اسلامی فوبیا کی وجوہات

عرفان حسینIrfan Hussain

برطانیہ میں کیے جانے والے ایک حالیہ سروے میں سوال پوچھا گیا،’آبادی میں مسلمانوں کا تناسب کیا ہے؟‘ تو ملنے والے جوابات کا اوسط تھا کہ برطانوی معاشرے میں مسلمانوں کی تعداد اکیس فیصد ہے۔ اصل تعداد صرف پانچ فیصد ہے۔ امریکہ میں یہ لاعلمی اس سے بھی شدید ہے۔ وہاں لوگوں کے خیال میں امریکہ میں مسلمان آباد ی کا پندرہ فیصد ہیں جبکہ اصل تعداد صرف ایک فیصد ہے۔ فرانسیسی افراد نے تو حد ہی کردی۔ وہ سوچتے ہیں کہ فرانس میں مسلمان آبادی کا اکتیس فیصد ہیں جبکہ وہاں مسلمان آبادی کا صرف اٹھ فیصد ہیں۔
مغربی معاشروں میں رہنے والے لوگ مسلمانوں کی تعداد کے بارے میں مبالغے کا شکار کیوں ہیں؟جب انہی افراد سے دیگر سوالات کیے جاتے ہیں ، جیسا کہ ان کے معاشرے میں تارکین ،وطن کی اوسط، تو اُن کا جواب حقیقی اعداد و شمار سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا لیکن مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ لگانے میں وہ اتنی غلطی کیوں کرگئے؟اس کا مطلب ہے کہ کسی شخص کے ذہن میں مسلمانوں کی تعداد کا تاثر جتنا زیادہ ہوگا، وہ اتنا ہی ان کی موجودگی سے خائف رہے گا۔ گزشتہ کئی سالوں سے بہت سے عوامل نے مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثرات اور تعصبات کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ مغرب میں مسلمان آبادی خود کو بہت نمایاں کرکے رکھتی ہے۔ ان کی خواتین روایتی لباس پہنتی ہیں جبکہ اُن میں سے بہت سوں نے حجاب یا کم از کم سرپر ڈوپٹہ لیا ہوتا ہے۔ آدمیوں میں سے اکثر کی داڑھی ہوتی ہے۔ اس طرح وہ معاشر ے میں دوسرے مذاہب یا عقائد سے تعلق رکھنے والو ں میں سب سے نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ دیگر اقوام اپنی مذہبی شناخت کو نمایاں کرنے کی شعوری کوشش نہیں کرتیں۔
لباس کے علاوہ مسلمان آبادی عام طور پرمغرب کی سماجی اور ثقافتی زندگی سے دور رہتی ہے۔ وہ اپنے ؍اپنی دوستوں کے ساتھ کلبوں اور باررومز میں نہیں جاتے اور حلال گوشت کے لیے اصرار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ میڈیا میں مسلمان خاندانوں میں زبردستی کی شادی یا عزت کے نام پر قتل کیے جانے کے واقعات گردش میں رہتے ہیں۔کم سنی کی شادی کے واقعات بھی عام ملتے ہیں۔ سلمان رشدی کے خلاف دیے جانے والے قتل کے مشہور فتوے اور ڈنمارک کے ایک اخبار کی طرف سے توہین آمیز کارٹون شائع کیے جانے پر دنیا بھر میں کیے جانے والے پرتشدد مظاہروں جیسے واقعات کے نتیجے میں مسلمانوں کو سخت گیر اور تشدد پسند افراد سمجھا جاتا ہے جو اپنے عقیدے پر ہلکی سی تنقید بھی برداشت نہیں کر سکتے چاہے یہ فکشن کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے علاوہ اسلامی ممالک میں توہین کے قوانین کے تحت غیر مسلموں کو دی جانے والے سزاؤں کی وجہ سے بھی مسلمانوں کو عدم برداشت کی حامل قوم سمجھا جاتا ہے۔
برطانوی شہری اُس وقت سخت صدمے سے دوچار ہوئے جب ایک 70 سالہ برطانوی شہری ، محمد اصغر، جو دماغی امراض میں مبتلا تھا، کو توہین کے کیس میں سزائے موت سنادی گئی۔ ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اس کی بیٹی نے شدید غم وغصے کے عالم میں بتایا کہ اُس کے باپ کو جیل میں ، جبکہ وہ قید میں تھے، گولی مار دی گئی۔ برطانیہ میں مسلمانوں کے امیج کو اُس بھی شدید دھچکا لگا جب یہ خبر سامنے آئی کہ مسلمان نوجوانوں کا ایک گروہ، جن میں سے زیادہ ترکا تعلق پاکستان سے تھا، کئی سالوں کم عمر بے سہارا سفید فام لڑکیوں کو بظاہر ہمدردی کی آڑ میں درندگی کا نشانہ بنارہا تھا۔اگرچہ یہاں نافذ سخت قوانین اور سیاسی اقدارکی وجہ سے ان افراد کے مسلمان یا پاکستانی ہونے کو نہیں اچھالا گیالیکن روتھر ہام( Rotherham )اورراک ڈیل(Rochdale )میں پیش آنے والے واقعات میں یہی لوگ ملوث تھے۔ روتھرہام کی یونائیٹڈ کلچرل سنٹر کی ڈائریکٹر پروین قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح مسلمان آباد ی سے تعلق رکھنے والے افراد ان نوجوانوں کے گھناؤنے افعال کے بارے میں جاننے کے باوجود پولیس کے پاس نہیں گئے اور اپنی زبان بند رکھی۔ اس اسکینڈل نے برطانیہ کو ہلا کررکھ دیا۔ شہری اُس وقت سخت صدے میں غصے میں تھے جب پتہ چلا کہ گزشتہ سولا سال کے دوران مسلمان آدمیوں نے 1,400 سفید فام کم سن لڑکیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا ۔
لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکنِ پارلیمنٹ، این کفی(Ann Coffey)، جو کہ ایک سماجی کارکن بھی ہیں، نے ایک رپورٹ تیار کرتے ہوئے گریٹر مانچسٹر میں پیش آنے والے واقعات کو ’’سماجی معمول ‘‘ کا نام دیا۔ اس رپورٹ میں پولیس، والدین اور سماجی کارکنوں سے انٹرویو لیا گیا۔ اس انکشاف پر کہ یہ ایک ملک گیر مسلہ ہے ، اب پولیس نے گرفتاریاں کرنا شروع کی ہیں۔ اس سے پہلے پولیس ان الزامات کو سنجیدگی سے لینے سے قاصر رہی کیونکہ بہت سے کیسز میں یہ سوچا گیا کہ اس میں لڑکیوں کی مرضی بھی شامل ہوسکتی ہے... جیسا کہ ان کے لباس اور رویے کا حوالہ دیا گیا تھا۔ شکار ہونے والی اکثر لڑکیاں پناہ میں تھیں لیکن اُن کو پناہ دینے والے ان کی ابتلا سے بے خبر رہے۔ کچھ لڑکیوں، جن میں سے اکثر کی عمر بمشکل بارہ سال بھی نہیں تھی، کو تحفے تحائف دے کر روغلایا گیا ۔ بے شک بہت سے غیر مسلم بھی ایسے ہی گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ہیں لیکن عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ مسلمان، خاص طور پر پاکستانی نوجوان، ہیں جو چھوٹی عمر کی لڑکیوں کاہمدردی کی آڑ میں شکار کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ برطانوی معاشرے میں دھشت گردی کا خطرہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ شاید ہی کوئی مہینہ گزرتا ہو جب دھشت گردی کی کوئی سازش نہ پکڑی جاتی ہو۔اس وقت یہاں سب سے بڑی تشویش کا باعث وہ لڑکے ہیں جواسلامی انتہاپسند گروہوں ، جیسا کہ النصرا، کے ہتھے چڑھ کر شام میں داعش کی صفوں میں شامل ہوکر جہاد کررہے ہیں۔ اگروہ جہاد آزما لڑکے زندہ بچ کر واپس برطانیہ آگئے تو کیا ہوگا؟ یہ سوچ یہاں راتوں کی نیند اُڑا دینے کے کافی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والے واقعات بھی اسلامی فوبیا بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جب داعش نے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے دو فلاحی کارکنوں کے سرقلم کرکے ان کی ویڈیوز جاری کیں تو تمام برطانیہ میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ اگرچہ بہت سے مسلمان علما نے ان واقعات کی مذمت کی لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ سینکڑوں مسلمان نوجوان انہی جہادیوں کی صفوں میں شامل ہوکر دیگر معاشروں کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔ اس سے مغربی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف تعصب پیدا ہونے پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
یہ تمام واقعات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خوف ، غصے ، نفرت اور تعصب کے ملے جلے جذبات نے برطانیہ میں مسلمانوں کا ایک منفی تاثر ابھارا ہے۔ فرانس اور ہالینڈ میں معاملات اس سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔ وہاں مسلمان کے لباس کے خلاف قانون سازی دیکھنے میں آئی ۔ ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں یہ رجحان بڑھے گا۔ آہستہ آہستہ اسلام مخالف ویڈیوز کو مقامی معاشروں میں حمایت ملنا شروع ہوگئی ہے۔ Bat Ye\'Or کا Eurabia کا تصور دائیں بازوکے حلقوں میں مقبول ہوتا جارہا ہے۔ ڈچ سیاست دان گریٹ وائلڈرز کی اسلام مخالف تنقیدسننے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، اگرچہ برطانیہ میں لبرل اوربرداشت کی سوچ رکھنے والی اکثریت نے فرانس کی طرح کے اسلام فوبیا کو پھیلنے سے روک لیا ہے لیکن کب تک؟مسلمان آبادی پر لگا ہوا سوالیہ نشان کب اور کیسے مٹے گا یا یہ مزید گہرا ہوتا جائے گا؟

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *