نا اہلی، بد قسمتی یا نحوست

yasir-pirzada-1

یہ ہماری بد قسمتی ہے یا نا اہلی ......یا پھر کوئی نحوست ہے جو اس ملک پر طاری ہے ؟
یہ درست ہے کہ دنیا بھر میں حادثات ہوتے ہیں، طیارے تباہ ہو جاتے ہیں، ٹرینیں الٹ جاتی ہیں، ہوٹل میں آگ لگ جاتی ہے، فیکٹری میں کام کرتے ہوئے مزدور مر جاتے ہیں، سڑک پر ایکسیڈنٹ ہوجاتے ہیں مگر ایک ہی ملک میں ایک دو ماہ کے دوران ہی یہ سب کچھ نہیں ہو جاتا۔ یکم نومبر کو گڈانی میں شپ بریکینگ یارڈ میں ایک گیس سلینڈر میں دھماکہ ہوا اور وہاں کام کرتے ہوئے 19مزدور جاں بحق جبکہ 59زخمی ہو گئے ، دو نومبر کو کراچی کے لانڈھی ریلوے اسٹیشن پر دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں نتیجے میں 22لوگ مارے گئے اور 40کے قریب زخمی ہو گئے، 17 اکتوبر کو خان پور کے قریب دو بسیں آپس میں ٹکرا گئیں اِس حادثے میں 27افراد ہلاک اور 60زخمی ہوئے، 5دسمبر کو کراچی کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے سے 12افراد ہلاک اور پچھتر کے قریب زخمی ہوئے اور چار روز قبل 7دسمبر کو پی آئی اے کا طیارہ چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے تباہ ہو گیا جس میں جنید جمشید، ڈی سی چترال اسامہ وڑائچ اور دو شیر خوار بچوں سمیت 47افراد جاں بحق ہوگئے ۔
یہ تمام حادثات گزشتہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ہوئے ، چھوٹے موٹے حادثات، دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اس کے علاوہ ہیں۔
کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے ناصر کاظمی نے غلط کہا تھا، ہمارے گھر کی دیواروں پر اداسی نہیں بلکہ نحوست بال کھولے سو رہی ہے، پھر خیال آتا ہے کہ 18کروڑ مسلمانوں کا یہ ملک ہے سو نحوست کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہاں بد قسمتی کہہ لیجئے لیکن بد قسمتی کا فارمولا تو بلا تفریق ہر ملک پر لاگو ہوتا ہے، یورپ اور امریکہ میں بد قسمت حادثات کی یہ شرح کیوں نہیں ہے؟ تو کیا سار ی بد قسمتی ہماری ہی قسمت میں لکھ دی گئی ہے! ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، نا اہلی، نا لائقی اور لا پروائی کے علاوہ اسے کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ یورپ امریکہ کو چھوڑیں، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائشیا جیسے ممالک میں بھی اگر آپ جائیں تو کم و بیش ہر عمارت میں آپ کو Exitکا نشان نظر آئے گا، ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کا راستہ بتایا گیا ہو گا، آگ بجھانے کے آلات نصب نظر آئیں گے، سڑکوں پر لوگ ہیلمٹ پہن کر موٹر سائیکل پر سفر کرتے دکھائی دیں گے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ان کی خلاف ورزی کرتا ہوا اچانک سامنےسے آ جائے۔ کل رات ہی کی بات ہے، موٹر وے جیسی شاہراہ پر میں جارہا تھا کہ اچانک ایک ٹریکٹر ٹرالی پوری رفتار سے سامنے سے آتی دکھائی دی، بمشکل میں نے گاڑی بچائی، واضح رہے کہ سڑک ون وے تھی اور دھند شروع ہو چکی تھی، ہم میں سے ہر کسی کے ساتھ یہ بار ہا ہو چکا ہے اور آئندہ بھی ہوگا، اگر خدا نخواستہ کسی کا یوں حادثہ ہو جائے تو کیااسے بدقسمتی یا نحوست کہا جائے گا؟
نا اہلی کا یہ مقام حاصل کرنے کے لئے بطور قوم ہم نے کئی دہائیوں تک محنت کی ہے تب کہیں جا کر قدرت نے یہ حادثات ہماری قسمت میں لکھے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ بلکہ کم ترقی یافتہ ممالک میں بھی حفاظتی طریقہ کار (SoPs) یعنی Standard Procedures Operatingپر عمل کیا جاتا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتا ہی برداشت نہیں کی جاتی، یہ اُن کی تربیت کا حصہ ہے، چھوٹا سا بچہ بھی جب سائیکل چلانے کے لئے باہر نکلتا ہے تو اُس نے ہیلمٹ پہن رکھا ہوتا ہے۔ اپنے یہاں اگر صرف موٹر سائیکل ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کی تفصیل معلوم کی جائے تو پتہ چلے گا کہ زیادہ تر محض اپنی کسی غلطی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
روزانہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سڑکوں پر جاتے ہیں، ننھے ننھے بچوں اور عورتوں کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر پوری تیز رفتاری سے غلط لین میں چلتے ہیں، اشاروں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ایسے میں اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو جان لیوا ہی ثابت ہوتا ہے۔
بات محض ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنے کی نہیں، بات ہمارے مزاج کی ہے، نظم و ضبط اور محنت اب ہمارے عمومی مزاج کا حصہ نہیں رہا، ہر شعبے کو بہترین طریقے سے چلانے کے لئے عالمی ماہرین نے مخصو ص طریقہ کار طے کر رکھا ہے، اگر ہم اُ ن SoPsعمل نہیں کرتے تو پھر ایسے ہی حادثات رونما ہوتے ہیں جو ہم آئے روز خبروں میں دیکھتے ہیں، ایک مقامی ہوٹل میں لگنے والی آگ اسی نااہلی کا شاخسانہ تھی۔ ہوٹل میں ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کا کوئی پلان نہیں تھا، آگ بجھانے والے حالات نہیں تھے اور اگر ہوتے تو بھی شاید ہی کسی کو اُن کا درست استعمال آتا، ریسکیو کی ٹیمیں پہنچ بھی گئیں تو انہیں علم ہی نہیں تھا کہ کیسے ہوٹل میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنا ہے، مناسب بندو بست اُن کے پاس بھی نہیں تھا، اور یہ سب کچھ پاکستان کے سب سے بڑے میٹرو پولیٹن شہر کے ایک چمکتے دمکتے ہوٹل میں ہوا، بلوچستان کے گڈانی ساحل پر مزدوروں کے ساتھ کیا بیتی اس کا احوال تو خدا ہی جانتا ہے۔
دنیا بھر میں روزانہ ایک لاکھ سے بھی زیادہ طیارے اڑان بھرتے ہیں، گویا سال بھر میں تقریباً37ملین پروازیں دنیا کے مختلف ہوائی اڈوں سے اُڑتی ہیں اور اپنی منزل تک پہنچتی ہیں، اس لحاظ سے ہوائی سفر بے حد محفوظ سمجھا جاتا ہے، جدید طیارے اب شدید موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں بلکہ انہیں فضائی کمپنیوں کے حوالے کرنے سے پہلے ہر قسم کے ٹیسٹ سے گزارا جاتاہے اور اس مقصد کے لئے مخصوص پائلٹس کو اضافی تنخواہ بھی دی جاتی ہے، انہیں ہنگامی لینڈنگ کروانے کی تربیت دی جاتی ہے،مگر ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود حادثے رونما ہوجاتے ہیں۔
کسی بھی ایسے حادثے میں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ یہ پائلٹ کی غلطی سے ہوا، موسم کی شدت وجہ بنی، جہاز کی تکنیکی خرابی تھی یا پھر کوئی دہشت گردی۔ Nate Silver ایک امریکی ماہر ہے جو نیویارک ٹائمز کے لئے لکھتا ہے، اس نے Aviation Safety Network کا ڈیٹا بیس کھنگالا اور 1985 سے لے کر 2014تک نہ صرف فضائی حادثات بلکہ ان واقعات کی بھی تحقیق کی جن میں طیارے حادثے سے بال بال بچے ، نتیجے میں دو ’’ہائی رسک ‘ ‘ ائیر لائنز کے نام سامنے آئے ، ایک ایتھوپین ائیر لائن اور دوسری ......خود اندازہ لگا لیں ! اسے بدقسمتی کہیں گے ، نا اہلی .......یا پھر نحوست ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *