قرآن حکیم پر ایک عظیم تحقیقی کام اور سائنسی ایجادات!

ata-ulhaq-qasmi-1

گزشتہ ہفتے مجھے ایک میرون رنگ کا بہت بڑا کاٹن خالد شریف کی طرف سے موصول ہوا، خوشی سے میری باچھیں کھل گئیں کہ میرے دیرینہ دوست نے بیرون ملک سے آمد کے بعد مجھے کچھ تحائف ارسال کئے ہیں، میں نے وہ کاٹن کھولے بغیر خالد کو فون کیا اور کہا ’’یا شیخ (یہ عربی والا شیخ تھا) میں تمہاری محبتوں کا قائل ہوں مگر اتنے تکلف کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ جس پر خالد نے کہا کہ ’’جو تحائف تم سمجھ رہے ہو‘‘ وہ پھر کبھی سہی، مگر یہ تحفہ انمول ہے جو میں نے ارسال کیا ہے۔ جس پر میں نے اس انمول تحفہ کا کاٹن کھولا اور میں نے دیکھا خالد صحیح کہتا تھا۔ یہ واقعی ایک انمول تحفہ تھا جو موضوعات قرآن کا انسائیکلوپیڈیا تھا اور ہزار ہزار صفحات پر مشتمل سات جلدوں پر مشتمل تھا۔ یعنی یہ قریباً سات ہزار صفحات تھے جو اعلیٰ درجے کے کاغذ اور بہترین طباعت کے جلو میں شائع کئے گئے تھے۔ یہ 1800 سے زائد موضوعات سے متعلق آیات قرآنی کا ایک جامع انتخاب ہے جو انگریزی اور اردو ترجمہ پر مشتمل ہے۔ صفحے کے ایک طرف عربی کی قرآنی آیت ہے۔ اس کے ساتھ ڈاکٹر ماریا ڈیوک پیکتھال کا انگریزی ترجمہ اور اس کے برابر ہی میں مولینا فتح محمد جالندھری کا اردو ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ گرانقدر علمی اور تحقیقی کام جناب سعید الظفر صدیقی نے انجام دیا ہے اور خالد شریف کی نگرانی میں اس کے پبلشر بھی خود سعید الظفر صدیقی صاحب ہیں جنہوں نے ایک بہت بڑا کرم یہ بھی کیا ہے کہ سات ہزار اعلیٰ درجے کے صفحات پر مشتمل اس مجلد سیٹ کی قیمت صرف سات ہزار روپے رکھی ہے۔ یہ قیمت اتنی کم ہے کہ مولف کو منافع صرف ثواب ہی کی صورت میں ملے گا۔
ایک بات تو ظاہر ہے کہ میرے لئے اتنے کم وقت میں یہ سات جلدیں پڑھنا ممکن نہیں تھا، بس درمیان درمیان میں صفحات الٹ پلٹ کر پڑھتا رہا اور میں نے محسوس کیا کہ قرآن کے طالب علموں کے لئے اس تالیف کی صورت میں ایک بہت بڑی سہولت مہیا کردی۔ جناب سعید الظفر صدیقی نے سات ہزار صفحات میں اسلامی قوانین، اسلامی معاشرت، معیشت، تہذیب و تمدن، سیاسیات، سماجیات، عمرانیات، جرم و سزا، قوانین حدود، بین الاقوامی معاملات، عقائد، عبادات، اخلاقیات، معاملات اور اس کے علاوہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق قرآنی آیت متذکرہ موضوعات کے کالموں میں یک جا کر دی ہیں اور یوں اب میرا جیسا ان پڑھ شخص بھی کسی معاملے میں قرآن سے رہنمائی حاصل کرنا چاہے تو وہ بہت آسانی کے ساتھ اس موضوع والےصفحات کھولے گا اور رہنمائی حاصل کرسکے گا۔ اگرچہ اس حوالے سے پہلے بھی کچھ اشاریئے شائع ہوئے ہیں جو میری نظروں سے گزرے ہیں لیکن صدیقی صاحب ایسے صاحب علم کی یہ تالیف مجھے ان سب کے مقابلے میں زیادہ جامع اور زیادہ آسان نظر آئی ہے۔ میں نے آزمائش کے لئے ایک دو موضوعات ذہن میں رکھ کر اس انسائیکلوپیڈیا کی طرف رجوع کیا تو چند منٹوں میں وہ آیات اور ان کا انگریزی اور اردو ترجمہ میرے سامنے آگئیں۔ جن میں میرے سوالوں کا جواب موجود تھا۔ صدیقی صاحب کو ایک کریڈٹ یہ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے ان سب افراد کو کریڈٹ دیا جن کے تعاون سے یہ عظیم کام پایہ تکمیل کوپہنچا۔ ورنہ یار لوگ تو تمام تر علمی یا ادبی کام ’’دہاڑی‘‘ پر کراتے ہیں اور اس پر بطور مصنف اپنا نام لکھ دیتے ہیں۔ ان علمی مزدوروں کا شکریہ صرف چند سو یا چند ہزار روپوں کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ کتاب میں ان کا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اب میں جو بات کہنے والا ہوں وہ کسی نقص کی نشاندہی نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے۔ جس کا مداوا مولف کے بس میں نہیں تھا۔ مثلاً یہی کہ کسی ایک موضوع کے بارے میں کوئی بات کسی دوسرے موضوع کے باب میں بھی ریپیٹ ہوگئی ہے، یعنی اگر آسمان و زمین کے بارے میں کچھ آیات کسی باب میں یکجا ہیں تو کسی دوسرے باب میں بھی آسمان و زمین کا ذکر آگیا ہے اور ایسا ہونا ہی ہوتا ہے کیونکہ کوئی بھی موضوع چند لفظیات تک محدود نہیں رہ سکتا۔البتہ مولف نے اپنے پیش لفظ میں ایک بات ایسی کہی ہے جس پر دو آرا ممکن ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے ’’قرآن کریم میں بیان کردہ حقائق اپنی صداقت کے لئے کسی سائنس کے محتاج نہیں، قرآن سے رہنمائی سائنس نے حاصل کرنی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے چلنا ہے۔ اگر سائنس کا کوئی نظریہ قرآن کے مطابق ہوتو وہ سچ ہوگا لیکن اگر کوئی سائنسی نظریہ قرآن کریم کے بیان کردہ حقائق سے متصادم ہو تو یہی سمجھا جائے گا کہ ابھی سائنس کو اس معاملے میں مزید تحقیق اور اصلاح کی ضرورت ہے‘‘ جبکہ میرے نزدیک قرآن مجید کوئی سائنسی کتاب نہیں۔ یہ وحی کی صورت میں ہماری زندگی کے مختلف شعبوں میں ہماری رہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔ اگر ہم بضد ہیں کہ نت نئی سائنسی ایجادات کے لئے ہمیں قرآن سے رہنمائی حاصل کرنا چاہئے تو گزشتہ چودہ سو برسوں میں ہم نے کوئی ایجاد کیوں نہیں کی جبکہ ہزاروں اسکالر قرآن مجید کا دقیق نظروں سے مطالعہ کرتے چلے آئے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ قرآن کوئی سائنسی علوم کی کتاب ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ اگر ہم قرآن کو سائنسی کتاب سمجھتے ہیں تو کوئی نیا سائنسی کلیہ سامنے لائیں اور اس کے بعد دنیا سے کہیں کہ یہ دیکھو ہم نے قرآن سے رہنمائی حاصل کر کے یہ سائنسی ایجاد کی ہے۔ یہ رویہ ٹھیک نہیں کہ سائنس دان ساری عمر لیبارٹریوں میں بیٹھ کر عرق ریزی کے بعد کوئی ایجاد سامنے لائیں اور ہم اسے اپنے کھاتے میں ڈال لیں۔ میرے نزدیک بات صرف قرآن کریم کی آیات کی انٹر پٹیشن پر منحصر ہے۔ مثلاً قرآن پاک میں جنت اور دوزخ کا جو احوال بیان کیا گیا ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے اس کی انٹرپٹیشن کرتے ہوئے اسے ایک ’’کیفیت‘‘ کا نام دیا ہے۔ چنانچہ وہ دوزخ سے یہ مکالمہ کہلواتے ہیں۔
اہل دنیا یہاں جو آتے ہیں
اپنے انگار ساتھ لاتے ہیں
خیر قطع نظر اس اختلافی نوٹ کے جناب سعید الظفر صدیقی نے موضوعات قرآنی کے انسائیکلوپیڈیا کی صورت میں جو کام کیا ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ضرورت ہے کہ حکومت تمام لائبریریوںمیں مکمل سیٹ رکھوائے اور صدیقی صاحب کو ریاستی سطح کے کسی ایوارڈ سے نوازا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *