اوباما نے قیدیوں کو اذیت دینے کی ابوغریب سے بھی بدتر 2100تصاویر قبضے میں لے لیں

tortureاوباما انتظامیہ کو اس بات کی وضاحت کرنے کیلئے دسمبر تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے کہ اس نے امریکی فوج کی جانب سے عراق اور افغانستان میں قیدیوں کو دی جانے والی اذیت سے متعلق 2000سے زائد تصاویر اپنے قبضے میں کیوں لے رکھی ہیں۔
ایک وفاقی جج نے امریکی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک ایک تصویرکے حوالے سے الگ الگ وضاحت کرے کہ اسے عوام سے پوشیدہ کیوں رکھا گیا ہے؟
2004ء میں جورج ڈبلیو بش کے زمانے میں عراق کی بدنام زمانہ ابوغریب جیل کے قیدیوں کی نقاب میں گُم، برہنہ اور تشدد زدہ تصویریں منظر عام پر آئیں جن کے نتیجے میں عالمی سطح پر امریکی فوج کے مظالم کے خلاف غم و غصے کی ایک لہر پیداہوئی۔حالیہ2100 تصاویر جو صدر اوباما نے عوام کے سامنے لانے سے روک رکھی ہیں، ان تصویروں سے بھی بڑھ کر، اذیت اور بے عزتی کی بڑی مثالیں ثابت ہو سکتی ہیں۔ امید ہے کہ آئندہ 2سے3ماہ کے دوران عدالت کے حکم پر اوباما انتظامیہ کو ان تصاویر کو منظر عام پر لانا ہی پڑے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *