دل بہت اداس ہے!

ata-ulhaq-qasmi-1

کئی دنوں سے دِل بہت اداس ہے اور جوں جوں شام ڈھلتی ہے، اداسی بڑھتی چلی جاتی ہے مگر میں اس کیفیت سے نکلنا نہیں چاہتا۔ اداسی بھی تو ایک طرح کی نہیں ہوتی، اس کے بھی کئی رنگ ہوتے ہیں اور ہر رنگ کی کیفیت دوسرے سے الگ ہوتی ہے۔ اداسی کسی سے ملنے کے بعد کی بھی ہوتی ہے اور کسی سے بچھڑ جانے پر بھی اداسی انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ کسی کے بچھڑ جانے کی اداسی میں افسردگی بھی شامل ہو جاتی ہے اور یہ اداسی اور افسردگی دل والوں کا اثاثہ ہوتی ہے جس کی وہ حفاظت کرتے ہیں۔ میرے کئی ہم عصر مجھ سے بچھڑ گئے اور میں اس حوالے سے حاصل ہونے والی اداسی اور افسردگی کی حفاظت کرتا ہوں۔ ابھی حال ہی میں ایک دوست بچھڑا ہے جسے میں اپنا بزرگ سمجھا کرتا تھا مگر وہ تو شناختی کارڈ پر درج اپنی تاریخ پیدائش کے حوالے سے مجھ سے بھی ایک سال چھوٹا نکلا۔ میں انور قدوائی کا ذکر کر رہا ہوں اور مجھے یہ بات ان کے صاحبزادے امان انور نے بتائی۔ امان کو میں نے جہاں زیب بلاک علامہ اقبال ٹائون کی گلیوں میں کھیلتے دیکھا ہے اور اب وہ ماشاء اللہ ایک جوانِ رعنا ہے۔
میں اور انور قدوائی دو گلیاں چھوڑ کر ایک دوسرے کے ہمسائے تھے، اس کے برابر میں سرفراز سید کا گھر ہے جو میرا یونیورسٹی فیلو ہے۔ پھر اپنے ’’مشرق‘‘ والے ’’میر صاحب‘‘ اور ’’پاکستان ٹائمز‘‘ والے ’’ننھا‘‘! اس کے برابر والے ستلج بلاک میں انور سدید مرحوم رہتے تھے اور اسی گلی میں رفیق ڈوگر بھی رہتا تھا جو اب ایک دوسری بستی میں شفٹ ہو گیا ہے۔ میرے دوسرے ہمسایوں میں ڈاکٹر سلیم اختر، عاشق چوہدری، رئوف ظفر، کے زریں، اسلم کمال کے گھر تھے جو ابھی تک انہی گھروں میں ہیں۔ روزنامہ مشرق کے سبحانی صاحب بھی تو یہاں تھے جن کے ہاں اکثر محفلیں منعقد ہوتیں اور ہم سب جو ان دنوں زیادہ مصروف نہیں تھے، ان محفلوں میں شامل ہوتے جن میں ہر طرح کی گپ شپ شامل تھی۔ سبحانی صاحب نے اپنے والد کے مشورے پر اپنا گھر بغیر بنیادوں کے تعمیر کیا تھا، اپنے والد کے مشورے پر اس پلاٹ پر جھاڑو دیا گیا اور اس پر عمارت کھڑی کر دی گئی۔ پروفیسر مہدی حسن، ممتاز گیلانی اور قیوم اعتصامی بھی جہاں زیب بلاک میں میرے ہمسائے تھے اور ان کے علاوہ ادب و صحافت سے تعلق رکھنے والی کتنی ہی شخصیات اس بستی میں مقیم تھیں۔ ہم سب کو پانچ پانچ مرلے اور دس دس مرلے کے یہ پلاٹ رائٹرز گلڈ کی طرف سے ملے تھے۔ دس مرلے کے پلاٹ کی قیمت سترہ ہزار روپے تھی اور یہ بھی قسطوں میں ادا کرنا تھی۔ میرے برابر کے دو پلاٹ ابن انشاء اور ممتاز مفتی کو الاٹ ہوئے تھے مگر انہوں نے وہاں گھر نہیں بنائے۔ ایک اور ہمسائے کا ذکر تو میں بھول ہی چلا تھا، یعنی حفیظ صدیقی کا جو ایم اے او کالج میں میرے کولیگ تھے۔ پروفیسر جلیل نقوی بھی یہیں تھے اور وہ بھی ہمسائے ہونے کے علاوہ ایم اے او کالج میں میرے کولیگ تھے۔ کنول فیروز اور عصمت طاہرہ بھی تو یہیں رہتے تھے۔ عصمت طاہرہ فیملی سمیت امریکہ یا شاید کینیڈا جا چکی ہے جبکہ کنول فیروز غالباً اب بھی وہیں ہے، بچے باہر جا چکے ہیں۔
انور قدوائی تازہ تازہ بچھڑے ہیں اور یوں وہ زیادہ یاد آ رہے ہیں۔ ان سے میری ملاقات نوائے وقت کے دفتر سے زیادہ صفدر کی دکان پر ہوتی تھی جو میری ہی طرح سودا سلف لینے کے لئے وہاں دکھائی دیتے تھے۔ ان دنوں ڈاکٹر سلیم اختر اور پروفیسر جلیل نقوی اور دوسرے دوست بھی سودا سلف خود ہی لایا کرتے تھے اور صفدر کی کریانے کی دکان ’’مرجعِ خلائق‘‘ تھی۔ انور قدوائی سیاسی انسائیکلوپیڈیا تھے۔ ایک زمانے میں ان کے ’’براہ راست‘‘ تعلقات اس دور کے اہم رہنمائوں سے تھے ان سے سیاسی مشورے بھی لئے جاتے تھے اور انہیں اہمیت بھی دی جاتی تھی۔ پھر وہ ’’جنگ‘‘ میں آ گئے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ ان کی فعالیت میں کمی آ گئی تھی۔ میں بھی نوائے وقت سے جنگ میں آ گیا اور کالم بھیجتا یا کسی روز نہ بھیج پاتا تو قدوائی صاحب کا فون آ جاتا۔ وہ مجھ سے سیاسی منظر نامے کے حوالے سے استفسار کرتے تو مجھے ہنسی آ جاتی اور میں کہتا ’’یا اخی آپ بحر سیاست ہیں اور ایک جوئے کم آب کو امتحان میں ڈال رہے ہیں‘‘ پھر وہ ہنستے اور پورے سیاسی منظر نامے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے۔ میں جب کبھی بیرونِ ملک جاتا وہ ایک سگریٹ کے سائز کے سگار کی فرمائش کرتے جس کی قیمت چند روپوں سے زیادہ نہ ہوتی اور میں نے انہیں وہ سگریٹ نما سگار کبھی پیتے بھی نہیں دیکھا، شاید وہ کسی اور کی فرمائش پوری کر رہے ہوتے تھے۔
میں بہت اداس ہوں، اب انور قدوائی سے کبھی بات نہیں ہو سکے گی۔ میں اس پوری بستی کے لئے بھی اداس ہوں جو مجھ سے چھوٹ گئی۔ میں ایک چھوٹے مکان سے ای ایم ای سوسائٹی کے بڑے مکان میں آگیا۔ میں اپنے اس بچھڑے ہوئے گھر کو بھی یاد کرتا ہوں جہاں گلی میں سے پھیری لگانے والوں کی آوازیں آتی تھیں، جہاں گلی میں سے بچوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی تھی، جہاں ہمسایوں سے میرے گہرے مراسم تھے۔ ای ایم ای سوسائٹی میں خاموشی کا راج ہوتا ہے وہاں نہ کوئی پھیری والا آتا ہے اور نہ ہمسایوں سے ملاقات ہو پاتی ہے۔ پرانے گھر میں تو کمرہ بھی کمرے سے جڑا ہوا تھا، نئے گھر میں ایسا نہیں۔ میں انور قدوائی کو یاد کرتا ہوں، پرانی بستی کو یاد کرتا ہوں، اس کے مکینوں کو یاد کرتا ہوں تو اداس ہوتا ہوں اور اس اداسی میں افسردگی بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ افسردگی ملی اداسیاں میرا اثاثہ ہیں اور میں اس اثاثے کی حفاظت کرنے والوں میں سے ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *