انخلا کی پالیسی

پی پی پی نے سپریم کورٹ کے خلاف بالعموم اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے خلاف بالخصوص احتجاج کی صدا بلند کی ہے کیونکہ فاضل عدالت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارتی الیکشن کی تاریخ ، جو پہلے الیکشن کمیشن کی طرف سے چھ اگست مقرر کی گئی تھی، کو تبدیل کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس کا انعقا د 30 جولائی کو کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اصولی طور پر دیکھا جائے تو پی پی پی کا اعتراض بے بنیاد نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے پی پی پی کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر پی ایم ایل (ن) کی درخواست قبول کر لی تھی۔
یہ مستحسن طرزِ عمل نہیں ہے کیونکہ ملک کے موجودہ ماحول میں ہر کوئی مفاہمت کی بات کررہا تھا تو صدارتی انتخابا ت بھی اسی ماحول میں ہونے چاہیے تھے۔ اگرچہ سپریم کورٹ سے قدرے نرم دلی کی توقع تھی لیکن پی پی پی کو بھی سوچنا چاہیے تھا کہ یہ کوئی اتنا سنگین معاملہ تو تھا ہی نہیں کہ اس پر اتنا شور شرابا کیا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صدارتی انتخابات کے نتیجے کا سب کو علم تھا۔ یہ الیکشن جب بھی ہوتے ان کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ سینٹر رضا ربانی کی اس دلیل میں مطلق جان نہیں ہے کہ اُنہیں اپنی انتخابی مہم چلانے کے چھ دن کم ملے۔ جس چیز کو وہ انتخابی مہم کہہ رہے ہیں وہ صرف ایم کیو ایم اور جے یو آئی کو راضی کرنا تھا۔ اس کام کے لیے وقت کی نہیں، ان کے سیاسی مفادات کے لیے اپنے کسی نہ کسی اصول کی قربانی دینے کی ضرورت تھی۔ ایسے معمولی مسلے پر احتجاج ویسے بھی عجیب لگتا ہے کیونکہ جب پی پی پی اقتدار میں تھی تو بھی اس نے سپریم کورٹ کے ساتھ تصادم سے گریز کی پالیسی اپنائے رکھی حالانکہ کئی ایک مواقع پر فاضل عدالت کی طرف سے زرداری حکومت کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔
تاہم کچھ معاملات سپریم کورٹ کے خلاف پی پی پی کے جارحانہ رویے کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس بات کی تفہیم زیادہ مشکل نہیں اگر پی پی پی کے دو بڑے رہنماؤں، آصف زرداری اور اعتزاز احسن کے مستقبل پر غور کیا جائے۔ آصف زردرای کو ایوانِ صدر سے نکلنے کے بعد صدارتی استثنیٰ نہیں ملے گا اور ان کے خلاف کیسز کھل جائیں گے، چناچہ اُنہیں توقع ہے کہ سپریم کورٹ ان کے لیے مشکلات پیدا کر دے گی۔ اب ایڈمرل فصیح بخاری اور رحمان ملک کے ہوتے ہوئے اُنہیں نیب کی طر ف سے جوتحفظ تھاوہ ا ب ہوامیں اُڑ چکا ہے۔ چناچہ اب ان کو ضرورت ہے کہ وہ مزاحمت کی فضا تیار کرنے کے لیے اس بات کا تاثر دیں کہ ان کی جماعت کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ اس مزاحمتی پالیسی کا بگل بجانے والے کوئی اور نہیں بلکہ بیرسٹر اعتزاز احسن ہیں جنھوں نے چند سال پہلے اسی عدلیہ کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کی قیادت کی تھی۔ اعتزاز احسن کے سامنے بھی کوئی منزل نہیں تھی کیونکہ اُنہیں بھی کافی دیر سے کہیں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ اگر دیکھا جائے تو اعتزاز احسن زرداری صاحب اور افتخار چوہددری صاحب سے بیک وقت بنا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن یہ دونوں صاحب ایسا سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی ہمارے ساتھ نہیں ہے تو وہ ہمارے خلاف ہے۔ چناچہ اعتزاز کے لیے دونوں کے ساتھ نباہ کرنا مشکل تھا۔ اس لیے اس سیاسی موڑ پر اُنہیں ایک اہم فیصلہ کرنا تھا، سو اُنھوں نے کر لیاہے۔
اب اعتزاز احسن کے سامنے ایک سیاسی منزل ہے۔ اس وقت زرداری صاحب کو ان کی شدید ضرورت ہے۔ موجودہ چیف جسٹس صاحب کی مدت کا خاتمہ قریب ہے ،چناچہ اعتزاز احسن کے لیے اپنا سیاسی مستقبل بنانے کا سنہری موقع آن پہنچا ہے اور اب وہ پی پی پی کے اہم ترین رہنما بننے کی تیاری کررہے ہیں۔ اعتزاز احسن کے لیے ایک اور اچھا موقع ہے کہ کیونکہ پاکستانی سیاست کے ایک اور اہم رہنما عمران خان بھی سپریم کورٹ کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑے ہوگئے ہیں کہ عدالت کا جھکاؤ نواز لیگ کی طرف ہے۔ آنے والے دنوں میں ہو سکتا ہے ، جیسا کہ روایت رہی ہے، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیاکے شاہین فاضل عدالت اور چیف صاحب کے خلا ف ناروا زبان استعمال کریں گے۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں اگر اعتزاز نے عمران کا عدالت میں دفاع کرنے کی پیش کش کی ہے۔
اس وقت عدالت کی حکمتِ عملی کا اندازہ نہیں ہے۔ ان کی کوشش تو یہی تھی کہ وہ انتخابات کے بعد غیر جانبدار ی کا مظاہرہ کریں ۔ موجودہ حکومت کو بھی عدالت کی طرف سے دباؤ کا سامنا رہا ہے، جیسا کہ جی ایس ٹی اور کچھ سڑکوں پر رکاوٹیں ہونے کے مسلے پر۔ تاہم جب پی ایم ایل نے کچھ بیانات دینا شروع کے تو عدالت نے قدم پیچھا ہٹاتے ہوئے ایوانِ صدر پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد پھر عمران خان کا کیس کھڑا ہوگیا، ساتھ ہی فخرالدین جی ابراہیم نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ ان سب واقعات نے زرداری صاحب اور اعتزاز احسن کو موقع دیا ہے کہ وہ بھی اپنی جارحانہ حکمتِ عملی ترتیب دیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت حالات سپریم کورٹ کے حق میں نہیں ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بہت سے وکلا اور سیاسی رہنما جو چیف صاحب کی بحالی کی تحریک میں رات دن ایک کیے ہوئے تھے، اب اس کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ اس سارے معاملے کا کیا انجام ہوتا ہے، آنے والے کچھ دنوں میں ظاہر ہوجائے گا، اس وقت یہ سب انخلا کی پالیسی کی طر ح ہے ۔ یہ بات یہ دلچسی سے خالی نہیں ہے کہ آرمی چیف اور صدرِ مملکت خاموشی سے منظرِ عام سے ہٹ رہے ہیں لیکن یہ بات سپریم کورٹ کے چیف صاحب پر سچ ثابت نہیں ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *