دنیائے طب میں انقلاب لانے والے پاکستانی سائنس دان

sarfaraz khanنصف صدی قبل ایک پاکستانی لڑکے نےسستے ادویات کا خواب دیکھا تھا تاکہ غریب کو بھی وہی علاج میسر آجائے جو امیروں کاہوتا ہے، آج وہ امریکا میں اسے عملی جامہ پہنانے کی بھر پور کوشش کررہا ہے اور یہ کوئی عام سعی نہیں۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی ادویہ سازی میں انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ وجہ یہ کہ سرفراز انتہائی مہنگی مگر بہت مفید ادویہ کی سستی نقول بنانے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔
یہ 1995ء کی بات ہے جب ڈاکٹر سرفراز نیازی ماہر ادویہ ساز بن چکے تھے۔ انہیں احساس ہوا کہ مستقبل میں ’’حیاتی ادویہ‘‘ (biologics) انسانوں کے زیادہ کام آئیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ جراثیم جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے خود کو طاقتور بنانے لگے تھے اور کئی اینٹی بائیوٹک ادویہ انہیں مارنے میں ناکام رہی تھیں۔
اینٹی بائیوٹک اور دیگر کیمیائی ادویہ کیمیکل مادوں سے بنتی ہیں جبکہ حیاتی ادویہ زندہ خلیوں یا سالموں (molecules) سے تیار ہوتی ہیں۔ کیمیائی ادویہ کبھی اثر کرتی ہیں کبھی نہیں، مگر حیاتی دوائیں عموماً بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ زندہ خلیوں سے بننے کے باعث حیاتی ادویہ کیمیائی دواؤں کی نسبت خاصی مہنگی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر سرفراز نیازی کی سوچ درست تھی مگر سستی حیاتی ادویہ تیار کرنے کے لیے کروڑوں روپے درکار تھے۔ یہ بھاری بھرکم سرمایہ کہاں سے آتا؟ چنانچہ وہ کوئی ایسا آسان طریقہ ڈھونڈنے لگے جس سے سستی حیاتی دوا بن سکے۔ان کی خوش قسمتی کہ بیسویں صدی کے اواخر ہی میں ایک نئی قسم کی دوا ’’حیاتی مماثل‘‘ (biosimilar) نظریہ سامنے آگیا۔ یہ حیاتی مماثل دوا دراصل حقیقی حیاتی دوا کی نقل ہوتی ہے۔
امریکا اور یورپ میں ایک کیمیائی یا حیاتی دوا کی رجسٹریشن (یاپیٹنٹ) کا عرصہ 17 تا 20 سال پر محیط ہے۔ جب یہ عرصہ ختم ہوجائے، تو اس دوا کو کوئی بھی ادویہ ساز ادارہ بناسکتا ہے۔ شعبہ حیاتی ادویہ میں انہی دواؤں کو ’’حیاتی مماثل دوا‘‘ کا نام دیا گیا۔حیاتی مماثل دوا بنانے میں حقیقی دوا کی نسبت کم اخراجات آتے ہیں۔ وجہ یہ کہ حقیقی دوا کی تحقیق و تجربات میں جو پیسہ لگا تھا، وہ اب صرف نہیں ہوتا۔ پھر بھی حیاتی مماثل دوا کی قیمت زیادہ کم نہیں ہوپاتی۔ اس کی وجہ دوا بنانے کا طریق کار ہے۔فیکٹری میں ایک حیاتی دوا اسٹیل سے بنی دیوہیکل کیتلیوں میں تیار ہوتی ہے۔ جب دوا بن جائے، تو یہ کیتلیاں بذریعہ بھاپ صاف کی جاتی ہیں۔ یہ سارا عمل کئی دن میں مکمل ہوتا ہے۔ نیز کیتلیاں لگانے کی خاطر ہزاروں مربع فٹ جگہ درکار ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سرفراز نیازی سوچنے لگے کہ کیا حیاتی مماثل دوا کسی چھوٹی کیتلی یا ملتی جلتی شے میں تیار نہیں ہوسکتی؟ موزوں شے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے مختلف اشیا پر تجربے کیے۔ آخر کار اپنی خداداد ذہانت اور محنت کے بل بوتے پر انہوں نے موزوں شے دریافت کر ہی لی… یہ ایک پلاسٹک بیگ ہے۔
تحقیق و تجربات سے افشا ہوا کہ آٹھ فٹ لمبے اور چار فٹ چوڑے پلاسٹک بیگ میں خلیے و سالمے وغیرہ تیزی سے پرورش پاتے اور بہت جلد دوا بناڈالتے ہیں۔ اسٹیل کیتلی کے مقابلے میں انہیں ماحول بھی نرم و ملائم ملتا ہے اور دوا تیار کرنے کے اس طریقے میں صفائی بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ بس جب مطلوبہ مقدار میں دوا بن جائے، تو پلاسٹک بیگ پھینک دو۔
ڈاکٹر سرفراز نے پلاسٹک بیگ کے ذریعے پہلی حیاتی مماثل دوا کامیابی سے تیار کی، تو ان کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہا۔ انہیں یقین ہوگیا کہ پلاسٹک بیگوں کے ذریعے وہ وسیع پیمانے پر حیاتی ادویہ تیار کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے، یہ خطرناک بیماریوں کا شکارمریضوں کے لیے بھی بڑی خوش خبری تھی جو عموماً علاج کے اخراجات کے بوجھ تلے سسکتے رہتے ہیں۔
2003ء میں انہوں نے اپنی جمع پونجی لی، کچھ رقم دوست احباب سے پکڑی اور اپنے مسکن امریکی شہر،شگاگو میں تھراپیٹک پروٹینز (Therapeutic Proteins, Inc) نامی کمپنی دس لاکھ ڈالر (دس کروڑ روپے) کے سرمائے سے قائم کردی۔ اس زمانے میں حیاتی مماثل ادویہ کا نظریہ ابتدائی شکل میں تھا… جبکہ کوئی ایسی دوا عملی طور پہ بنی ہی نہیں تھی۔ مگر ڈاکٹر سرفراز کی دور رس نگاہوں نے دیکھ لیا کہ مستقبل قریب میں حیاتی مماثل ادویہ کا شعبہ بڑی اہمیت اختیار کرجائے گا۔
ڈاکٹر سرفراز کا خیال درست نکلا۔ تاہم ان کے حوصلے صحیح معنوں میں 2010ء میں بلند ہوئے۔ اسی سال امریکی حکومت نے حیاتی مماثل ادویہ کی توثیق و ترویج کے لیے ایک قانون ’’ایفورڈ ایبل کیئر ایکٹ‘‘ (Affordable Care Act) پاس کیا تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ یوں امریکا اور یورپ میں بھی حیاتی مماثل ادویہ کی تیاری اور خرید و فروخت قانون کے دائرے میں ہونے لگی۔
درج بالا ایکٹ کی تشکیل کے بعد ڈاکٹر سرفراز کی کمپنی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔ جب امریکی سرمایہ کاروں کو علم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب حیاتی مماثل دوا بنانے کا سستا و اچھوتا طریق کار دریافت کرچکے، تو وہ تھراپٹک پروٹینز میں بڑھ چڑھ کر پیسہ لگانے لگے۔ اب کمپنی کی مالیت 100 ملین ڈالر (دس ارب روپے) تک پہنچ چکی جبکہ کمپنی میں ’’دو سو ملازمین‘‘ کام کررہے ہیں۔
آج ڈاکٹر سرفراز نیازی کی زیر قیادت کمپنی کے سائنس دان ’’نو‘‘ حیاتی مماثل ادویہ پر کام کررہے ہیں۔ اسی حقیقت نے غیر معروف پاکستانی ماہر ادویہ سازی کو اچانک امریکا کی دنیائے طب میں مشہور ہستی بنادیا۔ وجہ یہی کہ ڈاکٹر سرفراز نیازی قیمتی انسانی زندگیاں بچانے والی ایسی ادویہ ایجاد کررہے ہیں جو بہترین ہونے کے ساتھ ساتھ سستی بھی ہوں گی
ڈاکٹر سرفراز خان نیازی مشہور اردو ادیب و مدیر، علامہ نیاز فتح پوری کے صاحب زادے ہیں۔10 جولائی 1949ء کو لکھنؤ( بھارت) میں پیدا ہوئے۔ 1962ء میں والدین کے ہمراہ کراچی چلے آئے۔ 1969ء میں کراچی یونیورسٹی سے بی فارمیسی کیا۔ بعد ازاں امریکا چلے گئے۔ وہاں واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی سے فارمیسی میں ایم اے کیا۔ 1974ء میں الینائے یونیورسٹی سے فارمیسی ہی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری پائی۔
ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد آپ شکاگو چلے گئے اور وہاں الینائے یونیورسٹی کے کالج آف فارمیسی میں پڑھانے لگے۔ 1988ء میں کراچی واپس آئے اور ایک مشہور عالمی ادویہ ساز کمپنی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل افیئرز مقرر ہوئے۔ اسی دوران آغا خان یونیورسٹی سے بہ حیثیت پروفیسر فارما کولوجی (Pharmacology) منسلک رہے۔
1996ء میں متحدہ ارب امارات کی ادویہ ساز کمپنی‘ گلف فارماسیوٹیکل کمپنی میں کام کرنے لگے۔2003ء میں اپنی ادویہ ساز کمپنی‘ تھراپٹک پروٹیز کی بنیاد رکھی جو اب بین الاقوامی ادارہ بن چکا ۔ آپ ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری (کراچی یونیورسٹی ) اور نیسٹ‘ اسلام آباد میں بھی گاہے بگاہے لیکچر دیتے ہیں۔
والد کی طرح ڈاکٹر سرفراز بھی ہمہ جہت شخصیت ہیں یعنی موجد‘ سائنس داں‘ شاعر‘ لکھاری‘ فوٹو گرافر اور موسیقار ! اب تک امریکا میں اپنی 70 سے زیادہ ایجادات رجسٹرڈ (پیٹنٹ) کروا چکے۔ ان سبھی ایجادات کی بنیاد ڈاکٹر سرفراز کا یہ نظریہ ہے: ’’ایک کام کو زیادہ سے زیادہ آسان بنایا جائے۔‘‘
چنانچہ انہوںنے ایک ایسی ٹوپی ایجاد کی جس کے کنارے میں پوشیدہ سوراخ موجود ہیں۔ اس ٹوپی کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تیز ہوا میں بھی سر پر جمی رہتی ہے۔ اسے انہوں نے ’’تیز ہوا والی شہری ٹوپی‘‘ (Windy city hat) کا نام دیا۔اسی طرح ایسے اشارے ایجاد کیے جو کار کے اطراف میں لگ سکیں۔ یوں لین بدلتے یا موڑ کاٹتے ہوئے ان اشاروں کی مدد سے حادثے کا امکان کم ہو گیا۔
آپ تکنیکی و ادبی موضوعات پر سیکڑوں مضامین‘ ایک سو سے زیادہ مقالے اور درجنوں کتب تحریر کر چکے ۔ مرزا غالب کی شاعری کے عاشق ہیں۔ لہٰذا 2002ء میں پورا دیوان غالب انگریزی میں ترجمہ کر کے اس عظیم اردو شاعر کو دنیائے مغرب میں متعارف کرایا۔
ڈاکٹر سرفراز خود بھی اچھے شاعر ہیں۔ 1962ء میں ریڈیو پاکستان کے سربراہ‘ زیڈ اے بخاری نے نوجوان شعراء کا مشاعرہ کرایا۔ اس مشاعرے میں تیرہ سالہ سرفراز نے ایک غزل سنا کر میلا لوٹ لیا۔ وہ غزل بخاری صاحب جیسی قد آور ادبی شخصیت کو بھی پسند آئی۔
غزل کے چند اشعار یہ ہیں:
دل بیتاب کسی طرح بہلتا ہی نہیں
شاید اس درد محبت کا مداوا ہی نہیں
پوچھتے کیا ہو تم اب حال نیازی ہم سے
در پہ اس کے جو وہ بیٹھا‘ تو پھر اٹھا ہی نہیں
دنیا بھر میں ملک و قوم کا نام روشن کرنے پر حکومت پاکستان نے 2012ء میں آپ کو ستارہ امتیاز سے نوازا۔ ڈاکٹر سرفراز کا ایک نظریہ یہ ہے کہ کسی خیال یا کام پر حد سے زیادہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ نوجوانوں کے نام ان کا پیغام ہے۔
’’آپ کبھی اپنے خیالات کے اسیر نہ بنیے ۔اگر کوئی خیال یا کام مسئلہ حل نہ کر سکے‘ انسانی زندگی کو بہتر نہیں بنائے‘ تو اسے چھوڑ دیجیے اور آگے بڑھئیے۔ آپ کو مزید کئی انقلابی نظریے و خیالات مل جائیں گے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *