عمران خان۔ چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد!

ata-ulhaq-qasmi-1

عمران خان اپنی تقریروں اور انٹرویوز میں گاہے بگاہے مجھ سے اپنی ’’محبت‘‘ کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ میں محبت کا جواب محبت ہی سے دینے والوں میں سے ہوں۔ آج بہت دنوں بعد فیس بک پر نظر ڈالی تو وہاں بھی خان صاحب سے محبت کرنے والے بہت پُرجوش نظر آئے۔ ایک پوسٹ میں خان صاحب سے محبت کا اظہار ان لفظوں میں کیا گیا تھا۔
عمران خان کی چار سال پر مبنی کہہ مکرنیوں پر ایک نظر
اپنے گھر جائو اور اپنے ماں باپ سے کہو وہ ’’شیر‘‘ پر مہر لگائیں۔
ہم کے پی میں ایک ارب پودے لگائیں گے۔
ہم 350ڈیم بنائیں گے۔
لندن کی ایک کمپنی کے پی میں 100ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ وفاقی حکومت اجازت نہیں دے رہی۔
افتخار چوہدری اس ملک کی آخری امید ہیں۔
افتخار چوہدری بھی دھاندلی میں ملوث ہے۔
پرویز الٰہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے۔
پرویز الٰہی اور ہم مل کر کرپشن کے خلاف لڑیں گے۔
شیخ رشید جیسے آدمی کو میں اپنا چپراسی بھی نہ رکھوں۔
شیخ رشید اور ہماری سوچ ایک ہی ہے۔
میرے پاس 35پنکچرز کی ٹیپ ہے۔
پینتیس پنکچرز ایک سیاسی بیان تھا۔
نواز شریف کے استعفیٰ تک میں شادی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
میں دھرنا اس لئے دے رہا ہوں تاکہ شادی کرلوں۔
میڈیا طلاق کی باتیں کر رہا ہے، وہ سب جھوٹ ہے۔
طلاق میرا ذاتی مسئلہ ہے، کوئی بات نہ کرے۔
آف شور کمپنی رکھنے والے چور ہیں۔
میں نے تو آف شور اس لئے بنائی تاکہ ٹیکس بچا سکوں۔
بنی گالہ میں نے کائونٹی کے پیسوں سے خریدا۔
بنی گالہ جمائما نے طلاق کے بعد گفٹ کیا۔
ہم اسمبلی سے مایوس ہو کر سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔
ہم سپریم کورٹ سے مایوس ہو کر اسمبلی جا رہے ہیں۔
جب تک سپریم کورٹ کے نیچے پانامہ پر کمیشن نہیں بنتا ہم سڑکوں پر رہیں گے۔
سپریم کورٹ نے اگر کمیشن بنایا تو ہم بائیکاٹ کرینگے۔
میں نواز شریف کو وزیر اعظم نہیں مانتا۔
ہم نواز شریف کے لگائے ہوئے آرمی چیف کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
ہمارے پاس پانامہ کے ثبوت ہیں۔
ثبوت دینا حکومت کا کام ہے۔
ان کہہ مکرنیوں کے علاوہ عمران کے تین لطیفے
ہم نوے دن میں تبدیلی لائیں گے۔
میں اپنی قوم سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔
اگلا وزیر اعظم عمران خان ہو گا۔
عمران خان صاحب کی یہ کہہ مکرنیاں اور بڑھکیں مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ہیں ورنہ خان صاحب کی ہر تقریر اور ٹاک شوز میں ان کی گفتگوئیں تضادات سے بھری پڑی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کسی زمانے میں الطاف حسین کے خلاف لندن جا کر مقدمہ دائر کرنے کی بات بھی کی تھی اور پھر کراچی کے جلسے میں الطاف حسین کا شکریہ بھی موصوف ہی نے ادا کیا تھا۔ عمران خان ہر معزز شخصیت کے خلاف جو زبان استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں ، ان سے پہلے بھی کچھ لوگ اس طرح کا لب و لہجہ اختیار کرتے رہے ہیں، مگر عمران خان کا کریڈٹ یہ ہے کہ انہوں نے بدتہذیبی کو ایک تحریک کی شکل دی اور ایک پوری نسل کو بدزبان، بہتان تراش اور کریکٹر لیس بنا دیا۔
میرا خیال ہے کہ مجھے صبح صبح قارئین کو یہ تلخ و ترش باتیں نہیں سنوانا چاہئے تھیں مگر اب تو تیر ترکش سے نکل چکا ہے، اب اس کی تلافی خوبصورت نوجوان شاعر قمر ریاض کی ایک خوبصورت غزل سنوا کر کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے یہ غزل بھی فیس بک ہی پر پڑھی ہے۔ غزل پیش خدمت ہے تاکہ آپ بھی میرے ساتھ اس لذت میں شریک ہوں جو میں نے ان اشعار سے کشید کی۔
ایک لطیفہ وجود میں آ گیا ہے اور وہ یوں کہ جب میں غزل کی تلاش میں قمر ریاض کی وال پر گیا تو پتہ چلا کہ وہ غزل تو ڈیلیٹ ہو چکی ہے۔ چلیں ایک لطیفہ یہ سن لیں کہ میرے گزشتہ روز کے کالم میں شائع ہوا کہ میں نے ایم اے او کالج یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ یہ پروف کی غلطی تھی میں نے پنجاب یونیورسٹی کے اورینٹل کالج سے ایم اے کی ڈگری وصول کی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *