یہ بیٹیاں۔۔۔

بشکریہ : اشعر رحمان

Image result for ASHA’AR REHMAN

یہ مریم نواز کی سیاست کا اہم لینڈ مارک ہے۔ چین کے پاکستان میں موجود ڈپٹی منسٹر نے مقبولیت کی حدوں کو چھوتی ہوئی پاکستانی خاتون سیاست دان کو اپنے ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔" اگلے سال ہم پاکستان مسلم لیگ ن کے وفد کا چین میں استقبال کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی ٹینلٹڈ بیٹی مِس مریم نواز کو بھی وفد میں شامل کریں تو ہمیں بہت اچھا محسوس ہو گا"۔ یہ جملے اے پی پی نیوز ایجنسی کی تصویر کی کیپشن میں موجود تھے جو تمام اخبارات پر دیکھنے کو ملی۔

اس تصویر سے نہ صر ف چین کے ویژن کو پرکھنے کے لیے موضوع بنایا گیا بلکہ اس سے مریم نواز کی لیڈر شپ قابلیتوں کو پرکھنے کے لیے ایک آلہ کے طور پر بھی لیا گیا۔ یہ فارم کے عین مطابق تھا۔ ہم پہلے ہی فیصلہ کر چکے ہیں کہ کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ چین سے ہمارے اوپر نظر رکھنے والے لوگوں کے علاوہ کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ آجکل چین کے لیے پاکستانی مفاد میں مشورے دینا بلکل عام سی بات بن گئی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ بیجنگ کے لوگوں کو اپنا مفاد یاد نہیں رہا۔

بہت سے پاکستانی وزرا ہمیں بتاتے رہتے ہیں کہ سی پیک کے حوالے سے چند چیزیں ایسے ہیں جو چین پر تھونپی نہیں جا سکتیں۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ چونکہ پیسے چین لگا رہا ہے اس لیے یہ منصوبہ ان کی مرضی کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ چین کے منسٹر مسٹر زینگ شیاسونگ نے مریم نواز کو دورے کی جو دعوت دی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکستان کے مستقبل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بینظیر بھٹو کا اپنے باپ کے ساتھ شملہ کے سفر کو مریم نواز کے اس مقبولیت کی طرف سفر سے موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مریم نواز بینظیر سے کہیں زیادہ تیزی سے مقبولیت کی حدوں کو چھو رہی ہیں۔

کچھ سال قبل شریف خاندان کی جو خاتون سیاست میں کچھ حد تک مقبول تھیں وہ مریم نواز کی ماں کلثوم نواز تھیں۔ اب لگتا ہے کہ اس بیٹی کی ٹرانسفارمیشن کا محرک صرف ایک اہم فیصلہ تھا۔ سوال صرف یہ تھا کہ ان کے رہنما اور وہ خود اس فیصلہ میں دلچسپی رکھتی ہیں یا نہیں۔ باقی سب چیزیں اپنے آپ ہی وقوع پذیر ہوتی گئیں۔انہوں نے اپنا سیاسی کیریر ایک ایسے بیان سے کیا جو وہ جاری نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ وہ اپنےو الد کی الیکشن مہم کی انچارج تھیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی ان کا کہنا تھا میاں صاحب کو جیت کا اتنا یقین ہے کہ اس مہم کے لیے ورکرز کو زیادہ کام کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

یہ فیصلہ مریم نواز کو عمران خان کے مقابلے میں آ کر کرنا پڑا جو نوجوان نسل کو ایک خاتون کو وزیر اعظم کےخلاف انتخاب کےلیے تیار کر رہے تھے جو ایک گائنا کالوجسٹ ہیں اور جن کا نام یاسمین راشد ہے۔ نواز شریف کے مقابلے میں کھڑی یاسمین راشد کو شکست ہوئی اور لوگوں کو لگا کہ اب مریم نواز کا رول ختم ہو چکا ہے۔ ان کا موازنہ ان کی ماں سے کیا جانے لگا جو 1999 میں اپنے خاوند کو آزادی دلا کر اور نواز شریف اور بینظیر کو چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کے لیے قریب لانے کے بعد سیاست کے میدان سے غائب ہو گئیں تھیں۔

البتہ مریم نواز نے اتنی جلدی نہیں جانا تھا اور چہروں کی تبدیلی دیکھنے والے کارکنان کی خواہشات پر سیاست میں موجود رہنا اور مقبولیت حاصل کرنی تھی۔ میاں صاحب جب ہارٹ سرجری کے لیے گئے تو ان کا متبادل مریم نواز سے بڑھ کر کوئی نہ تھا۔ بہت سی نیوز رپورٹس کے مطابق مریم نواز، اسحاق ڈار اور شہباز شریف کو مل کر حکومت چلانی تھی۔ بعض لوگوں کو لگنے لگا کہ ان رہنماوں کی موجودگی پر بھروسہ کرتے ہوئے نوازشریف لندن میں اپنا قیامن طول کر سکتے ہیں۔ تب ہم میں سے کچھ لوگ یہ بھی سوچنے لگے کہ مریم نواز کو مستقبل کی وزیر اعظم کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔ ایک بار پھر سوال یہی تھا کہ کیا وہ اور ان کے رہنما اس بات کے لیے تیار بھی ہیں یا نہیں۔

ہر چیز اپنے آپ اپنی جگہ پر آ گئی اور وہ سیاست میں مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھتی گئی اور کچھ لوگ یہ فال نکالنے لگے کہ وہ آسانی سے وزارت عظمی تک پہنچ سکتی ہیں۔ تب سے انکی نقل و حرکت محدود ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سلیکشن بورڈ ابھی تک ان کو ایک آپشن کے طور پر استعمال کرنے یا نہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔لیکن اس دوران مریم نواز اپنے بل بوتے پر ہی کامیابیاں سمیٹنیں میں لگی ہیں۔ مثال کے طور پر جب انہیں یوتھ لان پروگرام کی لیڈر شپ سے ہٹایا گیا تب سے وہ حکومت کے ناقدین کے خلاف ایک میڈیا سیل کے ذریعے سرگرم ہیں۔

وہ سب سے زیادہ اپنے والد کی حکومتی پالیسیوں کی تعریفیں کرتی نظر آئی ہیں۔ یہ مسلم لیگ ن کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔ چینی وزیر کی دعوت مریم نواز کو شہباز شریف کے قریب لا سکتی ہے جو سب سے تیز رفتار حکمران ہیں اور اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ چین پاکستان کو آزادی کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ مریم اور شہباز شریف کی تصاویر چین کے وزیر کے ساتھ تمام اخباروں پر دیکھی جا رہی ہیں۔ لگتا ہے ہم ایک اہم تبدیلی دیکھنے والے ہیں۔

http://www.dawn.com/news/1303937/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *