16 دسمبر کا دن

Afshan Huma

دن کا مطلب ہوتا ہے روشن پہر لیکن تاریخ میں کچھ دن ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے روشنی نہیں بلکہ گھٹا ٹوپ اندھیروں کا خیال آتا ہے۔ ان اندھیروں کا جن میں ہم میں سے بہت سے لوگ مستقل سفر کر رہے ہیں اور انہوں نے کبھی روشنی کو محسوس ہی نہیں کیا، اس لیے وہ جانتے بھی نہیں کہ روشنی کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں تو ہیں مگر وہ انہیں کھول نہیں پاتے کیونکہ ان پر نفرت اور شدت آمیز رویوں کی پٹی بندھی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے زہنوں کو اس اس حد تک آمادہ کر دیا گیا ہے کہ وہ معصومیت کو بھی اپنی بربیت کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔

انسان کب اس حد تک بے حس ہو جاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غصہ کیا ہے۔ جب آپ شدید غصہ کی حالت میں بھی ہوتے ہیں تو ایک نارمل شخص کی طرح آپ نے کبھی کسی کو جان سے مار دینے کا تو نہیں سوچا ہو گا۔ گھروں میں، کام پر یا راستے میں جب کوئی انتہائی نا پسندیدہ حرکت بھی کر گزرے تو آپ کبھی اس کی ہستی مٹا ڈالنے کا تو نہیں سوچتے ہوں گے۔ آپ کی اپنے ہمسائے سے قطعا" نہ بنتی ہو تو بھی آپ اس کا اپنے گھر کے آگے سے گزرنا تو بند نہیں کر دیتے۔

ایک عام انسان جن لوگوںسے شدید اختلاف بھی رکھتا ہے ان سے بھی قطع تعلق کر سکتا ہے لیکن ان کا وجود ختم کرنے کا نہیں سوچتا۔ ایک عام رویہ یہ بھی ہے کہ آپ کے مطابق برے سے برے انسان کے کبھی نہ کبھی سدھر جانے کی امید رہتی ہے۔ اور آپ کا خیال ہوتا ہے کہ ایک نہ ایک دن اس کوآپ کا نقطئہ نظر سمجھ میں آ ہی جائے گا، لیکن آپ کبھی بھی یہ تو نہیں سوچ سکتے کہ اگر اس کو آپ کی منطق سمجھ میں نہ آئی تو آپ اس سے جینے کا حق چھین لیں گے۔

آپ کو اپنی زندگی خّشگوار رکھنا اچھا لگتا ہے اور آپ کو ارد گرد کے لوگوں کی زندگی میں بھی خوشی کی وجہ بننا ایک اطمینان بخشتا ہے۔ آپ کو اپنے رشتہ دار عزیز و اقارب اور دوست احباب کے ہونے سے اس بات کا احساس رہتا ہے کہ دنیا میں انسان کی خوشی کا باعث دوسے انسان ہی ہوا کرتے ہیں۔ آپ جہاں رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں وہاں اگر کوئی شخص ناخوش ہو تو آپ اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے حلقہ احباب کے علاوہ بھی آپ کسی بھی صورت یہ نہیں سوچتے کہ جو میرا دوست نہیں ہے یا جس سے میرا تعلق واسطہ نہیں اسے خوش رہنے کا بھی حق نہیں ہے۔

آپ جس معشرے میں رہتے ہیں اس میں لین دین کے معاملات بھی کرتے ہیں۔ کبھی کوئی آپ کے لیے نفع کا باعث بنتا ہے اور بعض اوقات کسی دوسرے کی غلطی سے بھی آپ کا نقصان ہو جاتا ہے۔ اگروہ آپ کا نْقصان بھر دے یا نہ بھی بھرے تو بھی آپ اس نقصان کے بدلے میں اس کے جانی دشمن نہیں بنتے۔ آپ اس سے تقاضہ کر سکتے ہیں، قانونی چارہ جوئی کرتے ہیں لیکن کبھی بھی اس کو جانی یا مالی نقصان پہنچانے کی دھمکی نہیں دیتے۔

مہذب معاشروں کی پہچان یہ نہیں ہے کہ وہاں سب بہت خوشحال ہوتے ہیں بلکہ اصل تہزیب یہ ہے کہ ان معاشروں کے افراد ایک دوسرے سے جینے کا حق نہیں چھینتے۔ وہ اپنے علاوہ بھی تمام لوگوں کو اپنے ہی جیسا انسان سمجھتے اور اپنے ہی جتنا جینے کا حق دیتے ہیں۔ بقول اشفاق احمد کے اس ملک پر آپ کا صرف ایک بٹہ آٹھارہ کروڑ حق ہے۔ یعنی آپ جہاں رہتے ہیں وہاں رہنے والے لوگوں کو اپنے ارد گرد کے تمام ماحول میں شراکت دار سمجھیے۔

 دو سال قبل اسی روز دیشت گردوں کے ایک گروہ نے آرمی پبلک سکول پشاور میں گھس کر بچوں اور اساتزہ کا قتل عام کیا۔۔۔میں گزشتہ دو برس سے یہ سوچ سوچ کر پریشان رہتی ہوں کہ یہ کون لوگ تھے جن کے زہن اور دل نفرت کی اس حد پر جا چکے تھے کہ انہیں اپنے سامنے موجود معصومیت کو قتل کرے ہوئے اپنے انسانیت سے گر چکنے کا احساس تک نہیں ہوا۔ میں جب بھی دہشت گردی کا لفظ سنتی ہوں تو میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتی رہ جاتی ہوں کہ یہ ایک انسانی رویہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ وحشت اور درندگی انسانیت کے مقام سے بہت نیچے ہے۔ یہ انسان کہاں کیوں اور کیسے پروان چڑھا ہو گا۔ اس کی زہنی پسماندگی کا یہ عالم کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ یہ سوچ میرا دل و دماغ سن کر دینے کے لیے کافی ہے اور مجھے ان تعلیم یافتہ لوگوں سے بھی پوچھنا ہے جو اس انسانیت سوزی کے عزر بیان کرتے ہیں  کہ کیا وہ اپنی اولادوں کو بھی یہ تربیت دیں گے کہ نفرت میں تمام حدود سے گزر جانا چاہیے؟؟؟ اگر نہیں تو خدارا اپنے آس پاس پنپنے والی نفرتوں کو روکیے نہ کہ ان کا عزر پیش کر کے ان کو بڑھاوا دیجئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *