خدا ہی حافظ!

عطاء الحق قاسمیA_U_Qasmi_converted

’’السلام علیکم بھائی جان! میں لاہور سے انور بول رہا ہوں‘‘
’’شکر ہے یار تمہاری آواز سنائی دی مگر آواز بہت کم آ رہی ہے، ذرا اونچا بولو‘‘
’’بھائی جان! شکر کریں فون مل گیا ہے۔ میںتو دوگھنٹے سے ٹرائی کر رہا تھا بس آگے سے ٹیپ چلتی تھی۔ بچوں کا کیا حال ہے؟‘‘
’’سب ٹھیک ہے۔ تم سنائو۔ گھر میں سب خیریت سے ہیں؟‘‘
’’جی اللہ کا شکر ہے۔ پشاور کاموسم کیسا ہے؟‘‘
’’اچھا ہے۔ لاہور کا کیسا جارہا ہے؟‘‘
’’لاہور میں بھی یہی حال ہے سنا ہے عذرا باجی سخت بیمار ہیں۔ایک تو ان کے پاس موبائل فون نہیں ہے اور گھر کا فون خراب رہتا ہے دوسرے مجھے خط لکھنے کا وقت نہیں ملتا۔ آپ ان کی طرف جائیں تو میری طرف سے بھی پوچھ لیں۔‘‘
’’میں تو خود ایک مہینے سے ان کی طرف نہیں جاسکا۔ وقت ہی نہیں ملتا۔ویسے شہباز آیا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ پہلے سے بہتر ہیں۔بڑا ترس آتا ہے۔ان پر میری اس بہن نےساری عمر دکھ اورپریشانی ہی میں گزاردی۔‘‘
’’سنا ہے وہ مالی طور پر بھی پریشان ہیں؟‘‘
’’ہاں میں نے بھی سنا ہے،جی چاہتا ہے ان کی مدد کرنے کو، لیکن میں ان دنوں مکان بنارہا ہوں ابھی تک 2کروڑ لگ گئے ہیں مگر یہ مکمل ہونے میں ہی نہیں آ رہا۔ ویسے میں نےشہبازکو لکھا تھا کہ دوائیوں وغیرہ کی ضرورت ہو تو وہ سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر رانا سے مل لے وہ میرا بچپن کا دوست ہے۔ میں نے شہباز کو اپنا وزیٹنگ کارڈ بھجوا دیا تھا۔‘‘
’’چلیں یہ تو آپ نےبہت ا چھا کیا۔ وہ اپنا کٹو ہے نا؟‘‘
’’کون کٹو؟‘‘
’’تایا جی اعجاز کا نواسہ۔‘‘
’’ہاں ہاں کیا ہوا اسے؟‘‘
’’پولیس اسے جوئے کے الزام میںپکڑ کر لے گئی!‘‘
’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ وہ تو بہت اچھا بچہ ہے۔‘‘
’’ہاںمیں جانتا ہوں۔ رضیہ آپی روتی ہوئی آئی تھیں۔ تایا ابو بھی آئےتھے کہ اس کے لئے کچھ کرو۔ وہ بالکل بیگناہ ہے۔‘‘
’’پھرتم نےکیا کیا؟‘‘
’’بھائی جان میں کیا کرسکتا ہوں۔ اس پر الزام ہی ایسا ہے کہ کسی کو کچھ کہتے ہوئے شرم آتی ہے اور پھرویسے بھی آج کے زمانے میں کسی کی نیک چلنی کی گواہی کیسے دی جاسکتی ہے کل کو میں جو سب کے سامنے شرمندہ ہوں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ اس معاملے میں آیا ہی نہ جائے چنانچہ میں نے رضیہ آپی اور تایاابو کوٹرخا دیا تھا۔‘‘
’’اچھا کیا! کبھی ارشادسے توملاقات نہیںہوئی؟‘‘
’’کون ارشاد؟‘‘
’’بھئی! وہ جو میرا بچپن کا دوست ہے۔ کیا اس نےتمہاری طرف آنا جانا چھوڑ دیا ہے؟‘‘
’’اچھا ارشاد، بھائی جان اس بیچارے کوفوت ہوئے تو ایک سال گزر چکا ہے۔‘‘
’’اوہو! بہت افسوس ہوا۔ تم جنازے میںگئے تھے؟‘‘
’’جانا تھا مگر جب میں گھر سے نکل رہا تھا کچھ کاروباری دوست آگئے۔ بہت اچھا آدمی تھا۔ اللہ اس کی مغفرت کرے۔ جب بھی آتا ہمیشہ آپ کی باتیں کرتا۔ آپ سے وہ محبت کرتا تھا۔‘‘
’’مجھے خود اس سے بہت محبت تھی۔ کبھی اس کےگھر جانا ہو تو میری طرف سے بھابی سے افسوس ضرور کرنا ا ور سیاست کا کیا حال ہے؟‘‘
’’آپ کے سامنے ہی ہے۔ عالم اسلام پر بہت برا وقت آیا ہوا ہے۔ بھائی بھائی سے لڑ رہا ہے اور دشمنوں کو چوہدری بننے کا موقع مل رہا ہے۔‘‘
’’بس یار دعا کرو اللہ حالات بہتر کرے اس سے کاروبار پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔‘‘
’’جی ہاں۔ پہلے سے آدھا رہ گیا ہے یہ۔ آپ کی آواز بہت کم آ رہی ہے۔‘‘
’’میں توخاصا اونچا بول رہا ہوں ویسے آواز تمہاری بھی مدھم ہے۔‘‘
’’ہیلو!‘‘
’’ہیلو، ہیلو!‘‘
’’ہیلو.... ہاں اب کچھ بہتر ہے، آپ لاہور آ رہے ہیں؟‘‘
’’میں پچھلے ہفتے چندگھنٹوں کے لئے آیا تھا کچھ ضروری کام تھا مگر تم سے ملاقات نہ ہوسکی۔ ایک تو تم نے گھر بہت دور بنایا ہے اوپر سے تم نے تھرڈ کلاس سا فون رکھا ہوا ہے بہت فون کئے سوچا تھا کہ چلو فون پر ہی بات کرلوں مگر تمہارے فون سے ٹوںٹوں کی آواز آتی رہی۔ ہیلو۔یہ پھر گڑبڑ شروع ہوگئی ہے۔‘‘
’’بھائی جان! موبائل کمپنیوں والے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اور اوپر سے سروس بھی اچھی نہیں دیتے۔ مجھے تو ایسے لگ رہا ہے جیسے پرانے زمانے میں گھریلو فون پر لانگ ڈسٹنس کال کر رہا ہوں!‘‘
’’بھائی کو بھائی کو آواز سنائی نہیں دیتی، مگر یہ خرابی صرف فون میں نہیں اس ’’لانگ ڈسٹنس‘‘ میں بھی ہے جو مادہ پرستی نے رشتوں کے درمیان پیدا کردیا ہے کیونکہ تمہیں تو ایک شہر میں رہنے والے عزیزوں کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔‘‘
’’یہ کون گدھا درمیان میں آگیا ہے؟‘‘
’’چلو دفع کرو اسے تم اپنے بچوں کی تازہ تصویریں تو مجھے بھیجو، بہت یادآتے ہیں۔‘‘
’’وہ بھی آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔‘‘
’’تم دونوں جھوٹ بولتے ہو، تم لوگوں کو اپنے علاوہ کچھ یاد نہیں۔‘‘
’’یہ کوئی بہت ہی لعنتی شخص ہے۔ اچھا بھائی جان پھر بات ہوگی!‘‘
’’خدا حافظ‘‘
’’خدا حافظ‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *