

بشکریہ وینیٹی فائر میگزین نیویارک

‚“œŽ¤¦ ¢¤ ¤…¤ š£Ž Ÿ¤¤   ¤¢¤Žœ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *