چاکلیٹ کی سیاسی افادیت

انجم نیازAnjum Niaz

دوافراد جو ایک دوسرے کے بدترین دشمن ہیں، انکے لیے میری نصیحت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو چاکلیٹ دے کر امن کا دامن تھام لیں۔ چاکلیٹ کا استعمال نہ صرف دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کردیتاہے بلکہ ایک دوسرے کی طرف دل کو مائل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ یادداشت کو بھی بڑھاتا ہے۔ یہ مذاق نہیں، سائنسی تحقیق یہی کہتی ہے۔ سیاست میں چاکلیٹی ڈپلومیسی کی افادیت کو جانچنا چاہیے۔
موجودہ سائنسی تحقیق کولمبیا یونیورسٹی کی طر ف سے سامنے آئی کہ کوکا، جس سے چاکلیٹ بنتا ہے، خون کی شریانوں کو نرم رکھتا ہے اور انہیں اکڑنے سے بچاتا ہے۔ یہ سوزش کوبھی دور کرتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے یادداشت کو تباہ ہونے سے بچاتا ہے۔ گویا ہمارے ملک میں چاکلیٹ کا استعمال بہت سے سیاست دانوں کی دکان بند کرسکتا ہے۔ کیا میں سابق چیف جسٹس افتخارچوہدری اور عمران کو یہ نصیحت کرنے میں حق بجانب ہوں؟ان دونوں میں ا یک قدر مشترک ہے... .یہ دونوں اصحاب خود کو ہمارا نجات دہندہ قراردیتے ہیں۔ جسٹس چوہدری کو عوام کی حمایت اُس وقت ملی جب جنرل مشرف نے اُن پر دباؤ ڈالا ۔ انکی مزاحمت نے اُنہیں عوام کا ہیرو بنادیا... باقی تاریخ ہے۔
عمران خان کو اُس وقت شہرت ملی جب وہ اُنھوں نے 2013کے انتخابات سے پہلے لاہور کا تاریخی جلسہ کیا۔ وہ سیاسی افق پر چھا گئے۔ انتخابات میں ان کی جماعت تیسری نمبر پررہے۔ تاہم ایک سال بعد عمران وزیرِ اعظم نوازشریف کے استعفے کا مالبہ کرنے لگے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلیاں جعلی ہیں کیونکہ انتخابات میں بے پناہ دھاندلی کی گئی۔ اُنھوں نے انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسمبلیوں سے استعفادے دیا۔ تاہم دھرنے اور جلسوں کے باوجود عمران کا یہ مطالبہ پورا نہیں ہوااگرچہ اُنھوں نے حکومت کے قدموں تلے سے زمین سرکادی۔
عام آدمی کو عمران خان سے ہمدردی ہے، لیکن جسٹس چوہدری جیسے عوامی حمایت عمران کو نہیں ملی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جسٹس چوہدری اکیلے ایک ہیرو کا درجہ حاصل کرگئے تھے لیکن لوگ جب عمران خان کے دائیں بائیں دیکھتے ہیں تو وہ کسی طور پر انقلابی یا نئے پاکستان کے نقیب دکھائی نہیں دیتے۔ آج عمران خان کی طرف سے جسٹس چوہدری پر دھاندلی کا الزام بھی بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آیا ہے۔ ان الزامات کے جواب میں ارسلان افتخار نے عمران خان پر بیس بلین روپے کا ہتکِ عزت کا دعوی کردیا ۔ آج کل دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف بیانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے میں نے سوچا کے ان کے درمیان ’’چاکلیٹ ڈپلومیسی ‘‘ کو ایک موقع ملنا چاہیے۔
حالیہ دنوں جسٹس افتخار چوہدری ایک ایسی کار ڈرائیو کرتے پائے گئے جس پر نمبر پلیٹ نہیں لگی ہوئی تھی۔ جب وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ سکیورٹی وجوھات کی بنا پر۔ کیا اس بات میں وزن ہے؟ کیا پاکستان میں جنگل کاقانون ہے کہ جس کا جوجی چاہے قانون بنالے؟کیا عام آدمی کو بھی یہی جواز دیا جاسکتا ہے یا پھر اس کی جان اتنی قیمتی نہیں؟اس سے پہلے جسٹس صاحب نے اپنے بیٹے پر لگائے گئے الزامات پر جو کیس شروع کیا تھا ، اس کا انجام لوگوں کویاد ہے۔ اب جس شخص بات بات پر سووموٹو لے کر حکومت کو خائف رکھتا تھا او ر اُس کا دعویٰ تھا کہ ملک میں صرف وہی بدعنوانی کے خلاف لڑرہے ہیں ، کیا آج اُنہیں چاکلیٹ پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ نہیں؟ہو سکتا ہے کہ یادداشت تازہ ہوجائے اور علم ہو کہ اُنھوں نے سابق وزیرِ اعظم کو کیوں گھر بھیجاتھا؟احساس ہویا نہ ہو، یادداشت تازہ کرنے میں کیا حرج ہے۔ شنید ہے کہ انسانوں میں ضمیربھی ہوتاہے۔ واﷲ وعالم!
جہاں تک عمران کا تعلق ہے تو ان کے خلوص پر کسی کو شبہ نہیں۔ وہ مالی بدعنوانی کے الزامات سے بھی دور ہیں، لیکن ان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ خود کوہرکمزوری سے مبراسمجھتے ہیں۔ وہ نہ کسی کا مشورہ لیتے اور نہ اپنی رائے کو غلط سمجھتے ہیں۔ پورا پاکستان طالبان کے دھماکوں کی زد میں تھا اور وہ حکیم اﷲ محسودکی ہلاکت پر نوحہ کناں تھے۔ ڈرون حملے ملک دشمن عناصر کو ہدف بنارہے تھے اور خاں صاحب عوام کی رائے کو گمراہ کررہے تھے۔ کسی زمانے میں ان کا سب سے بڑا قومی ایشو عافیہ صدیقی تھی۔ ۔۔۔ خان یادداشت کو کیاہوگیا ہے؟عمران خان کا کہنا تھاکہ تحریک انصاف ، انصاف کی بالادستی کے لیے ہے لیکن انکی جماعت ملتان سے جاوید ہاشمی کے مقابلے میں فتح یاب ہونے والے ایک ایسے شخص کی حمایت کررہی ہے جو بہت سے الزامات کی زد میں ہے۔ لگتا ہے کہ خان صاحب کو بہت زیادہ چاکلیٹس کی ضرورت ہے۔
اداکارہ میرا کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان سے شادی کی خواہش مند ہے۔ خواہشات کے آگے بندھ نہیں باندھا جاسکتا اور شادی کی خواہش ، اور وہ بھی میرا کی، کے آگے تو کچھ بھی نہیں باندھا جاسکتا۔ تاہم میں میرا کو مشورہ دوں گی کہ اگر ایسا وقوعہ ہوجائے تو وہ عمران کو چاکلیٹ کبھی نہ کھانے دے کیونکہ ایک مرتبہ مجھے انٹرویو دیتے ہوئے عمران نے کہا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ خوشی کی بات باپ بنناہے اور وہ اپنے بیٹوں کی خاطر کبھی شادی نہیں کریں گے۔ میں نے عمران سے پانچ سال پہلے کہاتھا...’’ہمیں اتاترک کی ضرورت ہے۔ کیا تم بن سکتے ہو؟‘‘ اُنھوں نے جواب دیا ،’’نہیں ، اتاترک میرا ماڈل نہیں ہے۔ آپ پاکستان میں مغربی اقدار کو پرموٹ نہیں کرسکتے ہیں۔ میرے ماڈل مسٹر جناح اور مہاتیر محمد ہیں۔‘‘
چاکلیٹ کی خوبیوں پر تکیہ کرتے ہوئے انہیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو بھی پیش کرناچاہیے ۔ اُنھوں نے کہا تھاکہ اگر ماڈل ٹاؤن سانحے میں اُنہیں نامزدکردیاگیاتو وہ مستفعی ہوکر قانون کا سامنا کریں گے۔ جسٹس باقر رپورٹ نے نامزدکردیا لیکن وعدہ کیا ہوا؟خدشہ ہے کہ چاکلیٹ کام نہیں کرے گا۔ اب تو محترم گلوبٹ بھی انکاری ہیں کہ اُنھوں نے زندگی بھر کبھی ڈنڈا تھاماہے اور نہ کوئی شیشہ توڑا ہے۔ ان کی بات کو بھی سچ مان لیتے ہیں کیونکہ پھر ان کا کیا قصور ہے کہ ان کے بیان پر قوم اعتماد نہ کرے۔
مسٹربلاول اُس ملک سے آئے ہیں جہاں چاکلیٹ بہت کھائے جاتے ہیں۔ جوان آدمی ہیں، امید ہے کہ ان کی یادداشت قوی ہوگی۔ اس لیے وہ جلسوں میں جوکچھ کہہ رہے ہیں، یادرکھیں گے۔ ویسے تو ہمارا میڈیا بھی ’’چاکلیٹی‘‘ ہے ۔ اس کی ریکارڈنگ یاددلاتی رہتی ہیں... سب کچھ سوائے اوقات کے۔ میرا خیا ل ہے کہ ہماراسیاسی منظر نامہ اتنا الجھ گیا ہے کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ گزشتہ دوماہ کے واقعات کا ایک فائدہ ہوا کہ عوام نے بہت خوشی سے دیکھا اور سنا کہ تقریباً تمام سیاسی پنڈت، جنھوں نے ٹی وی سدابہار ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، اپنے اندازوں میں غلط ثابت ہوئے۔ یہ بہت اچھی پیش رفت ہے۔ اسے پرنٹ میڈیا والوں کو مستحسن نظروں سے دیکھنا چاہیے۔ آخر میں جی چاہتا ہے کہ جان کی امان پاکر ایم کیوایم کے قائد کو بھی چاکلیٹ کا ڈبہ پیش کروں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *