جنرل راحیل شریف اورسول ملٹری تعلقات‎

Raja Qasim Mehmood
جنرل (ر) راحیل شریف کو رخصت ھوئے اب تین ہفتوں سے زیادہ کا وقت گذر چکا ھے ان کے جانے کے بعد کئی لوگوں نے ان پر تنقید بھی کی اور ان سے خصوصی طور پر یہ شکایت کی کہ ان کے دور میں سول ملٹری تعلقات غیر متوازن رہے اور سیاسی و ریاستی امور میں فوج کا عمل دخل بڑھا۔اور دوسری بات ان کی ضرورت سے زیادہ تشہیر ھوئی۔ میرئے خیال میں تشہیر والی بات کسی حد تک درست ھے اس سے کئی سادہ لوح لوگوں نے جنرل صاحب کی شکل میں ایک مسیحا ڈھونڈنا شروع کردیا انھوں نے یہ خیال کرنا شروع کردیا کہ ان کی کسمپرسی اور ملکہ مسائل کو حل کرنے کے لیے اب جنرل راحیل شریف آ گئے ھیں ویسے ہم اللہ تعالی سے بھی وہ امیدیں لگا لیتے ھیں جن کی تکمیل اس نطام قدرت کے ہی خلاف ھے اس لیے جنرل صاحب  سے ان امیدوں کا وابستہ ھونا کوئی حیران کن بات نہیں ھے مگر اس تشہیر کا  میں سمھجتا ھوں کہ ایک مثبت پہلو بھی نکلا وہ یہ کہ ضرب عضب کو عوام میں مقبول کرنے کے لیے یہ تشہیر بہت معاون ثابت ھوئی اور یہ بات بھی ذھن میں رہے کہ ضرب عضب سے پہلے حکومت ٹی ٹی پی سے مذاکرات کر رہی تھی اور عمران خان صاحب ان کا دفتر کھولنے کی بات کر رہے تھے اس لیے اس بات کا خدشہ ضرور تھا کہ اس آپریشن کو شاید عوامی مقبولیت حاصل نہ ھو جنرل صاحب کی تشہیر نے اس خدشے کو درست ثابت نہ ھونے دیا جس کا دیشت گردوں پر بھی ایک نفسیاتی دباؤ پڑا لہذا اس تشہیر کے حوالے یہ پہلو بھی مد نظر رکھنا چاھیں
جہاں تک سول ملٹری تعلقات کی بات ھے تو میں ایک طالب علم  ھونے کے ناطے یہ سوچتا ھوں کہ سول ملٹری تعلقات ایک پیچیدہ موضوع ھے اس کا بلیک اور وائٹ میں تجزیہ حقیقت سے دور ھوتا ھے بلکہ میں سمھجتا ھوں یہ ایشو سب سے زیادہ گرے ھے جس کا نتیجہ کبھی بھی یک طرفہ نہیں ھوتا ،مگر ہمارے کئی تجزیہ نگار اس مسلہ پر ایک فریق کے حق یا مخالفت میں اپنا سارا زور لگا دیتے ھیں اور اپنی مرضی کا نتیجہ نکال لیتے ھیں جو کہ اکثر حقیقت سے دور ھوتا ھے۔پاکستان کے تناظر میں سول ملٹری تعلقات اور بھی زیادہ پیچیدہ ھیں کیونکہ یہاں پر ان دونوں کے درمیان کئی دفعہ براہ راست تصادم ھو چکا ھے پھر فوج کا طویل اقتدار بھی اس ملک نے دیکھا ھے ،مضبوط فوج ہماری ضرورت بھی ھے اور جمہوریت کا استحکام بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ھے اس طرح کے دیگر عوامل کو مد نظر رکھ کرہی اس ایشو پر صیح بات ھو سکتی ھے ۔ پاکستان میں فوج 1958 سے اقتدار میں ھے یہ سچ ھے کہ مارشل لا ایک فوجی ڈکٹیٹر لگاتا ھے مگر جب وہ اقتدار سنبھالتا ھے تو پھر فوج کا پورا ادارہ اس اقتدار کا مزہ لیتا ھے اور ابھی آجری دفعہ فوج کو اقتدار چھوڑے ابھی صرف نو سال ھوئے ھیں اور براہ راست اقتدار کا مزے کی چاشنی اب بھی برقرار ھے۔۔اس طویل فوجی مداخلت کو ختم کرکے سول بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے سیاست دانوں اور بالخصوص اہل اقتدار کو ایک بات سمجھ لینے چاھیں کہ فوج جو کہ کئی دہائیوں سے اقتدار کا حصہ رہی ھے آپ کے ایک حکم سے ہرگز نہیں جائے گی بلکہ اس کے لیے آپ کو ایک صبر آزما  اور لمبی حکمت عملی اختیار کرنی پڑے گی اور میرئے خیال سے اس کے لیے کم از کم 30 سے 35 سال چاھیے جس میں لگاتار سول حکومتوں کو فوج  کو اقتدار سے علیحدہ کرنا ھو گا اب تو ایک ماحول بھی بن چکا ھے کہ مارشل لا کو پہلے جیسی پذئیرائی نہیں مل سکتی مگر سول حکومت کو ملنے والے محدود اقتدار سے اپنے آپ کو پرفارم کرنا پڑے گا اور ماضی کی فوجی حکومتوں سے بہتر حکمرانی کرنی ھوگی سول ادارے بالخصؤص پولیس اور عدلیہ کو معتبر بنانا ھو گا ،کیا یہ ہمارا المیہ نہیں ھے کہ ہماری سیاسی قیادت نے پولیس کو ذاتی طاقت کے طور پر استعمال کرکے اسے کمزور کیا ھے اور عدلیہ کی ناکامی کی وجہ سے ہی فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش آئی ،ایک اور اہم ادارہ بلدیات ھے جو کہ بدقسمتی سے سول حکومتوں میں کمزور ھوئے جبکہ اس کے برعکس فوج نے ان کو مضبوط اور بااختیار بنایا حالانکہ بلدیاتی ادارے سول حکومت کی ایک بہت بڑی طاقت ثابت ھوسکتے ھیں۔
جنرل راحیل شریف کے باب میں تنقید کرنے والوں نے بھی ان عوامل کو نظرانداز کیا۔ فوج کا مزاج اکیلے جنرل صاحب نہیں بدل سکتے تھے اور کئی معاملات پر فوج کا مؤقف کبْْچھ  حقیقی جذبات پر ھے جس کو مدنظر رکھیا ضروری ھے جیسے کہ مسلہ کشمیر اور بھارت سے تعلقات اور اس پر فوج کو عوامی تائید بھی حاصل ھے اور پھر پلے بھی عرض کرچکا ھو اقتدار سے تازہ تازہ علیحدگی اور خود کئی فوجی حضرات اس اقتدار کا حسہ رہے ھیں۔ پھر میاں صاحب کا اپنا مزاج بھی شاہانہ ھے وہ اپنی طاقت کو چیلنج کرنے والوں اور اپنے سے اختلاف رکھنے والوں سے شدید کوفت کھاتے ھیں اپنی ہی پارٹی کے کئی لوگ انھیں ایک آنکھ نہ بھائے اور انھیں اپنے سے دور کیا جبکہ وہ ان کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے تھے جیسے کہ جاوید یاشمی اور ایاز امیر۔۔اسی مسلے کا سامنے انھیں جنرل راحیل سے بھی کرنا پڑا ھوگا اور جنرل صاحب کے پیچھے طاقت ور فوج نے میاں صاحب کو انتہائی قدم سے باز رکھا ورنہ ھو سکتا تھا کہ وہ ان کے ساتھ جنرل جہانگیر کرامت والا سلوک کرتے ،مشرف کے معاملے پر ناکامی نے شاید انھیں یہ کام نہیں کرنے دیا ۔بلکہ جیسا میاں صاحب کی طبعیت ھے اگر ان کے سیاسی محسن جنرل ضیاء الحق ان کے ساتھ آرمی چیف ھوتے تو میاں صاحب ان سے بھی الجھ جاتے۔اس معاملے پر یقینا فوج کی طرف سے بھی حدود سے تجاوز ھوا ھوگا جس کی حوصلہ آفزائی نہیں کی جاسکتی فوج کو سمھجنا ھوگا کہ سیاست میں مداخلت اسے پیشہ ورانہ امور میں کمزور کرتی ھے جو کہ  فوج اور ملک دونوں کے لیے تشویشناک ھے۔۔باقی کئی مواقعے پر جنرل صاحب نے حکومت کا ساتھ دیا بالخصوص دھرنے کے دنوں میں کیونکہ ان دنوں حکومت بہت کمزور ھوچکی تھی اور جنرل صاحب نے حکومت کو تنگ نہیں کیا اور شب خون نہیں مارا پھر ایکستیشن نہ لینا یا حکومت کا نہ دینا بھی ایسا اقدام ھے جس کی تعریف کرنی چاھیے۔
میرا بھی خواب ھے کہ اس ملک میں جمہوریت مضبوط ھو اور مثالی سول ملٹری تعلقات ھوں مگر اس خواب کی تکمیل کے لیے وقت درکارھے جس پر عجلت سے کام نہیں لیا جا سکتا ھے یہ ایک لمبا ٹیسٹ میچ جس کے لیے مستقل مزاجی اور ارتقا کی ضرورت ھے اس کے لیے صبر سے کام لینے کی ضرورت ھے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *