تاریخ ڈھارس بندھاتی ہے

ایازا میرAyaz Amir

فلورنٹائن ریپبلک میں میکاولی 1498 سے لے کر 1512تک سیکنڈ چانسلری کا سیکرٹری رہا۔ اُسی سال میڈیسی خاندان اقتدار میں آگیا اور میکاولی کو عہدے سے برخاست کردیا گیا۔ اس پر میکاولی اپنے فارم پر رہنے کے لئے چلا گیا۔ وہ بہت صبح سویرے اٹھتا اور دیکھتا کہ لکڑ ہارے کس طرح کام کررہے ہیں۔ وہ چہل قدمی کرتے ہوئے اپنی پسندیدہ مصنفین کو پڑھتا اور اپنے معاشقوںکو یاد کر کے دل بہلاتا۔ وہ وقت گزارنے کے لئے مقامی سرائے میں جاکے مسافروں سے باتیں کرتا اور ڈائس کھیلتا۔ جب شام ہوتی...یہاں بہتر ہے کہ اس کے اپنے الفاظ کا حوالہ دیا جائے جو اُس نے اپنے ایک دوست کو خط میں لکھے تھے...’’میں اپنے گھر لوٹتاہوں اور اپنے مطالعہ کے کمرے میں داخل ہوتا ہوں۔ میں دھول اور گرد میں اٹا ہوا اپنا کام کا لباس اتارکر شاہی دربار کے کپڑے زیب تن کرتا ہوں۔ یہ لباس پہن کر میں قابل ِ احترام قدیم درباروں میں جاتا ہوں جہاں شہنشاہ میرا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں۔ میں وہ کھانا کھاتا ہوں جو صرف میرے لئے تیارکیا گیا ہوتا ہے۔ میں ان کی گفتگو سے استفادہ کرتاہوں اور اُسے ضبط ِ تحریر میں لاتاہوں...‘‘یہ تحریر تاریخ کی بااثر ترین کتابوں میںسے ایک ہے...’’دی پرنس‘‘۔ کیا زبردست تصور ہے ! دن کوکھیتوں اور سرائوں میں گھومنا پھرنا اور رات کوقدیم شہنشاہوں کی روحوں سے ملاقات کرنا۔
میں اسی طرح کی تحریک بالکل مختلف انداز میں محسوس کرتا ہوں۔ 1813میںLeipzig کی جنگ میں، جس میں نپولین کو شکست ہوئی تھی...یہ اُس کی ماسکو سے واپسی کے بعد کی بات ہے...فرانسیسی اور روسی افواج کے درمیان ایک گائوں ، گوسا کے نزدیک خطرناک جنگ ہوئی۔ فن لینڈ گارڈزکی تیسری بٹالین میں لیونٹی کرونی نامی ایک سپاہی تھا جس نے خود کو ہتھیاروںسے سجا رکھا تھا۔ فرانسیسی فوج کے شدید حملے کے سامنے اس کی رجمنٹ کے افسران تاب نہ لاسکے۔ کرونی نے فرانسیسی حملے کو روکے رکھا اور اپنے افسران کو فرار ہونے کا موقع دیا۔ وہ گرفتار ہوا او ر نپولین کے سامنے پیش کیا گیا۔ نپولین نے اُس کی بہادری کی تعریف کی اور اُ سے یقین دلایا کہ اُ س کے ساتھ اچھاسلوک کیا جائے گا۔ جنگ کے خاتمے پر وہ پھر اپنے رجمنٹ کے ساتھ تھا۔ کرونی کی بہادری کے چرچے 1917 تک فن لینڈ گارڈز کی بیرکوں میں ہوتے رہے ( یہ تفصیل ڈومینک لیون کی مشہور کتاب Russia against Napoleon سے لی گئی ہے)۔ ذراتصورکریں کہ عین جنگ کے موقع پر دشمن کا بہادری سے لڑنے والا سپاہی نپولین کے سامنے لایا جاتا ہے جواُس کی بہادری اور حوصلے کو سراہتا ہے۔
بہادری کی بہت سی اشکال ہوسکتی ہیں۔ مصری فرعونوں کے بارے میں ہم جانتے ہیںکہ وہ اپنے مال ودولت سمیت دفن ہوتے تاکہ دوسری زندگی میں دولت اُن کے کام آئے۔ تاہم ان کا کوئی مقبرہ سلامت نہیں رہا کیونکہ چوروں نے ان کی قیمتی اشیا چرا کر مرحوم شہنشاہ کو ’’کنگلا‘‘ کردیا۔ تاہم 1922میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب Tutankhamun کا مقبرہ ملا جس میںکسی نے نقب نہیں لگائی تھی اور وہ ہر قسم کی دست برد سے محفوظ تھا۔اس کو دریافت کرنے والا ہاورڈ کارٹر سترہ سال کی عمر میں مصر آیا تھا۔ اس نے بہت سے ماہرین ِ آثار ِ قدیمہ کے ساتھ کام کیا اور قدیم مقابر کی آرائش کی نقل کرنے کے طریقے کو ترقی دی۔ اُسے 1899 میں مصر کی نوادرات کی سروس نے چیف انسپکٹر کے عہدے پر متعین کیا اور۔ اس سروس سے فنڈ حاصل کرنے کے بعد اُس نے مقابر کی تلاش کا کام شروع کیا اور Thutmose 1 اور Thutmose 111 دریافت کیے۔ یہ دونوں مقابر محفوظ حالت میں نہیں ملے تھے اور دونوں میں نقب لگائی جاچکی تھی۔ پھر اُس نے سروس چھوڑدی اور مشکل وقت کا سامناکیا۔ 1907میں اُس کی خدمات لارڈکارنارون (Carnarvon) نے حاصل کیں اور اُسے مصر میں ’’شہنشاہوں کی وادی‘‘ میں کھدائی کے کام پر لگایا۔ کارٹر نے پندرہ سال تک کھدائی کی لیکن اُسے کوئی کامیابی نہ ملی۔ اس کے بعد پہلی جنگ ِ عظیم شروع ہوگئی اور کھدائی کا کام روکنا پڑا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد کارٹر نے دوبارہ جدوجہد شروع کردی۔اب تک کارنارون کھدائی پر کثیررقم خرچ کرنے کے بعد کنگلاہوچکا تھا۔ اُس نے کارٹر سے کہا کہ اب یہ کام ختم کردیا جائے، لیکن کارٹر نے اُس سے درخواست کی کہ ایک سال مزید کوشش کرنی چاہئے۔ کارنارون نے درخواست مسترد کردی ۔ اس کے بعد اُس نے کارٹر سے کہا کہ وہ اپنی جیب سے خرچ کر کے کھدائی کاکام جاری رکھ سکتا ہے ، لیکن اگر اُسے کچھ مل گیا تو اس کا مالک معاہدے کے مطابق کارنارون ہوگا۔
کارٹر نے اپنے کچھ دوستوں،جو لندن میں رہتے تھے ، کوبتا یاکہ وہ مصر میں تنہا رہتے رہتے تنگ آگیا ہے اور اُسے کسی ساتھی کی ضرورت ہے۔ وہ سمجھے کہ وہ بیوی کی بات کررہا ہے ، تاہم اُنہیں بعد میں پتہ چلا کہ وہ کارنری (زرد رنگ کا ایک گانے والا پرندہ)کی بات کر رہا تھا۔ وہ اُس پرندے کو اپنے ساتھ مصر لے کر گیا۔ اُسے گانا سن کر مصری مزدوروں نے کہا کہ یہ خوش قسمتی کی نشانی ہے۔کارٹر نے یکم نومبر 1922 کو دوبارہ کا م شروع کیا۔ دودن بعد جبکہ اُس کے آدمی بارہ سو قبل ازمسیح میں بنی ہوئی مزدوروںکی جھونپڑیوں کی قطار کے پا س کام کررہے تھے ...مشہور مصنف ونسٹن (اس کی جس کتاب سے میں نے یہ تفصیل لی ہے وہ میں نے ستمبر 1994میںقاہرہ سے خریدی تھی) کے الفاظ میں...’’جب کارٹرہفتے کی صبح کو کھدائی کی جگہ پر آیا تو فضا میں عجیب سی خاموشی تھی۔ اُسے فوراً ہی احساس ہو گیا کہ کچھ غیر معمولی بات ہوئی ہے۔ ایک مزدور نے اُسے بتا یاکہ جن جھونپڑیوں کو گرارہے تھے، اُن میں پہلی کے نیچے چونے کے پتھر کی سیڑھی کا ایک نشان ملا ہے۔ یہ اتفاقیہ ملنے والا نشان آثار ِ قدیمہ کی تاریخ کی سب سے بڑی دریافت ثابت ہوا۔‘‘کارنارون کو انگلینڈٹیلی گرام بھیج دیا گیا۔ بائیس نومبر کو کافی کھدائی کرنے اور جگہ صاف کرنے کے بعد وہ ایک دروازے کے باہر کھڑے تھے۔ اس میںایک سوراخ کیا گیا۔ کارنارون نے پوچھا...’’تمہیںکچھ نظر آرہا ہے؟‘‘کارٹر نے جواب دیا،’حیرت انگیز چیزیں۔‘
میں نے ایتھنز کے عجائب گھر میں ٹرائے کا شہر دریافت کرنے والے Schliemann کا دریافت کردہ ماسک آف اگامیمن دیکھا ہے۔تاہم بعد کے مورخین نے اس کی تردید کی وہ اگامیمن کا ماسک نہیں کیونکہ یہ ٹروجن جنگ سے پہلے کا ہے۔ میں نے برٹش میوزیم میں Parthenon دیکھا ہے، لیکن جو تاریخ کی وسعت قاہرہ کے عجائب گھر میں ہے، اس کا کوئی جواب نہیں۔ وہاں قدم رکھتے ہی انسان قدیم دور میں پہنچ جاتا ہے۔ فرعونوںکے مجسمے اور ممیاں خوف اور رعب کی کیفیت پیدا کرتی ہیں ، تاہم کارٹر کی دریافت دیکھ کر حیرت کے سمندر میں گم ہوجاتے ہیں... عجیب جانوروںکی تصویریں، قد ِ آدم مجسمے،سونے سے سجی ہوئی کرسیاں... ہر چیز غیر معمولی فن کا اظہار کر رہی ہے۔ یہ سب کچھ سنانے کا مقصدیہ ہے کہ کارٹر کی دریافت اتفاقیہ نہیں (وہ لمحہ اتفاقیہ ضرور تھا)بلکہ اس کے پیچھے کئی عشروںکی سخت محنت تھی۔ بغیر کسی کامیابی کے طویل عرصے تک جدوجہد کرنا بھی بہادری ہے۔ عام انسانوں کی بہادری کو کوئی فوری امید تقویت دیتی ہے لیکن عظیم انسان اس سے سودوزیاںسے ماورا ہوکر کام کرتے ہیں۔ ایک دن تاریخ سب کچھ ان کی جھولی میں ڈال دیتی ہے۔
ٹرائے کو دریافت کرنے والا Schliemann بھی قدیم یونانی تہذیب سے عشق کرتا تھا۔ اپنی ابتدائی عمر سے ہی وہ کلاسیکی زبانوںکوجانتا تھا۔۔۔ ہومر کو اصل یونانی زبان میں پڑھنے والے عام انسانوںسے ممتاز ہوتے ہیں۔ اسے چھتیس سال کی عمر میں ایتھنز میں ہی اپنی محبوبہ صوفیہ ملی جس سے اس کے دوبیٹے تھے۔ اس نے بڑی مجبوری کے عالم میں اُنہیں baptize کیا(بچوں کو باقاعدہ عیسائی بنانے کی رسم) ، اور وہ بھی اس طرح کے کہ ان کے سر پر ہومر کیIliad رکھی اور اس کی ایک سو لائنوںکی تلاوت کی( یہ تفصیل Wikipedia سے لی گئی)۔ تاریخ کا یہ سفر دلچسپ بھی ہے اور معلومات افزا بھی۔ تاریخ بعض اوقات وقتی کامیابی کو کامیابی نہیں مانتی اور نہ ہی وقتی ناکامی تاریخ کے اوراق میںناکامی ہوتی ہے۔ کیاخبر ہم بھی وقت کے عجائب گھر میں ہوں یا پھر ابھی ہماری دریافت کا مرحلہ باقی ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *