ایک ’’روا دار‘‘ دوست کی کہانی

ata-ulhaq-qasmi-1

میرے ایک دوست پر’’رواداری‘‘ ختم ہے، وہ ہر ماحول میں نہ صرف یہ کہ خود کو ڈھال لیتا ہے بلکہ اس کی گرم جوشی سے لگتا ہے کہ ماحول اس میں ڈھل گیا ہے۔ اس کی رواداری کا یہ عالم ہے کہ مجھے آج تک پتہ نہیں چلا کہ اس کا نظریہ کیا ہے یا عقیدے کے لحاظ سے وہ کس مسلک سے منسلک ہے۔ میں تو اپنی تمام تر کوشش کے با وجود اس کی’’صنف‘‘ بھی دریافت نہیں کرسکتا۔ ایک دفعہ ایک شادی پر خواجہ سرائوں نے ناچنا شروع کیا تو میں نے محسوس کیا کہ وہ ان میں شامل ہونے کی خواہش پر بڑی مشکل سے قابو پارہا ہے، بالآخر اس نے ان سے اظہار یکجہتی کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ ان کا گانا بجانا ختم ہونے پر ان کے پاس گیا اور ایک ہاتھ اپنی کمر پر اور دوسرا ہوا میں نچاتے ہوئے کہا’’سنائو بہنا، گرو کا کیا حال ہے؟‘‘ایک دفعہ میرا یہ دوست اور میں بیرون ملک ایک ریستوران میں بیٹھے تھے جہاں ٹی وی پر پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ کا میچ دکھایا جارہا تھا۔ ریستوران میں پاکستانی اور گورے دونوں موجود تھے۔برطانوی بائولر کوئی گیند اچھی کھیلتا تو میرا دوست گوروں سے بڑھ کر اچھل اچھل کر داد دیتا اور پاکستانی بیٹسمین کوئی کام دکھاتا تو اس پر بھی یہ خوشی سے پاگل سا ہوجاتا۔ میچ انگلینڈ جیت گیا اور میں نے دیکھا میرا دوست ا پنی سیٹ پر موجود نہیں ہے، میں باہر گیا تو دیکھا کہ گوروں سے سڑک اٹی پڑی ہے اور وہ خوشی سے والہانہ رقص کررہے ہیں ، مجھے ان میں ایک ایشیائی خدوخال والا شخص بھی نظر آیا جس کے چہرے سے خوشی پھوٹی پڑتی تھی اور وہ دیوانہ وار رقص کررہا تھا۔ ظاہر ہے یہ میرا روادار دوست ہی تھا۔
لاہور میں عید میلادالنبیؐ کے جلوس میں بہت رونق تھی، مگر اس میں ایک واحد پاکستانی تھا جس نے عربی لباس پہنا ہوا تھا اور اونٹ پر سوار تھا۔ اس کے گلے میں پھولوں کے ہار بھی تھے اور میں سمجھ گیا کہ یہ میرے دوست کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتا، سو یہ وہی تھا۔ دسویں محرم کو یہ ایک مجلس میں بیٹھا تھا، سب لوگ گریہ کررہے تھے مگر یہ اپنے سر پر دو ہتڑ مارتا تھا اور گریہ کی بجائے اپنے سر میں بین ڈالنے میں مشغول تھا کہ گریہ کرنے والے جب اپنی مسکراہٹ پر قابو نہ پاسکے تو منتظمین میں سے ایک شخص اٹھا اور اسے اٹھا کر باہر ایک تھڑے پر’’اتار‘‘ آیا، میرا یہ دوست جب اہل حدیث کی مسجد میں نماز ادا کرنے جاتا ہے تو اتنی زور سے بلکہ چیخ کر آمین کہتا ہے کہ امام صاحب گھبراہٹ کے عالم میں نماز بھول جاتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں اور تمام نمازیوں کو سجدہ سہو ادا کرنا پڑجاتا ہے۔میرا یہ روادار دوست بہت جمہوریت پسند ہے، لیکن اگر کوئی جمہوریت پر شب خون مارے اور ملک پر قبضہ کرلے تو جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹر کو خوش آمدید کہنے والے نڈر اور بے باک تجزیہ نگاروں کی رائے کے احترام میں یہ بھی آمریت کی مدح سرائی کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ لولی لنگڑی جمہوریت سے ڈکٹیٹر شپ بہتر ہے لیکن جب کوئی اس سے کہتا ہے کہ جمہوریت کو لولا لنگڑا کرنے والے یہی ڈکٹیٹر ہی تو ہیں جو اس پودے کی کونپلیں پھوٹنے سے پہلے اسے جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں تو اپنی رواداری کے تقاضے کے تحت وہ ان سے کامل اتفاق کا اظہار کرتا ہے۔ ایک دن خدا کے وجود پر گفتگو ہورہی تھی میں نے اسے احسان دانش کا یہ شعر سنایا ؎
کچھ ایسے مناظر بھی گزرتے ہیں نظر سے
جب سوچنا پڑتا ہے خدا ہے کہ نہیں ہے؟
یہ شعر سن کر اس نے اتنی دیر تک واہ واہ کیا، جب تک میں نے اسے ہاتھ جوڑ کر منع نہیں کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ احسان صاحب کے شعر کوغلط معنی پہناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ خدا کہ وجود کو ماننے والے اس شعر میں کہی گئی بات کا جواب کہاں سے لائیں گے؟ تھوڑی دیر بعد میں نے اسے عدمؔ کا شعر سنایا؎
آگہی میں اک خلاء موجود ہے
اس کا مطلب ہے خدا موجود ہے
دوست نے اس شعر پر بھی اتنی ہی داد دی جتنی احسان دانش کے شعر پر دی تھی اور ساتھ یہ تبصرہ بھی کیا کہ انسانی عقل محدود اور خدا کی ذات لامحدود ہے، چنانچہ ایک محدود چیز میں ایک لامحدود چیز کیسے سما سکتی ہے، اللہ جانے کون لوگ ہیں جو خدا کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔ایک بار ہم دونوں انڈیا گئے، ہم جس کسی سے بھی ملتے یہ ہاتھ جوڑ کر اسے نمستے بلکہ’’جے رام جی کی‘‘ بھی کہتا،ایک صاحب سے جب یہ اسی طرح ملے اور انہیں پتہ چلا کہ یہ پاکستان سے آئے ہیں ، تو اس نے ان سے پوچھا ’’ہم نے سنا ہے کہ پاکستان میںمحمدن ،ہندوئوں سے بہت برا سلوک کرتے ہیں آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ تو اس وقت اس نے’’رواداری‘‘ کا مظاہرہ کرنے کی بجائے خدا ترسی سے کام لیتے ہوئے کہا’’نہیں جی، ہم تو وہاں بہت خوش ہیں‘‘ ایک اور صاحب سے اسی طرح نمستے اور ’’جے رام جی‘‘ کے انداز میں ملے تو انہوں نے جواب میں اسلام علیکم کہا، اور پوچھا آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے جواب میں تین دفعہ پوری قرأت سے الحمد للہ، الحمد للہ کہا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *