مرحوم جنید جمشید بھائی سے ایک گذارش

سحر رضوان

sehar-rizwan

پیارے جنیدبھائی امید ہے جہ انتیائی کربناک موت کے بعد اب آپ خیریت سے ہونگے اور اللہ تعالیٰ کی کروڑ ہا نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہونگے۔ دنیا میں آپ سے ملاقات کا شرف نصیب نہ ہو سکا اور نہ ہی اب ، اگر اپنے اعمال کو دیکھوں تو ملاقات کا کوئی امکان نظر آتا ہے۔ اس بات کے پیش نظر سوچا آپ کے جانے کے بعد آپ کو دنیا میں پیش آنے والے حالات سے باخبر کروں۔
جنید بھائی آپ کی موت پرہر آنکھ اشکبار تھی اور پوری قوم نے اسے ایک قومی صدمے کے طرح محسوس کیا۔ جن حضرات سے کبھی آپ ملے بھی نہ ہونگے یا شاید کبھی سرسری سی ملاقات ہوئی ہو گی انہوں نے بھی آپ کے اعلیٰ کردار کی قسمیں کھا کھا کر پوری قوم کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ جیسے وہ آپ کے بہت قریبی ساتھی تھے بلکہ بعض تو اس حد تک بھی چلے گئے کہ انہوں نے آپ کو چترال جانے سے بہت منع کیا کیونکہ ان کی چھٹی حِس انہیں خبردار کر رہی تھی کہ کچھ برا ہونے والا ہے۔
جنید بھائی آپ کی موت کی سب سے بڑی کوریج ایک نجی چینل نے کی جس سے آپ وابستہ بھی تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے آپ کی زندگی، آپ کی خدمات اور آپ کی موت پر بھر پور نشریات چلائیں اور اپنی پوری کوشش کی کہ اس حادثے کے نہ ہونے کی صورت میں آپ کی ممکنہ باقی ماندہ زندگی سے جو آمدن ان کو ہونی تھی وہ آپ کی موت سے ہونے والی کمائی سے پوری کر سکیں اور اپنا خسارہ پورا کر سکیں۔ جنید بھائی اس سلسلے میں انہوں نے نرگس فخری اور مہوش حیات کی خدمات لیں اور یقین جانیے جب مہوش حیات 1500کا موبائل بیچنے کے لیے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی تو ایسے میں نیچے ٹکر میں آپ اور آپکی اہلیہ کی دردناک موت کا تذکرہ سمان باندھ دیتا تھا۔
جنید بھائی مزید یہ کہ وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر ن لیگ کے وزراء بھی دکھی تو بہت تھے اور اس سلسلے میں وہ اپنے جذبات کا کھل کر اظہار بھی کرنا چاہتے تھے اور طلال چوھدری اور عابد شیر علی تو باقاعدہ بین کر نا چاہتے تھے مگر پھر انہیں آپ کی دھرنے میں عمران خان کی حمایت کرنا یاد آجاتا اور بس پھر بات وہی رسمی جملوں یک محدود ہو جاتی۔

w

جنید بھائی مزید آپکو یہ بتانا تھا کہ کچھ سند یافتہ جاہلوں نے سوشل میڈیا پر آپ کی موت پر خوشیوں کا اظہار کیا اور آپ کی لاش کی شناخت نہ ہونے والی بات کو بطور دلیل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے طور پر پیش کیا۔ جنید بھائی آپ سے درخواست ہے کہ روزِ محشرجب وہ حضرات جہنم کی طرف ہانکے جا رہے ہوں تو ذرا کچھ دیر کے لئے ان کو شہید ہونے والے صحابہ کرام کے جسموں کی بھی زیارت کروائیے گا تاکہ ان کا ابہام دور ہو سکے۔
جنید بھائی باقی کی تفصیل یہ ہے کہ شام میں قیامت صغریٰ برپا تھی اور ہم یہاں بارہ ربیع الا وّل منا رہے تھے اور اس سلسلے میں آپ ہی کی نعتوں کا استعمال عروج پر تھا۔
جنید بھائی ایک بات اور آپ کے گوش گزار کرنی تھی کہ آپ کی اہلیہ کا شناختی کارڈ مل گیا تھا جس پر لگی تصویر دیکھ کر اندازہ ہوا کہ آپ کے فرمودات کے برخلاف آپ کے  ساتھ  کھلے بالوں والی عورت دراصل آپ کی بیوی تھی اور وہ آپ کی ذاتی زندگی کا ایک لمحہ تھا ۔ اس سلسلے میں بہت سے لوگ آپ سے معذرت خواہ ہیں اور آپ کو اس وقت آپ کی شان میں گالیوں کے انبار اکٹھے کیے تھے اب اس حرکت پر انتہائی نادم ہیں اور آپ سے درخواست ہے کہ ان کی معذرت قبول کریں۔
پس جنید بھائی دنیا کا نظام ویسے ہی چل رہا ہے ،مگر رانا طارق جمیل صاحب بہت دکھی ہو گئے ہیں۔ اللہ ان کو صبر عطا فرمائے اور آپ کے درجات مزید بلند کرے۔ وہان پر ہم غریبوں کا بھی خیال رکھیے گا اور کبھی موقع ملے تو اللہ سے درخواست کیجئے گا کہ پاکستان کے حال پر کچھ رحم فرمائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *