’تُم اِک گورکھ دھندہ ‘کے خالق ناز خیالوی

سلیم احسن

saleem-ahsan

ٓنصرت فتح علی خاں کی گائی ہوئی شہرہ آفاق قوا لی ’تُم اِک گورکھ دھندا ہو ‘کے خالق اور د نیائے تغزل و ترنگ کے شاعرِبا صفا جناب ناز خیالوی کی چو تھی برسی بھی گزر گئی(12 دسمبر( آہ! زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے! انہیں مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے مگر حقیقت تو یہی ہے کہ وہ اپنے’ قدر ناشناش قدردانوں ‘ کو چھوڑ چھاڑ کے جہانِ فانی کے اُس پار اپنے حقیقی قدردان وقدرشناش مہربان رب کے دامنِ رحمت و مغفرت میں پناہ لے چکے ہیں۔عجیب زندگی کی۔ عمر بھر مجرد رہے کہ طبیعت شادی شدہ زندگی کے جنجال سے بیزار تھی اس لئے خود کو شادی ’زدگی‘ سے محفوظ ہی رکھا۔بچوں سے فطری جزبہء محبت رکھتے تھے مگر اسکی تلافی خوبصورت اشعار کہہ کر کی۔کہا کرتے تھے کہ مجھے میرے شعر اپنے بچوں کی طرح پیار ے ہیں۔ریڈیو پاکستان فیصل آباد میں پرو گرام ہوتا تو وہاں سے ہو آتے،نہ ہوتا تو میرے آبائی شہر تاندلیانوالہ میں موجود ’حریمِ ناز‘ میں موجود رہتے۔بے تکلف انسان تھے،مادی وسائل جمع کرنے سے باضابطہ نفرت کرتے تھے۔
پوچھتے کیا ہو دنیا ہم درویشوں کی
ایک ہے کمبل ، ایک پیالہ ، ایک دیا
استادِ محترم کی وفات حسرتِ آیات سے چند روز قبل ہونے والی ملاقات میں میں نے استفسار کیا کہ اپنی زندگی کو کیسے دیکھتے ہیں،جواباْ فرمایا:
کہی کسے سے نہ رودادِ زندگی میں نے
گزار دینے کی شے تھی، گزار دی میں نے
شاعروادیب لوگ عجیب پراسرار سی شخصیات ہوتے ہیں، کبھی کبھی تو جو کہہ دیں و ہ سچ مچ وارد ہو جاتا ہے۔میری والدہ محترمہ نے میری ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی کہ علی الصبح ماموں جان کو ناشتہ دے کر آنا ہے۔ میں ناشتہ لئے حاضرِ خدمت ہوتا تو ناشتہ کرتے ہوئے مجھے اپنے پاس، بہت پاس بٹھاتے،رات میں کوئی تازہ کلام ہوا ہوتا تووہ سناتے۔کبھی کبھی کوئی خواب آ یا ہوتا تو وہ بھی سنا دیتے۔ایک دن کہنے لگے کہ چھیمی یار،مجھے عرفاْ اسی نام سے پکارتے تھے،رات ایک عجیب شعر سر زد ہوا ہے،عرض کیا،عطا ہو،فرمایا:
صرف اِک سانس کی مسافت ہے
قبر گھر سے زیادہ دور نہیں
اور چند روز بعد ہی عارضہء دِ ل میں مبتلا ہو کر میرے پاس لا کالج ہاسٹل،پنجاب یو نیورسٹی میں تشریف لے آئے کہ چلو ہسپتال لے چلو،دل گرفتہ ہو گیا ہوں،لگتا ہے اُس رات کو کہا وہ شعر وارد ہو گیا ہے۔
اپنی کم مائیگی و کم وسیلگی پہ پختہ یقین تھا۔اپنی وفات سے کئی سال پہلے کہا:
جو نکلا بعد مرنے کے میرے گھر سے یہ ساماں تھا
کسی کونے میں حسرت تھی، کسی کونے میں ارماں تھا
اور بعد مرنے کے کُل ترکہ بعینہ یہی تھا۔
بہت بڑے انٹیلیکچول تھے، دورِ موجود کے بڑے بڑوں سے بھی بڑے،تعلیم فقط انٹر میڈیٹ تک محدود مگر علم و ہنر’ لامحدود‘۔شاعری میں اردو اور پنجابی میں قلم کا برابر زور تھا۔ صرف شاعری ہی نہ کی، بہت اعلیٰ پائے کی نثر نگار بھی تھے۔میں نے کئی با ر انکی محفلوں میں پی۔ایچ۔ڈی سکالرز کو زانوئے تلمذ تہہ کرتے دیکھا۔

Related imageآپ کا فنی کیرئیر کم و بیش چالیس سال پہ محیط رہا۔او ا ئلِ جوانی میں رومانٹک مُوڈ غالب رہا
بہت سا پیار دینا چاہتا ہے
وہ مجھ کو مار دینا چاہتا ہے
ٖٖٖغنیمت جان اے دِل زخم کو بھی
نشانی یار دینا چاہتا ہے
عمر تھوڑی پختہ اور مشاہدہ سنِ بلوغت کو پہنچا تو معاشرتی سچائیوں کو یوں قیدِ بحر کیا
وہ جو دیکھے گا لہو تھوکتے منظر ہر سُو
ٖٖٖضبط کی حد سے مری طرح گزر جائے گا
مری آنکھیں کسی اندھے کو نہ دینا یارو
مِل گئی اُس کو جو بینائی تو مر جائے گا
زندگی سے شادکام نہ ہو سکے،طبیعت ذرا بے زارو بے قرار ہوئی تو فلسفیانہ و صوفیانہ رنگ چڑھ گیا اور اتنا چڑھا کہ ’تُم اِک گورکھ دھندا ہو‘ جیسا خوبصورت صوفیانہ کلام تخلیق کر ڈالا جسے نصرت فتح علی نے اپنے مخصوص رنگ میں گا کر امر کر دیا ہوا ہے۔آپ کی غزلیات کا مجموعہ بھی ’تُم اِک گورکھ دھندا ہو‘ کے ہی عُنوان سے بعد از وفات چھپ چکا ہے۔
کیونکہ جنابِ ناز خیالوی کا تعارف زیادہ تر اُن کی رس بھری غزلوں اور دلوں کے تار چھیڑتے نغموں کے حوالوں سے ہی چلا آ رہا ہے،آپ کے فن کا ایک بہت مبارک پہلو شائد دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔میری مراد آپ کی نعت گوئی ہے۔ چند نعتیں، کُل ملا کے شائد پانچ یا چھ،مگر کلا م ایسا کہ جس کے تذکرے سے طبیعت شاد، روح سرشار اور دِل با وضو ہواُٹھے۔
گُھل جاتی ہیں جب ساغرِ وجدان میں نعتیں
پھر کہتا ہوں آقاؐ ، میں تری شان میں نعتیں
آیات کو چوموں، کبھی اشعار پہ جھوموں
نعتوں میں ہے قرآن تو قرآن میں نعتیں
محفوظ ہوں میں اِس لئے ہر رنجِ سفر سے
رہتی ہیں ہمیشہ میرے سامان میں نعتیں
مسلم کا کبھی اسلام مکمل نہیں ہوتا
جب تک کہ نہ شامل کرے ایمان میں نعتیں
وہ بھاگ بھری دھی ہے، ہرے بخت ہیں اُس کے
بخشی ہیں جسے ماں باپ نے دان میں نعتیں
یہ سلسلہ جاری رہے توصیفِ نبی کا
بڑھتی رہیں یا رب، مرے دیوان میں نعتیں
اے نازشِ کونین یہ سب تیرا ہی کرم ہے
ورنہ تھیں کہاں ناز کے امکان میں نعتیں
میرا یقین ہے کہ ناز صاحب دنیا و آخرت میں خدا کے خاص فضل سے کامیاب ہو گئے۔کلمہء شہادت زبان پہ جاری تھا کہ جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔تدفین کے بعد میرے کزن جناب ماسٹر اسلم شاہد صاحب نے خواب میں دیکھا کہ ناز صاحب قبر میں لیٹے ہوئے ہیں، فرشتے حساب لینے آن موجود ہوتے ہیں،آپس میں گفتگو کر رہے ہیں،ایک فرشتہ کہتا ہے کہ اس بندے کو جہنم میں لے جایا جائے گا کیونکہ وہ سامنے دو بڑے بڑے رجسٹر اس کے گناہوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ دوسرا فرشتہ بولا،نہیں ایسا نہیں ہے،اُن رجسٹروں کے اُوپر وہ جو چند کاغذ پڑے ہیں وہ اس کی کہی ہوئی چند نعتیں ہیں جسکی وجہ سے اللہ پاک نے اسے بخش دیا ہے۔سبحان اللہ،اللہ بے نیاز ہے، وہ جسے چاہے، جس بہانے بھی چاہے، بخش دے۔
میں نے سینے میں مدینے کو بسا رکھا ہے
رشکِ فردوسِ بریں دل کو بنا رکھا ہے
اُن کے قدموں سے لپٹنے کی سعادت مل جائے
خود کو اِس واسطے راہوں میں بچھا رکھا ہے
مری ذات ہی کیا، بات ہی کیا، اوقات ہی کیا
ناز والے نے مجھے ناز بنا رکھا ہے
ؔ ؔ ؔ ؔ یہ تھے ناز اور یہ تھے سرکارِ دو عالم کے حضور اُن کے جذب و کیف بھرے گلہائے عقیدت ۔ اللہ غریقِ رحمت فرمائے۔ اگرچہ اردو فکاہی کالم کے آرٹ بکوالڈ جنابِ عطاالحق قاسمی جیسے قدر شناسانِ ناز نے اُس دُرویش کی پذیرائی کی مقدور بھر متعدد کوششیں کیں مگر جنگل میں جلتے اس چراغ سے زمانہ پوری طرح منور نہ ہو سکا تاہم اِ س تلمیذِ ناز کو پورا یقین ہے کہ ناز کے کہے یہ الفاظ زمانے سے اپنا آپ منوا کے رہیں گے اور آج نہیں تو کل زمانہ ناز کی ہم نوائی میں پکار اٹھے گا ؂
دورِ آئندہ میں پھر پلٹے گی تہذیبِ کہن
اگلے وقتوں میں جلیں گے، پچھلے وقتوں کے چراغ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *