آڑو گرنیڈ کا آفتاب اقبال کو کرارا جواب

ابو دانیال

آفتاب اقبال نے اپنے شو میںآغا ماجد معروف بہ ’’آڑو گرنیڈ ‘‘ پر اپنی طرف سے جو گفتگو کی وہ اس کو’’ٹف تائم ‘‘ دینے کی کوشش تھی، انھوں نے باقاعدہ اعلان کیا کہ آڑو گرنیڈ اب ان کے شو کا حصہ نہیں رہے ، وہ بے شک ایک اچھے فنکار تھے لیکن وہ’ سکرپٹ‘ کے بغیر کچھ نہیں ۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ غصے میں کیا گیا یہ کام بیک فائر کر گیا ہے ۔ بقول ہمارے دوست ذیشان حسین، موصوف نے کبھی ’’فیض احمد فیض ‘‘ کو اتنا وقت نہیں دیا گیا جتنا انھوں نے آڑو گرنیڈ کو دے دیا ۔لوگ حیران ہوں گے کہ اگر ایک کامیڈین محض ’’ شوپیس ‘‘ ہے تو اس پراتنا واویلا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ قریبی حلقے یہ خوب جانتے ہیں خبر دار کاا سکرپٹ کون لکھتا ہے ، یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ یہ ’ سکرپٹ ‘کامڈین کا اپنا ہی ہوتا ہے ! بھئی اصل بات یہ ہے کہ اس پروگرام سے پہلے آغا ماجد جیو نیوز کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر چکے تھے اور وہ یکم جنوری کو خبر ناک کی کاسٹ میں شامل ہو ں گے۔ اس معاہدے کی دستاویز پر سلیم البیلا نے گواہ کے طور پر دستخط کیے ۔ اس موقع پر لائی گئی مٹھائی کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے واجد علی نے آڑو گرنیڈ سے پوچھا : اور کون کون آ رہا ہے ؟ آڑو گرنیڈ بولے : سارے تیار ہیں ، ایک خاتون کا نام لے کر کہا کہ وہ تو بے تاب بیٹھی ہیں ۔

afیاد رہے کہ ایک پچھلے تجزیے میں کہا گیا تھا کہ’ خبرناک‘ دوبارہ ریٹنگ میں اول نمبر پر آرہا ہے ۔آغا ماجد کی خبر ناک میں دوبارہ شمولیت اس تجزیے کی تصدیق کر رہی ہے اور دوسری طرف ایک مرتبہ پھر انگلیاں آفتاب اقبال کی طرف اٹھ رہی ہیں کہ کہیں آڑو گرنیڈ ان کی تنک مزاجی کا شکار تو نہیں ہوا؟ بہر کیف معاملہ جو بھی ہو، اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آغا ماجد ’’ خبر دار‘‘کا بہت اہم حصہ تھے اور ان کی شو سے رخصتی کا بہر کیف فرق پڑے گا۔دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب ’’ خبردار ‘‘ کے متعلق یہ کہنا کتنا ایک درست ہو گا کہ’’ آفتاب اقبال اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ‘‘۔
ایک سوال یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ شو میں ’فیض احمد فیض‘ کا سٹیٹس دے کر کہیں آڑو گرنیڈ کے’ خبرناک ‘ میں جانے کے فیصلے کو حتمی شکل کو نہیں دے دی گئی ! خبرناک کے شائقین بڑی بے چینی سے آڑو گرنیڈ کا شو میں انتظار کر رہے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *