اخلاقی ساکھ اور عدالتی عمل

khursheed-nadeem

اخلاقی ساکھ کی تشکیل، کیا قانون سے ماورا ایک عمل ہے؟ عدالتی فیصلے کیا سیاسی وسماجی حیثیت کے تعین میں کوئی کردار ادا کرتے ہیں؟
ایک مقدمہ یہ ہے کہ پاناما لیکس نے شریف خاندان کی اخلاقی ساکھ برباد کر دی۔ عدالتی فیصلہ اب ایک غیر متعلق عمل ہے۔ اگر عدالتِ عظمیٰ ان کے حق میں فیصلہ سناتی ہے تو اس کے قانونی مضمرات تو ہو سکتے ہیں، اخلاقی اور سیاسی نہیں۔ اس سے ممکن ہے کہ نواز شریف صاحب کا منصب ان ہی کے پاس رہے لیکن اخلاقی ساکھ؟ یہ اب قصۂ پارینہ ہے۔ ایک متاع تھی جو لٹ چکی۔
2016ء میں، انگریزی لغت میں ایک نئے لفظ کا اضافہ ہوا: Post Truth'بعد از صداقت‘۔ نومبر2016 ء میں آکسفورڈ انگلش ڈکشنری نے اسے قبول کر لیا۔ 1992ء میں پہلی بار ایک سرب امریکی محرر سٹیو ٹسچ(Steve Tesich) نے یہ لفظ یا اصطلاح استعمال کی۔ اس کا ظہور سیاسی واقعات کے تناظر میں ہوا۔ لغت نے اسے اسم صفت (Adjective) کی حیثیت سے قبول کیا۔ اس کا تعلق ایک ایسی صورت حال سے ہے جب عوامی رائے کی تشکیل، معروضی حقائق کے بجائے جذباتی اپیل اور شخصی نظریات و عقائد کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ سچ (Truth) کیا ہے؟ یہ سوال رائے سازی کے عمل میں غیر متعلق ہو جاتا ہے۔ لوگ جو مان رہے ہیں یا جس تاثر کو قبول کر رہے ہیں، وہ سچ کی جگہ لے لیتا ہے۔ آکسفورڈ لغت کے ماہرین نے ان الفاظ میں اس کی تعریف کی ہے:
Circumstances in which objective facts are less influential in shaping public opinion than appeals to emotions and personal belief.
لغت کے لیے نئے الفاظ کے انتخاب کا ایک پہلوسماجی بھی ہے۔ لغت کا تعلق لسانیات سے ہے لیکن زبان ظاہر ہے کہ استعمال سے آگے بڑھتی ہے۔' صرف‘ کے قواعد اپنی جگہ لیکن لغت میں بہت سے الفاظ وہ ہیں جو سماعی ہوتے ہیں۔ ایک لفظ جس مفہوم میںرائج ہو جائے، ایک وقت آتا ہے کہ لغت اسے قبول کر نے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یہی معاملہ '' پوسٹ ٹرتھ ‘‘ کا ہے۔ آکسفورڈ لغات کے صدر کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں سیاسی و سماجی عمل جس رو میں بہہ رہا ہے، اس نے اس لفظ کو لغت کا حصہ بنانے میں ایک کردار ادا کیا۔
دو واقعات بطور خاص، اس ضمن میں پیش کیے جاتے ہیں۔ ایک برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج کا فیصلہ اور دوسرا ٹرمپ کا بطور صدر انتخاب۔ برطانیہ کے عوام نے ایک ریفرنڈم کے نتیجے میں یہ فیصلہ دیا کہ انہیں اب یورپی یونین کا حصہ نہیں رہنا۔ عوامی سطح پر لوگوں کو یہ باورکرا دیا گیا کہ یہ برطانوی عوام کے حق میں نہیںہے۔ یہ تاثر انہیں اپنے جذبات کے قریب تر محسوس ہوا۔ اس مہم میں انہیں بتایا گیا کہ اگر برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو جائے تو اسے فی ہفتہ435 ملین ڈالر کی بچت ہوگی ( نیوز ویک 10دسمبر2016ء)۔ یہ بات سچ نہیں تھی، لیکن چونکہ عوامی جذبات اسی سمت میں بہہ رہے تھے، اس لیے اس خبرنے ایک رائے بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اب برطانیہ کے لوگوں کو احساس ہو رہا ہے کہ یہ مقدمہ سچ کے خلاف تھا۔
دوسرا واقعہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بطور صدر انتخاب ہے۔ ٹرمپ نے کامیابی کے ساتھ لوگوں کو یہ باور کرادیا کہ امریکہ کا اصل مسئلہ دوسرے ممالک سے آئے ہوئے لوگ اور مسلمان ہیں۔ انہیں اگر امریکہ سے نکال دیا جا ئے تو ہر طرف چین ہی چین ہوگا۔ عوام کے جذبات بھی اسی سمت میں بہہ رہے تھے۔ یہ امریکی سیاست کاسچ نہیں، بعد از سچ (Post Truth) تھا۔ لوگوں نے اسی تاثر کے تحت فیصلہ کیا اور ٹرمپ امریکہ کا صدر منتخب ہوگیا۔
میرا احساس ہے کہ یہ کوئی نیا عمل نہیں ہے۔ اس عمل کو اب ایک نام دے دیا گیا ہے جس سے تفہیم میں آسانی ہو گئی ہے۔ اصطلاح یا لفظ کا فائدہ یہی ہے کہ وہ ایک بڑی بات یا تصور کو ایک لفظ میںسمو دیتا ہے جس سے ابلاغ کا عمل آسان ہو جا تا ہے۔ یہ لازم نہیں کہ عوامی تاثرکسی حقیقت یا سچ کے زیرِ اثر قائم ہو۔ دنیا میں اٹھنے والی انقلابی تحریکیں زیادہ تر سچ کے بجائے پوسٹ ٹروتھ کے زیرِ اثر برپا ہوئیں۔ مثال کے طور پر اشتراکیت۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ ان کے مسائل کا اصل سبب طبقاتی تقسیم ہے۔ اگر صاحبانِ وسائل سے سرمایہ چھین کر بے وسیلہ لوگوں میں بانٹ دیا جائے تو معاشرے میں کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ تاریخ یا سماج کی یہ تعبیر عوامی جذبات کے قریب تر تھی،اس لیے اسے قبولیتِ عامہ حاصل ہوئی۔
اسلامی تحریکوں نے ابتدا میں یہ کام نہیں کیا۔ مو لانا مودودی جیسے اہلِ علم نے یہی بتایا کہ اسلامی انقلاب ایک سماجی تبدیلی کا نتیجہ ہے اور یہ کام دنوں میں نہیں ہوتا۔ تاہم انہی کی زندگی میں یہ تحریکیں 'پوسٹ ٹرتھ‘ دور میں داخل ہوگئیں۔ انہوں نے ٹرمپ کی طرح اپنے مسائل کے اسباب خارج میں تلاش کیے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد آج یہی سمجھتی ہے۔ سازش کے تصورات کا فروغ اسی پوسٹ ٹروتھ سوچ کا نتیجہ ہے۔ اس کی مقبولیت میں اسلامی تاریخ کے رومانوی تصور نے بھی ایک کردار ادا کیا۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ کل ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو جائے تو ان کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔
سچ کی نسبت پوسٹ ٹروتھ کیوں مقبول ہو تا ہے؟ اس کے دواسباب ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا میں سچ جاننے کا کوئی یقینی طریقہ موجود نہیں ہے۔ سچ کی تلاش کے لیے سب سے قابلِ بھروسہ ادارہ عدالت ہے۔ عدالت کی یہ مجبوری ہے کہ وہ موجود شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ دے۔ اب اگر قاضی شریح جیسا قاضی ہو، تو بھی یہی فیصلہ سنائے گا کہ زرہ پر سیدنا علیؓ کا حقِ ملکیت ثابت نہیں کیونکہ دعوے کے حق میں شواہد موجود نہیں۔ عدالت فیصلہ کر سکتی ہے، لازم نہیں کہ عدل بھی کرے۔ اس سے لوگوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ پروپیگنڈے کے موثر استعمال سے، حقائق کے باب میں عوامی تاثر کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایک حکومت مخالف تحریک کے دوران میں، یہ افواہ پھیل جائے کہ فلاں شہر میں حکومت کے ہاتھوں اتنے لوگ مارے گئے ہیں تو عوامی احتجاج فیصلہ کن ہو سکتا ہے، کیونکہ لوگ پہلے ہی جذباتی طور پر حکومت کے خلاف ہوتے ہیں اور اس سے کسی برے فعل کے صدور کا امکان تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ اب بعد میں اگر حقیقت واضح ہو جائے تو بھی بے معنی ہوگی۔
پاکستان اس وقت سچ کے بجائے پوسٹ ٹروتھ کے دور میں ہے۔ تحریک انصاف یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ عدالت کا فیصلہ جو بھی ہو، یہ بات ثابت ہو چکی کہ شریف خاندان کرپٹ ہے۔حکومت کا پوسٹ ٹروتھ پہلے یہ تھا کہ نوازشریف کے خلاف تحریکِ انصاف کا احتجاج اس لیے ہے کہ غیر سیاسی ادارے اس کے درپے ہیں۔ اب شاید اسے ایک نئے پوسٹ ٹروتھ کی ضرورت ہو۔
سچ یہ ہے کہ دنیا میں معاملات حق اور انصاف کی بنیاد پر نہیں، ان کی سنجیدہ تلاش کی بنیاد پر چلتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ سچ کی تلاش کا یہ عمل ہر بار نتیجہ خیز ہو۔ تاہم اسے قبول کیے بغیر چارہ نہیں۔ اس رویے سے معاشرے کو عدم استحکام سے محفوظ رکھا جا سکتاہے۔ اس وقت پاناما لیکس کے باب میں ایک عدالتی عمل جاری ہے۔ ہمیں اسے قبول کرنا ہوگا جیسے امریکہ میں ٹرمپ کے انتخاب کو قبول کر لیا گیا یا برطانیہ عملاً یورپی یونین سے الگ ہو گیا۔ اگر فیصلہ شریف خاندان کے حق میں آتا ہے تو اسے کسی پوسٹ ٹروتھ سیاست کے زیرِ اثر مستردکرنے کے بجائے، قبول کیا جائے اور ملک کو کسی فساد میں مبتلا کرنے کے بجائے، 2018ء کے انتخاب کا انتظار کیا جائے۔ انتخابی مہم ویسے بھی پوسٹ ٹروتھ کی بنیادہی پر چلتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *