کھانسی کاجعلی سیرپ اورہمایوں تارڑ صاحب

hafiz yousuf saraj

پہلے قلمی دوستی ہوتی تھی ، آج کل اس کی جگہ سوشل میڈیا فرینڈشپ آگئی ہے۔ اب آپ کے کئی ایسے دوست بھی ہو سکتے ہیں کہ جن سے آپ کبھی نہیں ملے اور شاید کبھی ملیں گے بھی نہیں مگر یہ صبح و شام  آپ کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہیں۔ تبادلہ ٔاحوال و خیالات کرتے ہیں۔ اس طرح سے بعض دور دراز کے بڑے اچھے اچھے لوگ بڑی آسانی سے آپ کو دستیاب ہو جاتے ہیں اور کئی قریبی دوستوں کے بجائے سوشل میڈیا کی بدولت ان کے آپ حال احوال سے بھی زیادہ واقف رہتے ہیں۔ ہمایوں مجاہد صاحب بھی اسلام آباد کے ایسے ہی ایک اچھے استاد ، صالح فکر انسان اور مثبت قدروں سے پیار کرنے والے خوش دماغ آدمی ہیں۔ اچھا لکھتے بھی ہیں لیکن لکھنے سے زیادہ اچھے لکھے کو سراہتے ہیں۔ ان کا ایک طریقہ ہے کہ جو تحریر اچھی لگے یا جس تحریر کا جوحصہ انھیں اچھا لگے، اسے خوبصورت گرافکس کے ساتھ پوسٹ بنا کے شیئر کرتے ہیں۔ تو اس طرح سے یہ علم و عرفان کی خوشبو پھیلاتے اوراپنے نام میں موجود لفظ مجاہد کا حق ادا کرتے ہیں۔یہ ایسے ہی آدمی ہیں۔
یہ پچھلے اتوار کی بات ہے کہ انھوں نے اپنی وال پرمعمول سے ہٹ کے ایک عجیب سی پوسٹ لگادی۔ پوسٹ کیا تھی یہ کسی کھانسی وغیرہ کے لئے جادو اثر سیرپ کا سیدھا سیدھا اشتہار تھا،جس کے ایک ہی چمچ سے کافی افاقہ ہوجانے کے باعث مجاہد صاحب اس سے بہت متاثر ہوگئے تھے۔ دراصل شاید بدلتے موسم نے ان کے گلے وغیرہ کو متاثر کیا تھا ، فلو ہو گیا تھا اور شاید زکام بھی۔تو جیساکہ ہمارا طریقۂ کار ہوتاہے کہ کئی دن تک ہم سیلف سٹارٹ قسم کے ٹوٹکے وغیرہ آزماتے ہیں اور جب سمجھتے ہیں کہ اب ڈاکٹر کی آزمائش کا اچھا خاصا سامان ہو گیاہے تو اس کے پاس جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ بھی پاکستانی ہی تھے ۔ سو یہی سب ریت و رسم علاج پوری کر چکے تو خود کردہ علاج کے ہاتھوں یہ بھی تنگ آچکے تھے سو ریلیف ملا تو متاثر بھی زیادہ ہی ہوگئے۔اور ایک پوسٹ میں بتا دیا کہ صاحبو! سیلف میڈیکیشن کوئی اچھی بات نہیں مگر پھر بھی یہ سیرپ تو بغیر مرض کے بھی ضرور آزما لیجئے۔ پھر جب پوسٹ شیئرہوئی تو ان پر عجب انکشاف ہوا۔ سارے پڑھے لکھے دوستوں نے انھیں کمنٹس میں بتایا کہ یہ جو سیرپ آپ بتا رہے ہیں یہ تو فلاں کمپنی کی فلاں پراڈکٹ کی بھونڈی نقالی ہے۔ نام وہی مگر دام کم۔ یہ سٹپٹا گئے۔ سبھی نے خوب خوب نصیحت کی کہ ایسا جعلی سیرپ تو ہرگز نہیں لینا چاہئے۔ صحت کا معاملہ ہے سو مہنگا ہی سہی مگر اصلی لینا چاہئے۔ اگرچہ اس جعلی سیرپ سے بھی انھیں فرق بھی پڑ گیا تھامگر اس کے باوجودسبھی کے ہاں یہ ناقابلِ اعتماد تھا۔ اس میں سٹیرائیڈ ہو سکتا تھا، بنانے میں عدمِ احتیاط برتی گئی ہو سکتی تھی۔ وغیرہ وغیرہ ۔ خیر انھوں نے گھبرا کے نئے سرے سے پوسٹ بنائی اور کہا کہ بھئی سوری سارے دوستو! غلطی ہوگئی، آپ اصلی ہی سیرپ ، کمپنی کا سیرپ ، قابلِ اعتماد سیرپ ہی لیجئے گا۔ حالانکہ انھوں نے اصلی سیرپ آزمایا نہ تھا مگر کہا کہ آپ اصلی ہی لیجئے گا ۔ یعنی اس کے باوجود کہ خواہ وہ فائدہ کرے یا نہ کرے ۔  اور سب نے ان کی تائید بھی کی ۔ اس بات پر کسی نے گرفت نہیں کی ۔ یعنی یہ کامن سینس کی بات تھی۔ خیر بات آئی گئی ہوگئی۔ مگر اس بات نے میری سوچ کو اک نئی راہ پر لگا دیا۔ یعنی ہم لوگ صحت کے معاملے میں ، جسمانی معاملے میں اور دنیا کے معاملے میں کتنے حساس اور سنجیدہ ہیں۔زیرو ٹالرینس والے اور نان کمپرومائزنگ۔حالانکہ یہ بس دنیا ہی کا معاملہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف جو دین کا معاملہ ہے۔ وہ بڑا اہم معاملہ ہے۔ فرض کریں یہاں کی زندگی کو کچھ ہو ہی جاتاہے، اللہ نہ کرے کہ کسی کو کچھ ہو۔ لیکن اس زندگی کا بہرحال ایک اختتام ہے ۔ مشکل ہو یا آسان اس نے بہرحال ختم ہو جانا ہے۔ البتہ اس کے مقابل جو اگلی زندگی ہے وہ تو نیور اینڈنگ ہے۔ اس نے کبھی ختم نہیں ہونا ۔ بہرحال آپ دونوں کا فرق سمجھتے ہیں۔ بس یوں سمجھئے کہ سفر میں سواری تکلیف دہ یا سیٹ تنگ ہو تو بس ایک سفر خراب گزرتا ہے جبکہ اگر گھر تنگ اور تکلیف دہ ہو تو ساری زندگی ہی خراب ہو جاتی ہے۔ تو یہ ایک مثال ہے. حالانکہ ناکافی اور ادھوری مثال ۔ لیکن اس پر معاملے پر ہم کم ہی غور کرتے ہی۔ اس کا برانڈ کبھی چیک نہیں کرتے اور اس کی مہر یا وہ کیا کہتے ہیں میڈ ان کبھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ کوئی بھی اچھی سی پیکنگ میں ، اچھے سے ذائقے میں آتا ہے ۔  یعنی خوبصورت لباس اور جدید یا میٹھے لہجے میں ۔ اور اگر وہ ٹی وی سکرین پر ہو تو تب ہم اور زیادہ اس کے قائل ہو جاتے ہیں۔خیر وہ خود کو ہمارا روحانی ڈاکٹر ڈکلیئر کرتاہے اور ہم اس پر سو جان سے فریفتہ ہو جاتے ہیں۔ خصوصا ً اگر اس کے پاس سٹیرائیڈ یعنی آسان سا فوری حل ہو ۔جس میں ہمیں کسی مشکل میں نہ پڑنا پڑتا ہو تو ہم کبھی اس کا برانڈ چیک نہیں کرتے اور کبھی اس کی پراڈکٹ کا میڈ ان بھی چیک نہیں کرتے۔ خیر یہ نہ سوچئے گا کہ میری برانڈ سے مراد کوئی مسلک وغیرہ کی تشہیر ہو گی۔ جی نہیں ، مجھے کچھ اور کہنا ہے۔ لیکن فی الحال اتنا ہی کہوں گا کہ کم از کم ہمیں اپنی روحانیت کے ڈاکٹر کو ایک کھانسی کے سیرپ جتنی تو اہمیت اور توجہ دینی چاہئے۔ کیا نہیں دینی چاہئے؟ کیوں جی تارڑ صاحب اور ڈاکٹر عاصم اللہ بخش صاحب اور اس پوسٹ پر کمنٹ کرنے والے باقی دوستو۔ اگرچہ اس کا زیادہ حق ہونا چاہئے۔
اسے اتفاق ہی کہئے کہ اس سے اگلی پوسٹ ہمارے مجاہد صاحب نے ایک مذہبی پوسٹ ہی کی کی۔ یہ بھی کسی کرمفرما کی تحریر تھی اور انھیں پسند آگئی تھی۔ چنانچہ انھوں نے اس کی خوب ہی پوسٹیں بنائیں۔ انھوں نے، جیساکہ وہ ایک طریقہ ہوتاہے کہ فیس بک پر آپ کسی کو یا تو ٹیگ کردیتے ہیں یا پھرکسی پوسٹ پر ایک طرح سے اس کا نام لکھ دیتے ہیں ، جس سے اسے خبر ہو جاتی ہے کہ لکھنے والا یہ چاہتاہے کہ آپ اسے پڑھ لیں۔ یعنی آپ کے لئے یہ بڑی اہم اور اچھی چیز ہے۔ تو مجاہد صاحب نے اس پوسٹ پر میرا اسی طریقے کا نام بھی لکھ دیا۔ لیکن افسوس میں اسے پڑھ نہیں سکا۔ البتہ پھر ان کی پوسٹوں میں جو چیزیں آئیں ۔ ان میں سے بعض میں نے دیکھ لیں۔ اور میں جان گیا کہ ان کا قائل کیا کہنا چاہتاہے۔ چنانچہ تارڑ صاحب مجھے اجازت دیجئے کہ اس سے اگلی نشست میں میں ان خیالات پر اپنی معروضات اسی تمہید کی روشنی میں پیش کر سکوں۔ بے شک آپ اس کی پوسٹیں نہ بنائیں ۔ اسی تحریر میں میں نے کہیں ایسا لکھا دیکھا تھا کہ ایکسٹرا دینداری کا بوجھ یا ایسا ہی کچھ اور ۔ یہ مجھے اچھا لگا چنانچہ میں نے اسی سے اپنے عنوان کے لئے بھی آئیڈیا چرا لیا ، یعنی: ’’ ایکسٹرا دینداری یا ایکسٹرا لارج خواہشات؟‘‘۔ تو اب دیجئے اجازت ۔ آئندہ اسی عنوان پر بات آگے بڑھائیں گے۔ ان شااللہ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *