کیا بنگلہ دیش اب بھی پاکستان ہے؟

بشکریہ :طاہر مہدی

tahir-mehdi

بہت سے پاکستانی بنگلہ دیش کو اب بھی پاکستان سمجھنے کی غلطی پر ہیں۔ وہ 1971 کے معاملے کو ایک چال سمجھتے ہیں ۔ یہ چال ہو سکتی ہے لیکن کس کی اور کس کے خلاف؟ بنگالی کیا چاہتے تھے؟ کس چیز نے پاکستان کو تقسیم ہونے پر مجبور کیا؟ یہ آرٹیکل چار حصوں پر مشتمل ہے جس کا یہ پہلا حصہ ہے۔

1947 میں پاکستان قرار دیے جانے والے علاقے برطانیہ کے تحت تھے۔ بنگال، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخواہ ایسے صوبے تھے جن کی منتخب شدہ اسمبلیاں موجود تھیں۔ بلوچستان پر ایک کمیشنر کا راج تھا۔ قبائلی علاقے سیاسی ایجنٹوں کے تحت تھے اور کچھ ریاستیں راجاوں کے تحت چل رہی تھیں۔ یہ ریاستیں مختلف سائز کی تھیں۔ امب نامی ریاست اتنی چھوٹی تھی کہ تربیلا ڈیم میں ڈوب گئی۔ بہاولپور ریاست بہت بڑی تھی جو آج پنجاب کے تین ڈسٹرکٹ میں منقسم ہے۔ بلوچ ریاستوں میں آبادی بہت کم ہوا کرتی تھی۔ پنجاب کی آبادی بہت زیادہ تھی۔ لیکن پھر بھی ہر علاقے کو ریاست کا درجہ حاصل تھا ۔

یہ مسئلہ 1947 سے ہی شروع ہو چکا تھا۔ 14 اگست کو نئے ملک کے سیاستدانوں کو ایک سسٹم متعارف کروانا تھا۔ انہیں مل کی ایک خوشحال ملک کی بنیاد رکھنی تھی۔ لیکن جب وہ اس کے لیے فارمولا ڈھونڈنے بیٹھے تو طاقت کی تقسیم کے معاملے میں اختلافات پھوٹنے لگے۔ بنگالی تعداد میں باقی سب برادریوں سے زیادہ تھے اور ڈیموکریسی میں انہیں کوئی اپنے مطالبات منوانے سے روک نہیں سکتا تھا۔ اب وہ یہ بات برداشت نہیں کر پا رہے تھے کہ وہ پورے جنوبی ایشیا میں ایک نئی اسلامی ریاست کا جھنڈا اٹھائے پھریں۔ کالے رنگ کےبنگالی جن کی زبان اور کلچر ہندو کلچر سے ملتی جلتی تھی کو مغربی علاقے کے مسلمان ایک آنکھ نہیں بہاتے تھے اور وہ ان کی ماتحتی میں رہنا نہیں چاہتے تھے۔ یہ پہلی کراس روڈ تھی جو ہمارے ملک کو پیش آئی۔ اگر جمہوری طریقہ اختیار کیا گیا تو اسلامی مغربی پاکستان کے مسلمان اسلامی روایات کو زندہ کرتے ہوئے ماضی کی شان واپس حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ اس مقصد کے کیے کوئی غیر جمہوری طریقہ اختیار کرنا ضروری تھا۔

اقتدار کے مالکان نے فیصلہ کیا کہ ایسا نظام متعارف کروایا جائےجس سے جمہوریت کے متبادل کوئی طریقہ ہو جس میں قومی مفاد کو باقی ہر چیز پر ترجیح دی جا سکے اور یہ ثابت کیا جا سکے کہ مغربی جمہوریت پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ ایک ممتاز شخصیت نے پاکستان کو جمہوریت کی طرف سے پیش کردہ مشکلات سے باخبر کر دیا تھا۔ جب قرار داد مقاصد منظوری کے لیے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی تو اس میں تجویز دی گئی کہ وفاق میں نمائندگی دی جائے اور قانون ساز اسمبلی کو دو حصوں پر مشتمل کیا جائے ۔ کمیٹی نے اس بارے میں کوئی سفارش نہیں کی کہ صوبوں کو وفاقی اسمبلی میں کیسے نمائندگی دی جائے جب کہ قومی اسمبلی کے ممبران تو براہ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے تھے۔ بنگالیوں کو اسمبلی میں آدھی سیٹوں کو پیشکش کی گئی لیکن وہ نہ مانے۔ اس سے معاملات بہت الجھن کا شکار ہونے لگے۔

ناظم الدین نے البتہ کچھ واضح سفارشات مرتب کیں۔ جب انہوں نے دوسرا ڈرافٹ پیش کیا تو اس میں ۱۲۰ سیٹیں یونٹس کی جب کہ ۴۰۰ سیٹیں عوامی نمائندوں کی تھیں۔ دونوں میں سے آدھی سیٹیں بنگالیوں کے لیے مختص کی گئیں اور مغربی پاکستان کی ۹ سیٹیں ہر صوبے کو اس کی آبادی کے لحاظ سے نمائندگی دینے کے لیے رکھی گئیں۔ لیکن سیٹوں کی تقسیم کے لحاظ سے یہ معاملہ مشرقی پاکستان میں اختیار نہ کیا گیا۔ اس ڈرافٹ کو پرنسپل آف پیرٹی کا نام دیا گیا۔ اسطرح پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا، مشرقی پاکستا ن اور مغربی پاکستان۔ کل 9 یونٹ بنائے گئے اور دونوں حصوں کو برابر نمائندگی دی گئی۔ بنگالیوں کو یہ ڈرافٹ بھی اچھا نہ لگا اور اس لیے یہ مسترد کر دیا گیا۔

اگلے وزیر اعظم محمد علی بوگرا نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک نئے اور عجیب ایجنڈا کے ساتھ پیش ہوئے۔ اکتوبر 1954 میں انہوں نے تیسرا ڈرافت پیش کیا جس نے مغربی پاکستان کے 9 یونٹس کو 4 گروپس میں تقسیم کر دیا گیا اور پانچواں یونٹ بنگال کو یونٹ ہاوس میں دس سیٹوں کی پیشکش کی گئی۔ 300 سیٹوں میں پاکستان کے دونوں حصوں کو آبادی کے لحاظ سےنمائندگی کی پیشکش کی گئی۔ اس طرح ایسٹ بنگال کو ہاوس آف پیپل میں اکثریت دی گئی لیکن ہاوس آف یونٹس میں اس کو 50 میں سے 10 سیٹیں دی گئیں۔ تمام قوانین دونوں ہاوسز سے منظور ہونے تھے اور اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ اجلاس بلایا جانا تھا جس میں 350 ممبران شریک ہوں۔ اس تجویز میں دونوں حصوں کی جیت تھی ۔ لیکن اقتدار کے مالکان کو یہ پسند نہ آیا۔ قانون ساز اسمبلی میں تو یہ منظور ہو گیا اور ایک ٹیم کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ آئین تیار کرے۔ گورنر جنرل ذغلام محمد نے اسی دوران حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اسمبلی توڑ دی۔

پہلی بار عدلیہ نے آگے بڑھ کر نظریہ ضرورت کے تحت غیر جمہوری قدم اٹھایا۔ نئی قانون ساز اسمبلی قائم کرنے میں گورنر جنرل کو ایک سال لگ گیا۔ یہ اسمبلی پرنسپل آف پیرٹی کی حامی تھی ۔ نئی اسمبلی نے 9 یونٹس کو اکٹھا کیا اور ایک صوبہ قرار دیا جسے مغربی پاکستان کا نام دیا گیا۔ اس سے پیرٹی کے معاملے کو ایک قانونی حیثیت ملی اور دونوں حصوں کو برابر نمائندگی دی گئی۔ اسٹیبلشمنٹ نے واضح کر دیا کہ مساوات کے علاوہ یہ کوئی چیز قبول نہیں کرے گی۔

اس لیے 1956 میں لائے گئے آئین کے مطابق نیشنل اسمبلی میں 300 ممبران تھے جن میں 150 مشرقی پاکستا ن اور اتنے ہی مغربی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔ بنگالیوں کو جمہوریت پر اعتماد تھا لیکن پاکستان پر نہیں۔ پہلی اسمبلی الیکشن کا انعقاد نہ کروا سکی۔ ہر کسی کو پتہ تھا کہ مغربی پاکستان کی طرف سے دیے گئے انتخابی نظام میں دھاندلی ہو گی۔ جنرل ایوب نے سوچا کہ طاقت کا استعمال ہی صحیح حل ہے اس لیے وہ اقتدا ر پر قابض ہو گئے۔ انہوں نے ملک کو گن پوائنٹ پر یکجا کیا۔ ایک دھائی کے بعد جب انہوں نے گن ہٹانے کا فیصلہ کیا تو جنرل یحیی خان نے ڈائریکٹ الیکشنز کے انعقاد کی حامی بھری اور ایسی اسمبلی منتخب کرنے کا فیصلہ کیا جو آئین بنائے گی۔ انہوں نے لیگل فریم ورک آرڈر پیش کیا جس میں ایسٹ بنگال سے 162 ممبران جب کہ کل ممبران 300 ہوتے اور اسطرح بنگالیوں کے مطالبات کو تسلیم کر لیا۔ لیکن وہ بہت لیٹ ہو چکے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *