خواجہ سرا ، مولوی ،لبرل اور شریعت !(پہلا حصہ)

naeem-baloch1

'' کیا حساب ہو گا کسی خواجہ سرا کا؟ اسے ملا ہی کیا ہے ! '' خاص قسم کے لبرل نے اپنے کولیگ مولوی صاحب کو اپنی طرف سے سے دھوبی پٹکا دیتے ہو ئے کہا ۔
مولوی صاحب نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے کہا :''اس کا مطلب ہے انسان کو بلوغت سے پہلے کوئی نعمت حاصل نہیں ہوتی ؟'' ایک توقف کے بعد اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے بولے :''خواجہ سر ا ہونا بس اسی قسم کی محرومی ہے جس طرح کوئی انسان آنکھوں سے محروم ہو ، جیسے کوئی پاؤں سے محروم ہوں ، جیسے کسی کوئی ۔۔۔۔۔''
بات کاٹ کر وہ لبرل صاحب بولے : صرف کہنے کی باتیں ، آپ لوگ ان کو اگر اسی طرح کا محتاج سمجھتے تو ان پر حج پر پابندی نہ لگاتے ، ۔۔۔کیا کسی اندھے ، لنگڑے، لولے پر پابندی لگی ہے ؟
اب حسب توفیق سب گفتگو میں حصہ ڈالنے کے لےے تیار تھے:''بھئی پابندی تو محرم کے بغیر عورت پر بھی ہے، کیا محرم کے بغیر وہ کوئی خواجہ سرا بن جاتی ہے ! ویسے خیر تو ہے آپ جیسے لبرل کو کیسے دل چسپی ہوئی کسی کے حج کرنے یا نہ کرنے پر ؟ آپ محض مولوی صاحب کو زچ کرنا چاہ رہے ہیں ! ورنہ آپ بھی خواجہ سرا کو عام آدمی سمجھتے تو پچھلے دنوںبدمعاش کے ہاتھوں پٹنے والے خواجہ سرا کی ''خصوصی '' مظلومیت کا رونا نہ روتے ! ''یہ بات ایک دوسری قسم کے لبرل صاحب نے کی تھی ، جن کا المیہ یہ تھا کہ ان کو لبرل ، لبرل نہیں مانتے تھے اور نام نہاد غیرت برگیڈ والے ان کے مذہبی نظریات سے سخت بیزار تھے۔ان کا نام بعض یار دوستوں نے لبرل مولوی رکھ چھوڑا تھا۔
لبرل صاحب بولے : ''صرف مظلومیت کی وجہ سے ،معاشرے کے بری طرح نظراندازہونے والے طبقے کے طور پر !''
لبرل مولوی صاحب بولے: اچھی بات ہے لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ سعودی عرب نے خواجہ سرا پر حج عمرہ پر پابندی لگنے والی خبر کی تردید کر دی ہے ۔کیونکہ اسی سعودی حکومت ہی دور میں مسجد نبوی اور خانہ کعبہ ، دونوں مقدس مقامات پر خواجہ سرا خدام کی ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں ۔ ''
'' چلیں اچھی بات ہے ، لیکن اصل مسئلہ تو ان کے تشخص کا ہے !اب دیکھیں نا ، ان خواجہ سرا بیچاروں کا تو جنازہ بھی نہیں پڑھا جا سکتا ، کیونکہ عربی میں مذکر اور موئنث کے اظہار کے لےے تو الفاظ ہیں ، تیسری جنس کے لیےالفاظ ہی نہیں ہیں ، یعنی جنازے کی دعا میں مرد کے لےے الفاظ آئیں گے؛ اے اللہ اس شخص کو معاف فرما دے (اللہم مغفرہ )یا اس عورت کی مغفرت فرما دیں ، یعنی(اللہم مغفرہا )لیکن تیسری جنس یعنی ( Transgender ) کے لیے تو نہ کوئی اسم ہے نہ اسمِ ضمیر ( pronoun ) ہے اور نہ کوئی اسلوب ، اس لےے ان کا جنازہ بے چارے مولوی صاحبان کیسے پڑھائیں ؟ ''خاص قسم کے لبرل صاحب نے اپنی طرف سے حتمی تحقیق پیش کی ۔
لیکن لبرل مولوی صاحب نے انھیں آڑے ہاتھوں لیا : '' آپ کا یہ اعتراض بھی قلت علم اور قلت تدبر کا نتیجہ ہے ۔جس طرح 'انسان' کا لفظ مذکر موئنث دونوں کے لیے آتا ہے ، اسی طرح عربی میں ''عبد '' یعنی بندے کا لفظ بھی مذکر موئنث اور تیسری جنس ، سب کے لیے یکساں طور پر استعمال ہو سکتا ہے، یعنی ان کے لیے کہا جا سکتا ہے کہ اے اللہ اس بندے کو معاف فرما دے اور اسم اشارہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، عربی میں یہ کہا بھی جاتا ہے کہ (اللہم مغفر ہذاالمیت )یعنی اے اللہ اس میت کو معاف فرما دے ، اس لےے یہ بالکل غلط بات ہے کہ تیسری جنس کے لیے جنازہ نہیں پڑھا یا جا سکتا ۔'' محفل پر کچھ لمحوں کے لےے گمبھیر سی خاموشی چھائی تو مولوی صاحب بولے :
''آپ تشخص کے چکر میں کیوں پڑتے ہیں ! کیوں نہیں جن خواجہ سرا میں مردوں کی خصوصیت زیادہ ہیں یا جو کوئی مرد کے طور اپنا تعارف کرانا چاہتے ہیں ، ان کو مرد قرار دیں اور بطور مرد ہی ان کا شناختی کارڈ بنے اور جو کوئی خواجہ سرا عورت کی طرح ہے ، یا عورت کی '' روح '' کا دعوے دار ہے ، وہ اپنا حلیہ عورت ہی کارکھے اور اسی لحاظ سے ان کی رجسٹریشن کرائیں ۔ انھیں کوئی تیسری مخلوق قرار دے کر معاشرے میں اجنبی نہ بنائیں ، یوں وہ ان تمام نفسیاتی مسائل سے دو چار ہی نہیں ہوں گے ، جن کا شکار وہ عام طور پر ہوتے ہیں !''
لبرل مولوی صاحب بولے :'' بہت اچھی تجویز ہے،بلکہ آئیڈیل ہے لیکن اس کے لےے معاشرے کی بڑی اچھی تربیت ہونی چاہےے جو کہ بدقسمتی سے نہیں ہوئی ، اسی لےے معاشرے کا رویہ ان کے لےے انتہائی افسوس ناک اور شرم ناک ہے ۔ عام تو کیا پڑھے لکھے لوگ بھی جہالت کہ وجہ سے انھیں ایک خاص کام کا اہل سمجھتے ہیں ، مذہبی لوگ انھیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ناچ گانے کا یہ کام انھوں نے اپنی پسند سے نہیں اختیار نہیں بلکہ انھیں اس کام پر مجبور کیا گیا ہے ۔ لیکن افسوس ان کو حقوق دلوانے اور ان کی عزت نفس بحال کرنے میں مدد کرنے کے بجائے انہیں معاشرے کا اچھوت بنا دیا گیا ۔اور اس جرم میں حکومت کے ساتھ ساتھ مذہبی طبقہ بھی شامل ہے ۔ اسی لیے آج تک کسی مسجد میں انھیں گھسنے نہیں دیا گیا ، وہ سینما جا سکتے ہیں ، شادی کی تقریب پر رونق افروز ہو سکتے ہیں ، بازاروں اور چوکوں میں خجل خراب ہو سکتے ہیں لیکن مسجد میں ۔۔۔ لاحول ولا قوہ! ان پر فتویٰ کی گولی تو داغی گئی لیکن ہمدردی کا کوئی مرہم نہیں رکھا گیا ۔''
مولوی صاحب بولے: '' سنا تھا کہ مشہور تبلیغی مولانا طارق جمیل نے بعض خواجہ سرا کو دینی تعلیم دی تھی لیکن پھر معاملہ آگے بڑھا یا نہیں کچھ معلوم نہیں ! ''
لبرل صاحب بولے : '' آگے تو تب بڑھتا جب ان کو خواب میں کوئی ' بشارت ' دیتا، اب یہ خواجہ سرا کب سے ان کے نزدیک اتنے اہم ہو گئے ان کے لےے کسی مولانا صاحب کو خواب بھی آنے لگیں ! ''
'' چلیں انھوں نے آغاز تو کیا اس کام کا ، آپ بحث کو ڈی ٹریک نہ کریں ۔۔۔ ' لبرل مولوی صاحب نے انھیں ٹوکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:'' میں کہہ رہا تھا کہ تشخص کو چھپانا اس لیے بھی مشکل ہے کہ یہ لوگ اپنے مخصوص رویے کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں ، تب انھیں مشکل پیش آتی ہے ، اس صورت میں اگر وہ لڑکوں کے سکول میں ہوں گے تو خاص طور پر انھیں نازک مسائل کا سامنا ہو گا ۔اس لےے میرا خیال ہے کہ جس طرح ساری دنیا میں سپیشل بچوں کے ادارے ہیں ، ان کے لیے بھی ہمارے ملک میں ترقی یافتہ معاشروں کی طرح علیحدہ ادارے ہونے چاہییں، اگر ایسا ہوجائے تو پھر والدین بھی ان کے ساتھ وہ غیر انسانی سلوک نہیں کریں گے جو انھیں گھر سے نکال کر کیا جاتا ہے ۔''
اس موقع پر مولوی صاحب قدرے تلخ سے لہجے میں بولے :'' مجھے آپ سے سخت اختلاف ہے ، ان کا کوئی علیحدہ تشخص نہیں ہونا چاہےے ، جو والدین جاہل یا کم تعلیم یافتہ یا با شعور نہیں ، وہی اپنے سلوک اور روےے سے معاشرے کو بتاتے ہیں کہ ان کا بچہ خواجہ سرا ہے ، ورنہ اگر ان کی مناسب تربیت ، علاج اور کونسلنگ کی جائے تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو سکتا !''
''یہ آپ اتنے دعوے کے کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ '' لبرل صاحب نے پوچھا ۔
'' اسلیے کہ میں خود ایک خواجہ سرا ہوں '' مولوی صاحب نے دھماکا خیز انکشاف کر دیا !( جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *