اکٹھے رہیں،خوش رہیں، کرسمس مبارک!

inspecter

میں ماموں کانجن میں ایس ایچ او تعینات تھا۔ اس تعیناتی کے دوران ایک بہت کریہہ اور غیر انسانی واردات سے میرا سامنا ہوا ۔ ایک پانچ سال کی بچی کی پھولی ہوئی لاش ایک گٹر سے ملی یہ گٹر سول ہسپتال کے بالکل سامنے آبادی میں تھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد یہ روح فرسا حقیقت سامنے آئی کہ بچی کو قتل سے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بے دردی کا عالم یہ تھا کہ بچی کی پسلیاں تک اپنی جگہ چھوڑ چکی تھیں۔ ایسی وارداتوں کے موقع پر جانا خود کسی ایس ایچ او کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے ۔ بشرطیکہ وہ اعصاب کا اتنا ہی مضبوط ہو جتنا یہ محکمہ اس سے ڈیمانڈ کرتا ہے ۔ میں نے بھی خدا کو ضامن گردان کر تہیہ کیا کہ اس قاتل کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہے ۔ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ یا تو کسی اوڈھ کا کام ہے یا پھر اس میں کوئی عیسائی ملوث ہے۔ میرے لئے یہ بہت اچھنبے کی بات تھی کہ یہ کیوں ضروری ہے کہ اس میں کوئی عیسائی ہی ملوث ہو ؟

میں عیسائی کمیونٹی کو تب سے جانتا ہوں جب ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ہر گھر میں باتھ روم کی صفائی کے لئے عیسائی آتے تھے۔ پھر میری نوکری اور میرے والد صاحب کی نوکری کی بنا پر شراب کے پرمٹوں اور پکڑ دھکڑ کی وجہ سے کئی عیسائی حضرات سے واقفیت ہوئی ۔ گھر میں باتھ روم کی صفائی کرنے والوں سے لے کر شراب بیچنے والے عیسائیوں سے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے۔ کرسمس کے دنوں میں گھر کی صفائی والے ہم سے اپنی عید لیتے رہے اور کرسمس کے دنوں میں دوسری طرز کے عیسائی ہمارے گھروں میں کیک اور مٹھائیاں بیچتے رہے۔ وہ جو بھی کام کرتے رہے وہ انکی اپنی مرضی تھی۔ لیکن کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ غیر ملکی ہیں یا کسی بھی طور پر ہمارے ملک کے شہری نہیں ہیں۔ متذکرہ بالا بچی کے کیس میں قاتل اس طور پکڑا گیا کہ میں نے بچی کی حالت دیکھ کر اخذ کیا کہ جس نے بھی یہ حیوانیت کی ہے ظاہر ہے اس کی قمیض کے دامن پر اس بدنصیب ذبح ہوتی بچی کے خون کے چھینٹے شائد پڑے ہوں گے۔ میں نے خفیہ طور پر سول ہسپتال کے اردگرد دھوبی جنہوں نے وہاں دکانیں بنائی ہوئی تھیں کو بلوایا اور ان سے پوچھا تو ایک نے ایسی قمیض کے بارے میں بتایا میں نے پوچھا کہ تم نے کسی پولیس والے کو کیوں نہیں بتایا تو اس نے کہا کہ متعلقہ بندہ پوسٹ مارٹم کرتا ہے میں نے سوچا کہ شائد وہاں سے خون کے چھینٹے پڑے ہوں گے۔ ظاہر ہے ایک دھوبی کے ذہن میں تو یہ نہیں آ سکتا کہ بندہ مر جائے تو اس کے بدن سے خون کبھی بھی فوارے کی صورت میں نہیں اچھلتا۔ اب شومئی قسمت دیکھئے کہ جب وہ بندہ گرفتار ہوا تو وہ واقعی عیسائی تھا۔ عام آدمی جن کے ذہن میں آگے ہی یہ مسئلہ کلبلا رہا تھا ۔ وہ تو شائد اس بات پر قائل ہوئے ہوں گے کہ اس طرح کی حرکات میں اوڈھ یا عیسائی ہی ملوث ہوتے ہیں ۔ لیکن ان لوگوں کی دلیلوں سے میں پھر بھی اس مفروضے کو حقیقت تسلیم نہیں کر سکا ۔ میں نے بچی کے بیک گراؤنڈ کا معلوم کیا تو معلوم ہوا کہ بچی کی والدہ نے دوسری شادی کی ہوئی ہے اور اس بچی کا پرسان حال کوئی نہیں تھا۔ جن معصوموں کا پرسان حال دنیا میں کوئی نہیں ہوتا انہیں شائد خدا جلدی اپنے پاس بلا لیتا ہے ۔ بچی کا نام پری تھا لہذا وہ اب جنت کی پری ہو گی۔ میں دل سے سمجھتا ہوں کہ یسوع مسیح کی ساری بھیڑیں کالی نہیں ہو سکتیں ، ماں باپ کی نظر انداز کی ہوئی پری لوٹ کا مال تھا جسے راہ چلتا کوئی بھی راہزن لوٹ سکتا تھا۔

لیکن اتنی لمبی داستان سنانے کا مطلب یہ تھا کہ کیس کی تفتیش کے دوران عیسائی کمیونٹی اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد بھی کہ قتل اس عیسائی نے ہی کیا تھا۔ اس بات پر متفق رہی کہ رشوت دے کر ۔ سفارش کے پریشر سے اس قاتل کو بچانا ہے۔ کیونکہ وہ عیسائی ہے اور اس پوری تفتیش کے دوران میں سفارش کے لئے آنے والوں سے شدید نفرت کرتا رہا بالکل اسی طرح جیسے اگر یہ جرم کسی مسلمان نے کیا ہوتا اور اس کے پیچھے کوئی بشپ نہ آتا بلکہ کوئی مولوی آتا اور مجھے کہتا کہ یہ شخص اتنے بڑے جرم کے بعد اس لئے قابل معافی ہے کیونکہ یہ ہمارے مسلک سے تعلق رکھتا ہے ۔ کوئی مذہب انسانیت کے خلاف کئے گئے جرموں پر کسی کو استثنا نہیں دیتا۔ اللہ کا کرم ہوا وہ قاتل تو اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا لیکن ایک خلش میرے ذہن میں چھوڑ گیا۔

کچھ سالوں کے بعد عمر کے ساتھ تجربے کے ساتھ بہت سی چیزیں آپ پر آشکار ہونے لگتی ہیں۔میں نوے کی دہائی میں ایس ایچ او گڑھ مہاراجہ جھنگ تھا جو فیصل آباد سے  قریب 5/6 گھنٹے کی مسافت پر ہے ۔ میں جوان تھا ۔ میرا دل کرتا تھا کہ چھٹی پر فیصل آباد گھر جاؤں۔ اسی طرح ارمانوں سے میں دو دنوں کی چھٹی پر گھر پہنچا تو پیچھے سے پیغام آ گیا کہ چھٹی کینسل واپس آ جائیں کیونکہ تھانے کی حدود میں کسی قبضہ پر لڑائی ہوئی ہے  اور شیعہ سنی کا مسئلہ ہے ۔ میں ابھی اپنی بیوی کے ہاتھ کی چائے بھی نہیں پی سکا تھا ۔ اس چائے کی مجھے طلب بھی بہت تھی کیونکہ میری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ بہرکیف جلتا کڑھتا انہی پیروں پر میں واپس ہو گیا ۔ سارا راستہ سوچتا گیا کہ مجھے تو کسی ایسے متنازعہ معاملے کا علم نہیں تو پھر یہ واقعہ کہاں ہو گیا۔ خیر میں جب موقعہ پر گیا تو متنازعہ جگہ کو دیکھا جو شائد عام گھروں میں باتھ روم جتنی تھی۔ جس میں مکڑی کے جالے ہی جالے لگے ہوئے تھے۔ البتہ اس کے باہر ایک مذہبی بورڈ لگا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ اس چھوٹی جگہ کے لئے بیرون ملک سے چالیس ہزار روپیہ ماہانہ آتا ہے ۔ یہ بھی واضع ہو گیا کہ معاملہ شعیہ سنی کا نہیں تھا بلکہ ان میں سے کسی ایک فرقے سے تعلق رکھنے والے دو حریفوں کا تھا ۔ یہ معاملہ دیکھنے کے بعد مجھے ماموں کانجن والا کیس یاد آیا اور میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ شائد تب آنے والے عیسائی جو سفارش کے لئے آتے تھے ۔ ان کے پاس بھاری رشوت دینے کے لئے پیسہ کہاں آ سکتا تھا۔ حالانکہ قاتل تو اتنے پیسے افورڈ ہی نہیں کرتا تھا ۔

پھر گوجرہ والا واقعہ ہوا۔ اس وقوعہ کے ہونے سے پہلے میں مسلسل تین سال گوجرہ سٹی ایس ایچ او تھا۔ اور ان تین سال کی تعیناتی کے دوران ایک دن ایسا نہیں تھا جب مجھے کوئی ایمرجنسی ہوئی ہو اور مجھے ورزش چھوڑ کر گراؤنڈ سے آنا پڑا ہو مجھے دل چسپی تھی۔ میں بڑی شدت سے اس معرکے کو دیکھ رہا تھا ۔ پھر بے تحاشہ  وہ کارنامے یاد آگئے  جن میں آتش زدگیوں، لوٹ مار وغیرہ ہونے کے بعد صلح صفائی ہو گئی ۔ آتش زدگیاں کہاں ہوئیں؟غریبوں کے گھروں میں ۔ لوٹ مار کہاں ہوئی؟ ناداروں کے گھروں میں ۔ لیکن بیرون ملک اور وہ بھی یورپ میں سیاسی پناہ کس کو ملی؟ ان عیسائیوں کو جن کے نام ان کے نام نہاد نمائندگان نے بھجوائی ۔ مسلمانوں میں سے جنہوں نے پٹرول بم پھینکے وہ کبھی منظر عام پر نہیں آئے ۔ لیکن مجھے لکھنے میں عار نہیں کہ وہ پٹرول بم ان کی گرہ سے خریدے ہوئے نہیں تھے ۔ وہ نقاب پوش کدھر گئے؟ ضرور کسی اچھی جگہ پر ہوں گے ۔ وہ نقاب پوش کیوں تھے؟ظاہر ہے وہ گوجرہ کے نہیں تھے اور اپنی شناخت چھپانا چاہتے تھے۔

اب پھر کرسمس کی آمد آمد ہے ۔ پتا نہیں کس چرچ پر میری ڈیوٹی ہوگی۔ لیکن میں اس ڈٰیوٹی کو بھی اسی طرح لیتا ہوں جس طرح ہر وقت ہماری ڈیوٹیاں مساجد پر لگی ہوتی ہیں۔ اگر کوئی چرچ محفوظ نہیں تو کونسی کوئی مسجد محفوظ ہے ۔ پچھلے واقعات کے طرح مسجد میں دھماکہ ہوتا ہے تو عام عیسائیوں کے دل تڑپتے ہیں۔ کسی چرچ میں قتل عام ہوتا ہے تو عام مسلمان خون کے آنسو روتے ہیں ۔ نہیں معلوم ہوتا تو ان کے جذبات کا جو یہ قتل عام کرتے ہیں۔  لیکن اس سوال کا جواب کونسا مشکل ہے ۔ جواب سادہ سا ہے کہ جو یہ ظلم ڈھاتے ہیں ان کے جذبات ہوتے ہی نہیں ۔ ہوتے ہی نہیں تو پھر انکے بارے میں معلوم کیسے ہوگا۔ اب بھی وہی پاکستان ہے ۔ میرے گھر میں جو بوڑھی عورت کام کرنے آتی تھی ۔ وہ مجھے بیٹا اور میں اسے ماں کہتا ہوں اب وہ بیمار ہے تو اس کی بیٹیاں شانزے اور ارگس میرے گھر آتی ہیں اور ظاہر ہے میری بہنیں ہیں۔ عیسائیوں کا ایم پی اے قتل ہوتا ہے تو ایک پرسیپشن بنتی ہے لیکن بعد میں پتا چلتا ہے کہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے ۔

امید ہے اس دفعہ کرسمس کے موقعہ پر میرے گھر پھر کیک آئیں گے ۔ مجھے عام مسلمانوں شانزے اور ارگس اور عام عیسائیوں کو کوئی مغالطہ نہیں کہ ہم سب نے اپنی زندگیاں اکٹھے گذارنی ہیں ۔ مذہبی طور پر بھی یہ یسوع کی بھیڑوں کا مذہب ہمارے مذہب سے سب سے زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ تو خوش رہئیے ۔ اکٹھا رہئیے ۔ اور خوش رہئیے اور اکٹھا رہئیے تاکہ ہمیں علیحدہ کرنے والوں کی خواہش کرنے والوں کا منہ کالا ہو تو شعیہ سنی کع علیحدہ کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ پنجاب کو بلوچستان سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کا کیا ہے وہ پتا نہیں کیا چاہتے ہیں ۔ لیکن عام عیسائی اور عام مسلمان دل سے چاہتے ہیں کہ اکٹھے رہیں ، خوش رہیں ۔ کرسمس مبارک!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *