انڈونیشیا کے عیسائی گورنر پر توہین رسالتؐ کا الزام، عدالت میں رو پڑے

A protester holds a banner outside a court during the first day of the blasphemy trial of Jakarta's Governor Basuki Tjahaja Purnama, also known as Ahok, in Jakarta, Indonesia December 13, 2016. PHOTO: REUTERS

 انڈونیشیا: سخت مزاج مسلمانوں نے منگل کے روز انڈونیشیا کی عدالت کی طرف پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں مارچ کیا جہاں عیسائی گورنر اپنے اوپر لگائے گئے توہین قرآن کے الزامات کا دفاع کر رہے تھے۔ بسوکی تجاہجا پرناما جو 50 سال میں پہلی بار ایک عیسائی گورنر بنے ہیں پولیس اور وکلا کی بھاری نفری کے ساتھ عدالت میں پہنچے۔ گورنر 5 ججز پر مشتمل بینچ کے سامنے سر جھکاتے ہوئے تعظیم بجا لائے اور عدالت کے بیچ میں اپنی کاروائی کے لیے بیٹھ گئے۔ انڈونیشیا کے سخت مذہبی قوانین کے مطابق اگر پرناما جن کو آہوک کے نام سے جانا جاتا ہے گناہ گار پائے جاتے ہیں تو انہیں 5 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ستمبر میں آہوک نے قرآن کی آیات سے دلائل دیتے ہوئے اپنی مہم کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی۔ گورنر نے اپنے بیانات پر معافی مانگ لی لیکن ناراض مسلمانوں نے تاریخی مارچ نکال کر پرناما کو عدالتی کاروائی کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا۔ پرناما نے کہا کہ وہ اپنے بیانات سے قرآن کی بے حرمتی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ عدالت کی کاروائی کے دوران انہوں نے کہا کہ میرے بیانات سے نہ تو قرآن کی توہین مقصد تھی اور نہ ہی اسلام اور علما کی تذلیل۔ اپنے دفاع کے دوران انہوں نے کہا کہ ملک کے طاقتور لوگ مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ کاروائی کے دوران کورٹ کے باہر مسلمانوں کا ایک گروہ اللہ اکبر ، قران ہمارا رہنما اور 'پرناما کو جیل بھیجو' جیسے نعرے لگاتا رہا۔ انڈونیشیا کی کل آبادی 255 ملین ہے جس میں سے 90 فیصد کے لگ بھگ مسلمان ہیں۔ انڈونیشیا کے صدر کو اقلیتوں پر حملے روکنے میں ناکامی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس سے دنیا بھر میں عدم برداشت اور اختلافی معاملات میں صبر کا فقدان انڈونیشیا کی ریپوٹیشن کی خرابی کا باعث ہے۔ پرناما اس بار بھی گورنر کے لیے الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں تھے لیکن اس توہین اسلام کیس کی وجہ سے ان کی مقبولیت پر بہت منفی اثر پڑا ہے۔ ان کے دو مسلمان سیاسی مخالف ملک بھر میں بہت مقبول ہونے کے علاوہ سیاسی روابط بھی رکھتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *