کیا پاکستان اور کازقستان سےفرار ممکن ہے؟

بشکریہ : سکینہ حسن

sakeena-hassan

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک آرٹیکل پڑھا جس میں مجھے معلوم ہوا کہ کازقستان کے ائیر پورٹ آفیسرز نے نیوزی لینڈ کی موجودگی کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ ایک آسٹریلین ریاست ہے۔ اس طرح انہوں نے ایک شخص کو وہیں رات بھر روکے رکھا۔ بات ایسے واقعہ پر ختم ہوئی جس سے عام طور پر زیادہ تر پاکستانی واقف ہوتے ہیں یعنی: "یار میں نے اسے 1000 کا نوٹ تھمایا اور اس نے مجھے جانے دیا"۔

اس طرح سے حقائق کو جھٹلانے کا تجربہ ایک عام روایت ہے اور مضحکہ خیز بھی ہے۔ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ چاند پر انسان کے پہنچنے کی کہانی بھی بلکل بے بنیاد ہے۔ بعض موقع پر کسی بھی تجربہ کا ثبوت پیش کرنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن جب میں کسی ایسے شخص سے ملتی ہوں جو دوسری جنگ عظیم کے وقوع کا ہی انکاری ہو تو میں کہتی ہوں کہ شادی کی تصاویر اور نکاح نامہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کوئی شخص واقعی شادی شدہ ہے۔ دوسری جنگ عظیم کو ٹھکرانے والے مسلمانو ں کہ یہ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ ہماری سوسائیٹی پر ڈھائے جانے والے ظلم کا انٹرنیشنل نقطہ نظر سے اندازہ لگانے کے لیے دوسری جنگ کو ایک یاد گار کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔

کسی ملک کے وجود کو ہی نہ ماننا البتہ ایک مختلف معاملہ ہے لیکن آج کے دور میں اس طرح کا دعوی بہت مزاحیہ معلوم ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایسا دعوی کرنے والا حقائق سے ناواقف ہے۔ جینی جانسن سے ملیے جو امریکی مصنفہ ہیں اور لندن کے بارے میں ایک بڑی حقیقت کے بارے میں دنیا کو خبر دار کرنا چاہتی ہیں کہ لندن اب ایک اسلامی شہر بن چکا ہے۔ اس بات کو ان کا اندھا پن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ان کا ایک نظریہ ہے اور خیال ہے جس سے اس وقت یورپ اور امریکہ بھی پریشان ہیں۔ جو ویژن اختلاف کو تباہ کن بنا دے اور گلوبلائزیشن کا بیش خیمہ ثابت ہو اسے ایک بد دعا سمجھا جاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ اندھا پن دنیا بھر کے لوگوں پر ایک منظم طریقے سے ظلم ڈھانے کے طریقے سے ہے ۔ بشر الاسد کو لاکھوں لوگوں کے ذبح کیے جانے پر رات کو سونے میں مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ وہ ظلم و جبر کی ہر فوٹیج کے بارے میں دعوی کرتے ہیں کہ یہ جعلی ہے اور روس اس کا ساتھ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ وائٹ ہیلمٹ والے لوگ تو صرف ایکٹنگ کر رہے ہیں۔ مہاجرین کا مسئلہ بھی اب عوام کے لیے زیادہ اہم نہیں رہا اور گوریلا کو قتل کرنے کا مسئلہ زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ جب اس طرح کے مسائل عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں تو جینی جانسن کے نظریات کو لا کر پیش کر دیا جاتا ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کو آئی ایس آئی ایس کے نام سے گمراہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ظاہری گمراہی کے ساتھ باطنی اندھا پن بھی ہر طرح سے ہمارے اندر سرایت کر چکا ہے۔ ایک قوم جو آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے اس کی محنت کو فیشن شو جیسے پروگراموں میں مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

کئی عرصہ سے دنیا کے اندھے پن کا شکار کشمیری قوم ہے اور لگ بھگ مستقبل میں بھی ایسا ہی رہے گا۔ اس طرح ہم اصل حقائق سے اپنی آنکھیں بند کیے رکھتے ہیں۔ ہماری گیس ختم ہو رہی ہے اور پانی کی سپلائی بھی خطرے میں ہے ، پہاڑ گنجے ہو رہے ہیں اور پبلک سروس بھی ختم ہونے کو ہے۔ ٹرینیں اور جہاز خوفناک حادثوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمای نسل اب یہ دیکھ پا رہی ہےکہ ڈگریوں کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے کیونکہ سیاستدان ہر دوسرے دن ایک نئے ڈرامے کے ساتھ حاضر ہو جاتے ہیں ۔ کیا لوگوں کو یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ وہ کیا نہیں چاہتے؟ نیوزی لینڈ کے شہری کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہےکہ ہمیں نقشے کے انتظار میں بیٹھے نہیں رہنا چاہیے۔ رشوت دیں، نیا پاسپورٹ لیں اور خوشیاں منائیں۔ دوسری دنیا کی طرح اندھا پن اختیار کر لینا البتہ ایک بلکل الگ بات ہے۔

http://blogs.tribune.com.pk/story/43835/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *