کراچی آرٹس کونسل,انتخابات اورجملہ ہائے معترضہ

syed arif mustafa

الحمد للہ اس برس کراچی آرٹس کونسل کے انتخابات بہت بہتر فضاء میں ہو رہے ہیں کیونکہ گزشتہ برس کےانتخابات پہ کراچی شہر پہ مسلط دہشتگرد مافیا ایم کیوایم نے پوری شدت سے اثرانداز ہونے کی کوشش کی تھی اور اس وقت اسکا سورج پوری تمازت سے دمک رہا تھا ۔۔۔۔ اس ضمن میں شہر قائد پینل اپنی مجبوری یا حماقت سے انکے ہاتھ لگ گیا تھا کہ جسکے جلسوں میں متحدہ کے اہم ارکان اسمبلی کھل کھلا کے 'پرفارمنس' دے رہے تھے ۔۔۔ ان حضرات کی وجہ سے شہر قائد کے جلسے بھی بہت بڑے بڑے ہو رہے تھے اور یوں لگتا تھا کہ شہر قائد کے پینل میں فتح لکھی جاچکی کیونکہ متحدہ اپنے نام سے منسلکہ کسی بھی معاملے میں کامیابی کے لیئے کسی بھی انتہا تک جانے کی عادی رہی ہے اور اسے کسی صورت شکست برداشت نہیں ہے اس صورتحال میں احمد شاہ کے بڑے بڑے حامی مخالف کیمپ کا حصہ بن گئے تھے اور بہتیرے عام ممبر بہت ہی مایوس ہوچلے تھے

یہ وہ وقت تھا کہ جب میں نے سوشل میڈیا اور ایس ایم ایس پہ ایک بھرپور مہم چلائی جسکا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ہمیں تہذیب و ثقافت کے عکاس اس ادارے کو ان سیاسی درندوں کے چنگل میں جانے سے بچانا چاہیئے اور آرٹس کونسل کو متحدہ کے درجنوں سیکٹر آفسوں مں سے ایک آفس بننے سے روکنا ہوگا - ورنہ یہاں کے فنڈز بھی لوٹ کھسوٹ کے لندن پہنچائے جانے لگیں گے اوراس مرکزتمدن کی علمی و سرگرمیوں کے لیئے مختص رقوم الطاف حسین کی اسکاٹ لینڈ والی شرابوں اور پانچویں اور چھٹی کوٹھی کی خریداری وغیرہ پہ ٹھکانے لگانے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور آرٹس کونسل کے ارکان و عہدیداران بھی نائن زیرو پہ رات دن نازل ہونے والے بھیانک 'لندنی خطابات' کے سامع بننے پہ مجبور کردیئے جائینگے

الحمد للہ میری اس جنونی و ہنگامی رابطہ مہم نے بہت سے 'غافلین' کو ہوش میں لانے میں اہم کردار ادا کیا اور انہیں مستقبل کے بھیانک منظرنامے کی تفہیم میں آسانی ہوئی اور پھر بیلٹ باکس پہ متحدہ کا طلسم ٹوٹ کے بکھر گیا ۔۔۔۔ یہاں پہ یہ بھی واضح کردوں کہ گزشتہ برس اس ضمن میں جن لوگوں کا کردار نہایت منفی رہا ان میں میٹرو چینل کے مالک خالد آرائیں سر فہرست ہیں کہ جنہوں نے ایک طویل عرصے سے اپنے چینل کو ایم کیوایم کا بھونپو بنائے رکھا تھا اوراب بدلی ہوئی فضاء حسب توقع ان موصوف نے بھی نظریں بدل لی ہیں انہوں نے گزشتہ برس کے پولنگ کے تنازع میں بیلٹ بکس کے ساتھ ہی نہیں وہاں موجود میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بدتمیزی کی انتہا کردی تھی اور اسکی فلم بنالینے والے ایک چینل کے کیمرہ میں سے زبردستی کرکے اسکی فلم بھی نکال کے ضائع کردی تھی تاکہ انکی وحشت کے ثبوت عوام تک نہ پہنچ جائیں ۔۔۔۔ میں نے اس وقت بھی ان موصوف کی اس قبیح حرکت کی شدید مذمت کی تھی اور امید کرتا ہوں کہ وہ اب اپنے آپکو ایک بہتر انسان بنانے پہ توجہ دیں گے

مجھے یہاں یہ بھی واضح کرنا ہے کہ شہر قائد پینل سے میری کوئی ذاتی پرخاش نہیں لیکن یہ حضرات سارا سال غائب رہتےہیں اور عین الیکشن کے موقع پہ ہی شکل دکھاتے ہیں ،،،، ایک خلیل احمد نینی تال والا ہیں کہ جو عرصے سے ایک متبادل آرٹس کونسل بنانے کے آئیڈیئے کا اظہار کرتے سنے جاتے ہیں جو ایک اچھی بات ہے لیکن عملی طور پہ وہ کبھی باتیں بنانے سے آگے کبھی نہیں بڑھے ، بس الیکشن کے موقع پہ ہی بھاشن کاشن اور راشن لیئے حاضر ہوجاتے ہیں ، وہ اگر چاہیں تو اپنی دولت اور اثر و رسوخ کے بل بوتے پہ اہل شہر کو اور زیادہ بہتر ثقافتی و تہذیبی سرگرمیوں کے تحائف سے نواز سکتےہیں اور پھر اہل کراچی بھی ایسے ناسپاس نہیں کہ اچھے کاموں کی قدرشناسی نہ کرسکیں لیکن وہ تو صرف مخالفت برائے مخالفت پہ یقین رکھے معلوم ہوتے ہیں ۔۔۔ وہ اور شہر قائد کے پینل کے ارکان یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کرلیں کے احمد شاہ کا مقابلہ عناد سے نہیں صرف بہتر کارکردگی سے ہی کیا جاسکتا ہے

آخر میں میں یہ عرض کردوں کہ میں ایک مقصدی آدمی ہوں اور صرف مثبت اہداف اور اسکے لیئے حکمت عملی بنانے پہ یقین رکھتا ہوں ۔۔۔ میری دانست میں بہتر کارکردگی کے باوجود آرٹس کونسل میں ابھی تک عام آدمی کے لیئے کوئی خاص گنجائش موجود نہیں ہےاور بنیادی طور یہ برگر کلاس کے گرد ہی گھوم رہی ہے ،،،اسکا یوتھ فیسٹیئول اسکی سب سے بڑی مثال ہے کہ جسکے لیئے شہر کے چند مخصوص بڑے انگلش میڈیئم اسکولوں سے ہی رابطہ کیا جاتا ہے اور شاذ ہی کسی پیلے اسکول کی مخلوق سے کبھی رابطے کی زحمت کی جاتی ہو ۔۔۔ یہاں پہ انگریزی میں تھوکنے اور کھانسنے والے لوگوں کو جب میں اردو کانفرنس میں براجمان پاتا ہوں تو اسے اس کونسل کا سب سے بڑا المیہ باور کرتا ہوں - اسی طرح آرٹس کونسل نے حقیقی اہلیت کے حامل نادار ادیبوں شاعروں اور اہل علم کی تخلیقات کو شائع کرکے منظر عام پہ لانے میں بھی کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا- یہ امر بھی نہایت افسوسناک ہے کہ ہر برس اردو کانفرنس منعقد کروا کے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہ اردو کی کوئی حقیقی خدمت ہے جبکہ اس کانفرنس نے اب ایک میلے ٹھیلے اور پبلک ریلیشننگ کے اہم ایونٹ کی سی شکل تو اختیار کرلی ہے لیکن اردو کی بطور زبان ترویج و اشاعت اور نفازکے حقیقی تقاضوں سے اسکا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور عالم یہ ہے کہ خود کراچی آرٹس کونسل کے دفتری امور انگریزی ہی میں انجام پاتے ہیں ۔۔۔

یاد رکھیئے قومیں کبھی دو عملی سے نہیں پنپتیں ،،، میلے ٹھیلے اپنی جگہ لیکن قومی تعمیر و ترقی کے تقاضے کچھ اور ہیں اور اس کارکردگی سےکہیں زیادہ ہیں کہ جو اس وقت تک دیکھنے میں آئی ہے ،،، گزشتہ برس سپریم کورٹ کی جانب سے نفاز اردو کے حق میں تاریخی فیصلہ آنے کے بعد سے اہل علم و ادب کے اس سب بڑے نمائندہ ادارے کی اردو کی بات ذمہ داریاں محض اردو کانفرنس تک محدود نہییں ، بلکہ اسکے نفاز کے لیئے بھی اسےاہم توانا اور مثبت کردار ادا کرنا ہوگا اور یہ کام کوئی اور کرے نہ کرے احمد شاہ بخوبی کرسکتے ہیں کہ یقینناً وہ ایک زبردست انتظامی صلاحیتوں سے لیس اور نہایت متحرک و سرگرم آدمی ہیں اور اب انہیں اہم قومی تقاضوں کو پورا کرنے کی شاہراہ پہ بھی قدم بڑھانا ہوگا- وہ ایسا نہیں کرینگے تو یہ اس شہر اور قومی مقاصد کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی-

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *