ایک جہاز کا مسافر

syed tallat hussain

پچھلے کچھ سالوں میں سب سے زیادہ سنا جانے والا لفظ آئی ایس پی آر ہی تھا۔ بات ملکی سیاست کی ہو یا دہشت گردی کی، خارجہ تعلقات کی ہو یا محکمہ دفاع کی، سیاسی حکمت عملی تیار کرنے کی ہو، یا لیڈرشپ کے یا طاقتور عہدوں کی ، صحیح طریقے یا غلط طریقے کی، سیاستدان ، تاجر، صحافی، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے گرو، ڈپلومیٹ اور دوسرے تمام اہم لوگ ایک نظر آئی ایس پی آر پر ہی جمائے رکھتے تھے۔ ایسا کرنا ان کی مجبوری تھی کیوں کہ لفظ آئی متکلم کی ضمیر ہے جو باجوہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جنہیں میڈیا سے بہت پیار تھا، پی اس شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کا نام آر اور ایس سے شروع ہوتا یعنی راحیل شریف۔ یہی چیزیں ملکر آئی ایس پی آر بناتی تھی۔

سابقہ ڈی جی کے ٹویٹر اکاونٹ کے مواد کا جائزہ لیا جائے تو بہت اچھے پیٹرن سامنے آتے ہیں جو اس تصویر کی عکاسی کرتے ہیں ۔ آئی ایس پی آر انہیں دو شخصیات کو بیان کرتا ہے۔ اب جب کہ ان سب چیزوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، بہترین طریقہ یہ بنتا ہے کہ ہم اس ادارے کے کردار پر ایک نظر ڈالیں جو میڈیا کو باخبر رکھنے کا ذمہ دار ہے۔ اس ضمن میں پہلا سوال یہ ہے کہ آئی ایس پی آر کے قابل اعتبار ذرائع پر کنٹرول کا حصول اور اس کی ترجیحات کو ری سیٹ کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ایک صحافی کے نقطہ نظر سے کچھ ایریاز ایسے ہیں جن میں یہ ادارہ علم، ڈیٹا اور انفارمیشن کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ پہلا ایریا ڈیفنس سیکٹر خود ہے۔

سکیورٹی سٹیٹ کے نام سے پہچانا جانے والا اور مختلف دہشت گرد گروپوں کا شکار ملک ڈیفنس سیکٹر کے کام کے طریقے کو جاننے کی ضرورت بہت اہم چیز ہے۔ ہم نے سیاست، پارلیمنٹری اداروں، عدلیہ، محکمہ صحت، تعلیم ، جرائم اور پولیس کے محکموں سے کچھ رپورٹرز کو ٹرین کیا ہے لیکن جب بات محکمہ دفاع کی آتی ہے تو تمام نیوز اور میڈیا ہاوسز اندھیرے میں ٹٹولتے نظر آتے ہیں۔ ٹرمنالوجی سے لے کر انڈرسٹینڈنگ ویپن تک، درجات سے لیکر مختلف کمانڈ سٹرکچر تک، سپاہیوں کے ویلفئیر سے لے کر ریکروٹمنٹ کے طریقوں تک کوئی ٹرینڈ جرنلسٹ نہیں پایا جاتا جو بغیر خوف، تضاد کے پوری اتھارٹی کے ساتھ خبر رپورٹ کر پائے۔

On a tangent

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض اوقات جعلی رپورٹس گردش کرنا شروع ہو جاتی ہیں جو ایک اچھی چیز نہیں کہلاتی۔ کچھ لہجے اور ھیلمنٹ اور بلٹ پروف جیکٹ پہن لینا بھی پروفیشنل کمپیٹینس کی علامت گردانا جاتا ہے۔ ابتدائی انفارمیشن جو وکی پیڈیا پر سرچ کر کے حاصل کی جاتی ہے کے ذریعے یہ باور کروایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو اس اہم سیکٹر کے ڈائنامکس اور اس کے متعلقہ اداروں کے بارے میں خبر رکھتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ آئی ایس پی آر کے دائیں بازو اور پی آر پرسنز کے طور پر کام کرتے ہیں۔

بہت سے محنتی صحافی بھی ٹریننگ اور لرننگ کے ذریعے اس سبجیکٹ کو سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے اس لیے انہیں لائن آف کنٹرول، بھارت کی جنگی تیاری ، بلوچستان میں جاسوسی، نئے ہتھیاروں کی تیاری جیسے اہم مسائل پر گفتگو کا موقع نہیں دیا جاتا۔ آئی ایس پی آر ایسا پلیٹ فارم ہے جو جرنلسٹ کے لیے ٹریننگ کے مواقع مہیا کرتا ہے۔ یہ اہم کام پریس کلب اور میڈیا نمائندوں کی مدد سے ہی مکمل ہو سکتا ہے۔ یہ بہترین ذرائع کو بہتر طریقے سے استعمال کر کے محکمہ دفاع کے صحافیوں کے علم میں اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ اپنے جال کو پھیلا کر عام صحافیوں تک پہنچانے کی بھی قابلیت رکھتا ہے۔

اس معاملے میں میڈیا تنظیموں کے ساتھ مل کر پیرا میٹر کا تعین کیا جاتا ہے۔ لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک فائدہ مند ترتیب بن سکتی ہے جوڈیفنس سیکٹر کے کام کے حوالے سے بہتر کوریج اور زیادہ متوازن ویو کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ آئی ایس پی آر پالیسی معاملات پر بھی دوبارہ غور کر نے پر فوکس کر سکتی ہے جہاں فورسز کو ادارہ کی حیثیت سے اپنے نقطہ نظر کا اختیار مل سکتا ہے اور جہاں آزادی سے ڈیفنس معاملات پر بحث کرنے سے زیادہ نقصان کا بھی خدشہ نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر مختلف ڈاکٹرائن جو ہرروز ٹاک شوز میں ڈسکس کیے جاتے ہیں کو فلیش آوٹ کیا جا سکتا ہے۔

اس میں بہتری اس صورت میں آ سکتی ہے جب آئی ایس پی آر کی طرف سے دستاویزات اور ریسرچ پیپرز تک رسائی دی جائے۔ مختلف تحقیقی اداروں میں بہت کام ہو رہا ہے اور یونیورسٹیاں بھی ڈیفنس معاملات پر مطالعے کے لیے سکالرشپ دے رہی ہیں لیکن ان سب کاوشوں کو محدود کر دیا جاتا ہے یا پھر الماریوں میں دبا کر رکھ دیا جاتا ہے اور اسے کبھی جنرل ڈسکشن میں نہیں لایا جاتا۔ اس طرح کا مواد جنرل ڈسکشن کے لیے مہیا کیا جانا چاہیے۔ ریکارڈ ، ویڈیو، آڈیو اور متن تک پوری رسائی دی جانی چاہیے تا کہ متعلقہ مضامین پر کام کرنے والے حضرات اپنے کام کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں۔ لیکن سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس ادارے کو آرمی چیف کے آفس سے بڑھ کر فوج کے تینیوں شعبوں کی نمائندگی کرنی چاہیے۔

اس ادارے کے ٹائٹل سے ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کا کام فورسز کے تینوں شعبوں کے بارے میں عوام کو با خبر رکھنا ہے نہ کہ صرف ایک شعبے کی معلومات تک محدود رکھنا ہے۔ آئی ایس پی آر کے اوریجنل فوکس کو بحال کرنے سے یہ ادارہ زیادہ معلوماتی بن سکتا ہے اور نیوی اور ائیر فورس کو ڈیفنس معاملات میں زیادہ توجہ مل سکتی ہے۔ اس وقت دوسری دو فورسز کو بہت کم ٹاک ٹائم دیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کو اپنے ملک کے محکمہ دفاع کے بارے میں پوری معلومات نہیں مل رہیں۔ یہ بنیادی اقدامات اس ادارے کو موجود دور میں زیادہ اہم بنا سکتے ہیں اور اس کی حرکات اور سکنات کو زیادہ مثبت فوکس دے سکتے ہیں۔

میڈیا کے نقطہ نظر سے انفارمیشن ایکٹو آئی ایس پی آر جو اسے ڈیفنس معاملات کا 3ڈی ویو دے سکے بہت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اپنا پرسنل ایجنڈا پیش کرنے والے لوگوں کے لیے اب تک یہ ادارہ بہترین پوزیشن میں رہا ہے لیکن اس سے اس کی خدمات کو ملکی سطح پر حوصلہ افزائی نہیں مل پائی اور یہ ادارہ اپنے بنیادی مقاصد کو حاصل کرنے میں پوری کامیابی نہ سمیٹ سکا۔ اب تک یہ صرف سویلین حکومت کے حریفوں اور دوسرے طاقت کے سرچشموں کے بیچ جنگ میں الجھا رہا ہے اور اپنے آپ کو انفارمیشن تک محدود نہیں رکھ پایا ہے۔ نئے آئی ایس پی آر اس ادارے کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر نظر ڈالتے ہوئے اپنا مستقبل کا لائحہ عمل تیار کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئے آئی ایس پی آر کو ایسا ادارہ ملا ہے جو اس وقت تک اپنے ٹارگٹ سےہٹا ہوا تھا۔

www.thenews.com.pk/print/172850

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *