کیا عیسائی مسجد سے پانی نہیں پی سکتے؟

پرنیہ اعوان

purnia-awan

پاکستانی عیسائی لڑکے کی پٹائی پاکستانی عوام کے لیے کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ پاکستان عیسائیوں پر تشدد کے حوالے سے اوپن ڈور ورلڈ واچ لسٹ میں چھٹے نمبر پر ہے۔ جب اس طرح کے واقعات روزانہ دیکھنے کو ملیں تو ان کو نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں بڑھتا ہوا عدم برداشت کا رویہ بہت سے اقلیتی ممبران کی جان کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ ان لوگوں پر تشدد کرنےوالے یہ جانتے ہی نہیں کہ وہ جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ کچھ دن قبل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی جس میں ایک عیسائی لڑکے کو مسجد سے پانی پینے کے جرم میں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کیا ایک عوام سہولت سے فائدہ اٹھانے کی یہی سزا ہوتی ہے؟

کیا مسلمانوں کا عیسائی لڑکے کو صرف مسجد سے پانی پینے پر مارنا کسی بھی طریقے سے جائز کہا جا سکتا ہے؟ ویڈیو میں لڑکے کی چیخ و پکار صاف سنائی دے رہی ہے جب لوگ اسے جوتوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ عیسائی نقطہ نظر سے دیکھا جائے ملک میں اقلیتوں کی بے چینی کی اصل وجہ عام پاکستانیوں کا رویہ ہے۔ لیکن بہت سے ایسے طریقے بھی اپنا جاتے ہیں جن میں تشدد کے بغیر ہی عیسائی کمیونٹی کو مشکلات میں دھکیلا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائیوں کو تعلیم کے مواقع نہ دینا، نوکری سے محروم رکھنا، اور معاشرے میں کھل کر جینے کی آزادی سے محرومی وغیرہ۔

بہت سے لوگ ایسے ہیں جو صفائی ستھرائی کے کام کے لیے صرف عیسائی اور دوسرے غیر مسلم لوگوں کو چنتے ہیں ۔ عام طور پر صفائی کرنے والے عیسائی شہریوں کو چوڑا کہا جاتا ہے۔ عیسائی طبقہ کے ساتھ امتیازی سلوک کو سمجھنے کے لیے کلاس اور مذہب کے اثرات کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ذات پات کا امتیاز اس ملک میں کئی سالوں سے موجود ہے اور مذہبی عدم برداشت بھی دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس طرح کے منفی رویہ کی وجہ سے پاکستان میں عیسائی طبقہ کے لیے امن اور سکیورٹی کا مسئلہ گمبھیر صورتحال میں داخل ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں زبردستی شادی اور عیسائیوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنا بھی عیسائی طبقہ کے لیے بڑے اہم چیلنجز ہیں۔ اقلیتوں سے برا سلوک پاکستانی معاشرے کے چہرے پر ایک بد نما داغ ہے۔ اگرچہ دہشت گرد زیادہ مسائل پیش کر رہے ہیں لیکن عام عوام کا اقلیتوں کے ساتھ رویہ بھی اقلیتوں کے خلاف دہشت گردی سے کم نہیں ہے۔

پاکستان سے دہشت گردوں کا خاتمہ ملک کو محفوظ بنا سکتا ہے لیکن جب تک اقلیتوں کو اس قدر بُرے حالات سے دوچار رکھا جائے گا تب تک دہشت گردی کے خاتمہ کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ جب تک ان کے حقوق نہیں مانے جاتے اور انہیں دے نہیں دیے جاتے تب تک پاکستان عیسائیوں پر تشدد کا ذمہ دار ملک کہلائے گا۔ یہ ویڈیو بہت سی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سے ایک کی تصویر پیش کر رہی ہے جو پاکستان میں آئے دن واقع ہوتی ہیں۔ زیادہ تر واقعات کی ویڈیو نہیں بنائی جاتی اور نہ ہی وہ رپورٹ کیے جاتے ہیں۔

اس لیے جیسے جیسے پاکستان دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف لڑ رہا ہے اسے یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ صرف آرمی کی مداخلت سے ملک کو پر امن بنانے کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ جہاں تک ویڈیو کے صحیح یا جعلی ہونے کا ثبوت ہے تو حقیقت یہ ہے کہ بچے کو مارا گیا ہے اور ایک ہجوم نے مارا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ اسے مسجد سے پانی پینے پر مارا گیا یا کار کی بیٹری چرانے پر لیکن لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بچے کے زخموں پر سوال اٹھانے کی بجائے تھوڑی سی ہمدردی کا اظہار بہت بڑی تبدیلی کی وجہ بن سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *