Site icon DUNYA PAKISTAN

اسلام آباد بلدیاتی الیکشن ہارنے کے خوف میں مبتلا مسلم لیگ (نون)

Share

میڈیا کی دکھائی ’’بگ پکچر‘‘ ہی نہیں روزمرہّ زندگی کے مشاہدات کے تناظر میں بھی وفاقی حکومت کا جائزہ لیں تو وہ کامل بے بس ومجبور نظر آتی ہے۔ریاست کے دیوالیہ ہوجانے کے خوف سے بوکھلائی حکومت کو عمران خان صاحب نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے مزید الجھارکھا ہے۔

حالیہ دنوں میں تاہم کچھ ایسے اقدامات نمودار ہوئے جنہوں نے عندیہ دیا کہ اردو شاعری کے محبوب کی کمر کی طرح ’’ہے یا نہیں ہے‘‘والا سوال اٹھانے کو اکسانے والی یہ حکومت اتنی بھی کمزور نہیں ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو ریٹائرمنٹ کی عمر میں داخل ہوجانے کے باوجود ان کے عہدوں پر برقرار رکھنے کے لئے مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع فراہم کرنے کا بندوبست ہوا۔رمیز راجہ کو کرکٹ بورڈ کی سربراہی سے ہٹاکر نجم سیٹھی کو ایک بار پھر اس منصب پر سرعت سے تعینات کردیا گیا ہے۔

سرکاری اداروں میں تعیناتیاں میرے اور آپ جیسے عام شہری کا درد سر نہیں ہوتیں۔اسلام آباد کا 1975ء سے رہائشی ہوتے ہوئے مگر میرے لئے حیران کن وہ چالاکی اور پھرتی ہے جس کے ذریعے اس شہر کے بلدیاتی انتخاب ٹالنا یقینی بنایا جارہا ہے۔یاد رہے کہ مذکورہ انتخاب کے انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن 31دسمبر کی تاریخ طے کرچکا ہے۔اسلام آباد کے تمام سیکٹرز میں آپ کو ایسے بینرز کی بھرمار دِکھ رہی ہے جو متوقع انتخاب کے ضمن میں گہماگہمی کا تاثر فراہم کرتی ہے۔امیدواروں کی متاثر کن تعداد مضافات میں کہیں زیادہ متحرک ہے۔ 

بلدیاتی انتخابات کے لئے طے شدہ تاریخ سے چند ہی دن قبل مگر وفاقی حکومت کے افسر شاہی سے وابستہ نورتنوں کو اچانک دریافت ہوا کہ اسلام آباد کی آبادی تو بہت بڑھ چکی ہے۔101یونین کونسلیں اس شہر میں مؤثر مقامی حکومت کے قیام کے لئے کافی نہیں۔ان کی تعداد 125ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں جوسمری تیار ہوئی وفاقی کابینہ نے اسے فی الفور منظور کرلیا۔ الیکشن کمیشن مگر ٹس سے مس نہ ہوا۔ طویل اجلاس کے بعد حکومت کو یاد دلانے کو مجبور ہوا کہ 31دسمبر کے دن بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ان سے مفر اب ممکن نہیں رہا۔

دریں اثناء یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی زیر غور آیا۔ الیکشن کمیشن کو حکم ملا کہ وہ بلدیاتی انتخاب سے متعلق تمام شراکت داروں سے گفت وشنید کے بعد اپنا ذہن بنائے۔ الیکشن کمیشن سے مطلوب مشاورت سے قبل ہی مگر ایک قانون تیار ہوگیا۔قومی اسمبلی میں اسے کورم کے تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بل ڈوز کروادیا گیا۔توقع تھی کہ مذکورہ قانون کو سینٹ سے منظور کروانے میں دشواریوں کا سامنا ہوگا۔ تحریک انصاف ایوان بالا میں عددی اعتبار سے بہت طاقت ور ہے۔اپنی قوت سے وہ قومی اسمبلی سے منظور ہوئے قانون کی تصدیق میں دیر لگانے کو سو ہتھکنڈے استعمال کرسکتی تھی۔تحریک انصاف کی صفوں سے ایوان صدر پہنچے عارف علوی نے غالباََ یہ ہدف نگاہ میں رکھتے ہوئے سینٹ کا اجلاس طلب کرنے کی سمری پر دستخط کرنے میں لیت ولال سے کام لیا۔حکومتی سینیٹروں نے مگر نہایت ہوشیاری سے ایک اور حربہ استعمال کرتے ہوئے سینٹ چیئرمین کو یہ اجلاس طلب کرنے کو مجبور کردیا۔ اس اجلاس کی صدارت یقینی بنانے کے لئے وہ ’’ہنگامی‘‘ طورپر اسلام آباد بھی پہنچ گئے۔ بالآخر اجلاس ہوا اور قومی اسمبلی سے منظور ہوئے قانون پر انگوٹھے لگادئے گئے۔آئینی اعتبار سے اب اسلام آباد کے لئے125یونین کونسلوں کا قیام لازمی نظر آرہا ہے۔اس سے زیادہ کاری مگر وہ ترمیم ہے جو اسلام آباد کو پاکستان کا وہ پہلا اور فی الوقت واحد شہر بنادے گی جس کا میئر براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہوگا۔براہ راست منتخب ہوئے میئر کے اختیارات میں مزید کیا اضافہ ہوا ہے اس کی بابت پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے ریکارڈ بناتی عجلت کے ساتھ منظور ہوا قانون البتہ خاموش ہے۔

مذکورہ قانون کا اطلاق مگر الیکشن کمیشن کے ہاتھ اب باندھ سکتا ہے۔بلدیاتی انتخاب کو طے شدہ تاریخ کے دن منعقد کروانے میں اسے قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنے پڑے گا۔31دسمبر کے دن طے ہوئے بلدیاتی انتخابات اگر ’’آئینی اور قانونی‘‘وجوہات کے نام پر ٹل بھی گئے تو اسلام آباد کے شہریوں کو سیاسی اعتبار سے فقط ایک ہی پیغام ملے گا اور وہ یہ کہ مسلم لیگ (نون) انتخابی میدان میں تحریک انصاف کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہی۔اپنی شکست کے خوف سے راہ فرار ڈھونڈنے کے لئے بھونڈے ہتھکنڈے اختیار کرنے کو مجبور ہوئی۔کمزور ترین سیاسی جماعت بھی اپنے بارے میں انتخابی میدان سے بھاگنے والا تاثر پھیلانے سے ہر صورت گریز کرتی ہے۔مسلم لیگ (نون) مگر اس تاثر کے بارے میں ان دنوں قطعاََ لاتعلق ہوچکی ہے۔وزیر اعظم اور ان کے مسلم لیگ (نون) سے تعلق رکھنے والے وزراء کا رویہ بلکہ انہیں ’’ٹینکوکریٹس‘‘ پر مبنی ’’عبوری حکومت‘‘ کی صورت اجاگر کررہا ہے۔وہ اس کے بارے میں لیکن ہرگز پریشان نظر نہیں آرہے۔

خالص سیاسی ذہن کے ساتھ سوچیں تو تحریک انصاف اگر 31دسمبر کے دن ہوئے بلدیاتی انتخابات کی بدولت مسلم لیگ (نون) کو پچھاڑتی نظر آتی تو ضرورت سے زیادہ حیرت کا سبب نہ ہوتی۔2018ء کے انتخابات کے دوران اس شہر کے لئے مختص قومی اسمبلی کی تینوں نشستوں سے تحریک انصا ف کے امیدار جیت گئے تھے۔ ہارنیوالوں میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی شامل تھے۔ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی فتح بنیادی طورپر یہ پیغام ہی دیتی کہ اقتدار سے فراغت کے باوجودہ یہ جماعت اسلام آباد میں اب بھی مقبول ہے۔

اسلام آباد کی مقامی حکومت کو ’’منتخب‘‘ ہونے کے باوجود کماحقہ اختیارات میسر نہیں ہیں۔ نواز حکومت کے دوران ہوئے انتخابات کی بدولت اسلام آباد کا منتخب ہوا میئر مسلم لیگ (نون) کا نامزد کردہ تھا۔تحریک انصاف کی حکومت کے دوران مگر کماحقہ فنڈز اور اختیارات نہ ہونے کے سبب وہ کوئی ’’جلوہ‘‘ دکھانہیں پایا۔اسلام آباد کے شہری سی ڈی اے کے افسروں کے محتاج ہی رہے۔ مضافات میں بنیادی شہری سہولتوں کا فقدان بلکہ خوفناک حدوں کو چھونا شروع ہوگیا ہے۔’’پرانے‘‘ قانون کے تحت 31دسمبر کے دن ہوئے بلدیاتی انتخابا ت کے نتیجے میں قائم ہوئی تحریک انصاف کی ’’مقامی حکومت‘‘ بھی نواز لیگ کی سربراہی میں چلائی وفاقی حکومت کی وجہ سے بے اختیار اور فروعی ہی محسوس ہوتی ۔ افسر شاہی کے نورتن مگر اس ٹھوس سیاسی حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام رہے۔مسلم لیگ (نون) کو شکست کے خوف میں مبتلا ہوکر انتخابی میدان سے بھاگتے ہوئے دکھادیا ہے۔

Exit mobile version