ٖٖغیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں (دوسرا حصہ)

Ata ullah wadood

اس سے قبل بھی یہ عاجز غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے متعلق ایک کالم تحریر کر چکا ہوں جس پر قارئین کی طرف سے فیڈ بیک بھی سامنے آیا ہے اور اس ضمن میں کئی ایسے قارئین بھی سامنے آئے ہیں جنھوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے بے شمار مسائل کا ذکر بھی کیا ہے ان مسائل کا سن کر ہم جیسے صحافی حضرات محض اپنے کالم کے ذریعے ہی آواز اقتدار اعلیٰ کے ان ایوانوں تک پہنچا نے کی کوشش کر تے ہیں جہاں عام آدمی کی آواز کی رسائی ممکن نہیں ہے ،اسی ضمن میں لاہور کے ایک لوکل صحافی نے کچھ حقائق مجھ سے شئیر کئے ہیں اپنی شناخت وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے اس لئے ان کا نام تحریر کرنے سے قاصر ہوں البتہ ان کی آواز من و عن آپ تک پہنچانا میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے ان کی تحریر پیش خدمت کرتا ہوں ۔
’’مکرمی ڈاکٹر عطاء الودود صاحب ! بعد السلام عرض کرتا ہوں کہ شہر لاہور میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بھرمار ہو چکی ہے اور اکثر افراد ان سوسائٹیز کے باعث مختلف قسم کے فراڈ کا شکار ہوتے ہیں پھر بے چارے سال ہا سال تک دیوانی مقدمات میں الجھے رہتے ہیں با اثر لینڈ مافیا کے بالمقابل ان کی کسی بھی قسم کی شنوائی نہیں ہوتی آپ اس سے قبل بھی ایک کالم غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے حوالے سے تحریر کر چکے ہیں میرے علم میں لاہور شہر میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے حوالے سے کچھ معلومات ہے آپ سے گزارش ہے کہ اپنے کالم میں اس کا ذکر کر کے ممنون احسان کریں ، شالیمار ٹاؤن میں غیر قانونی تعمیرات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری و ساری ہے اور یہ تعمیرات ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہیں ان غیر قانونی تعمیرات کی واضح مثال ڈاک خانہ روڈ پر نیلم سینما چوک میں بننے والا پلازہ ہے۔یہ پلازہ ’’الرحمان ‘‘ کے نام سے مشہور ہے یہ پلازہ 7کنال رقبے پر محیط ہے جبکہ شالیمار ٹاؤن انتظامیہ کے پاس اس پلازہ کے منظور شدہ پلان کا رقبہ 2کنال 15مرلے ہے ٹاؤن انتظامیہ کے پاس موجود نقشے کے مطابق اس پلازہ کی بیسمنٹ کو گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے مخصوص کیا گیا تھا تاکہ بیرونی سڑکوں پر پلا زہ آنے والے صارفین کی گاڑیاں پارک نہ ہو اور نہ ہی بیرونی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو لیکن اس کے بالکل برعکس پلازہ کی بیسمنٹ میں بھی دکانیں تعمیر کی گئی ہیں اور پلازہ آنے والے صارفین کی گاڑیاں بیرونی سڑکوں پر پارک ہوتی ہیں جس کے باعث ٹریفک کی روانی انتہائی بری طرح متاثر ہورہی ہے بیسمنٹ میں دوکانوں کی تعمیرات کا سہرا ہماری تحقیقات کے مطابق ٹاؤن آفیسر ملک طارق کے سر ہے جنھوں نے مک مکا کر کے پلازہ مالکان کو غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی ، طرفہ تماشہ ہے کہ اتفاقا چند ماہ قبل الرحمان پلازہ کے غیر قانونی بیسمنٹ میں واقع ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں آگ لگ گئی خوش قسمتی سے اس آگ کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی نقصان تو نہیں ہوالیکن عمارت کو شدید نقصان پہنچاآگ کے بعد مقامی ٹاؤن آفیسر نے پلازہ اور بیسمنٹ کو سیل کر دیا پھر مالکان اور ٹاؤن انتظامیہ کے مابین مک مکا کے نتیجے میں دوبارہ ڈی سیل کر دیا گیاحالانکہ پلازہ کو سیل کرتے وقت بلڈنگ انسپکٹر نے مصری شاہ تھانے میں مالکان کے خلاف ایک ایف۔آئی ۔آر بھی درج کروائی تھی اس سب کے باوجود بغیر کسی کاروائی کے غیر قانونی الرحمان پلازہ کو ڈی سیل کر دیا گیا آگ لگنے کے واقعہ کے بعد سے بلڈنگ کی حالت انتہائی مخدوش ہے اور کسی بھی وقت کسی بڑے سانحے کا باعث بن سکتی ہے صرف چند روپوں کی خاطر اپنے ضمیر کو بیچ کرچند ضمیر فروش لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیل کر موت کے سوداگر بن گئے ہیں ، علاقہ مکین بھی اس غیر قانونی پلازہ کی وجہ سے انتہائی دقت اور مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ وہ اس الرحمان پلازہ کے خلاف کاروائی کر کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائیں ۔ عاجز نے جب اس غیر قانونی پلازہ کے حوالے سے جائزہ لیا اور اس ضمن میں کچھ تحقیقا ت کی تو وطن عزیز کو جونکوں کی طرح چمٹے افسران کی کارگزاری کا مزید یہ انکشاف ہوا کہ الرحمان پلازہ بغیر کمرشلائزیشن فیس کی ادائیگی کے بنایا گیا ہے صرف 2کنال 15مرلے کے رقبے کو کمرشل کیا گیا ہے اور سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگایا گیا ہے ۔
قانون کے اندھے ہونے کی دوسری مثال اکبر روڈ پر مبارک بیٹری ایجنسی کے بالمقابل کئی منزلوں پر مشتمل طویل پلازہ ہے یہ بھی کمرشلائزیشن فیس کی ادائیگی کے بغیر ہی بنایا گیا ہے،اس پلازہ کی تعمیر کے دوران صارفین کی آمد و رفت کے لئے پلازہ کے اندر پارکنگ کے لئے جگہ نہیں چھوڑی گئی ہے یہ پلازہ بھی ٹاؤن میونسپل آفیسر ملک طارق کی ملی بھگت سے بغیر نقشہ منظوری کے تعمیر کیا گیا ہے ،پھر اکبر روڈ پر ہی اکبر چوک پر طارق ہسپتال کے بالمقابل ایک کنال اراضی پر گودام تعمیر کیا گیا ہے اس گودام کی خاصیت بھی یہی ہے کہ متعلقہ ذمہ داران کی جیب گرم کر کے قومی خزانے کو کمرشلائزیشن فیس کی مد میں چونا لگایا گیا ہے اور نقشہ کی بھی کوئی منظوری نہیں لی گئی ،ٹوکے والا چوک عمر دین روڈ پر دو عدد کمرشل عمارات بھی بغیر کمرشلائزیشن اور نقشہ منظوری کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں ۔والسلام ‘‘ قومی امانت سمجھتے ہوئے میں نے یہ خط آپ سب کی خدمت میں پیش کر دیا ہے ۔
بابو حضرات کے لئے بھی اس کالم میں انھی کے رولز اینڈ ریگولیشنز کو درج کرنا بھی انتہائی ضروری سمجھتا ہوں تاکہ ان کے پاس بھی پس و پیش کی کوئی گنجائش نہ رہے ۔ پنجاب لینڈ ریونیو رولز 2010 کے مطابق 100 کنال رقبہ یا اس سے زائد رقبے کو ہاؤسنگ سکیم تصور کیا جاتا ہے اور جو رقبہ 100 کنال سے کم ہو اسے لینڈ سب ڈویژن تصور کیا جائے گا ان دونوں رقبہ جات کے’’ بائے لاز‘‘ میں کافی فر ق ہے ہاؤسنگ سکیم کے بائے لاز کے مطابق کل رقبہ کا7% فیصد اوپن چھوڑنا پڑتا ہے جو کہ بطور پارک استعمال ہو سکتا ہے،قبرستان کے لئے کل رقبہ کا 5% فیصدچھوڑنا پڑتا ہے ، سڑک کی کم از کم چوڑائی 40 فٹ ہونی چاہیے ، کمرشل ایریا کل رقبہ کا 2% فیصد ہونا چاہیے ، ہاؤسنگ سکیم میں شاہراہوں اور ڈ ویلپمنٹ کے کا موں کیلئے جس میں سیوریج ، واٹر سپلائی ،الیکٹرسٹی اور سوئی گیس وغیرہ شامل ہے کو مہیا کرنا ہاؤسنگ سکیم کے مالک کے ذمہ ہے اگر مالک معائدہ کے مطابق مذکورہ بالا سہولیات مقررہ وقت میں مہیا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو متعلقہ ادارہ جس نے نقشہ پاس کیا ہے اس کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کل ا سکیم کے قابل فروخت پلاٹوں کا 20% فیصد پہلے رہن رکھے اور پھر بعد ازاں ان کو فروخت کر کے جو بھی آمدنی حاصل ہو اسے سکیم کے ترقیاتی کاموں میں استعمال کرے ،لیکن اس قانون پر شاید ہی عمل کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے سنگین مسائل پیدا ہونا ایک معمول بن چکا ہے اگر ان قوانین کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی روح کے
مطابق عمل کروایا جائے تو ہاؤسنگ سکیموں سے متعلقہ تقریباََ تمام ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں لیکن رولز پر عملدرآمد کی صورت میں بھاری کمائی سے محروم ہونے کا خوف متعلقہ عہدیداران کو قانون پر عملدرآمد کروانے سے باز رکھتا ہے ۔
شہر لاہور میں ایل ڈی اے کے مطابق 267 غیر قانونی ، غیر منظور شدہ ہاؤسنگ ا سکیمز تا حال جاری ہیں ایل ڈی اے ان کے خلاف
’’نامعلوم ‘‘وجوہات کی بناء پر مؤثر کاروئی کرنے سے قاصر ہے ( سیاسی پریشر،ذاتی مفادات ، کرپشن وغیرہ) اس کے علاوہ ہاؤسنگ ا سکیم کا این او سی اس وقت جاری کیا جاتا ہے جب اسکیم کے سارے ترقیاتی کام مکمل ہو جائیں اور قبرستان کیلئے اور سڑکوں کیلئے جو زمین استعمال کی جاتی ہے اسے متعلقہ ادارہ کے نام ٹرانسفر کر دیا جائے لیکن ایل ڈی اے افسران کی ملی بھگت سے ایسا نہیں ہوتا اور ایل ڈی اے انتظامیہ بھاری رشوت وصول کر کے مختلف ہاؤسنگ ا سکیمز کو این او سی جاری کر دیتے ہیں لینڈ مافیا اس تمام صورتحال میں سرگرم ہوجاتا ہے اور مال کمانے کے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سادہ لوح عوام کو پلاٹ فروخت کرنا شروع کر دئیے جاتے ہیں جبکہ موقع دیکھنے پر علم ہوتا ہے کہ کسی بھی قسم کے ترقیاتی کا م کا ابھی آغاز ہی نہیں ہوا، اس تمام صورتحال میں ایل ڈی اے افسران کی ملی بھگت تو واضح ہے ہی لیکن حیرت اس امر پر ہے کہ نیب جیسے ادارے بھی مجرمان کی پشت پناہی پر کمر بستہ ہیں شائد حقیقت یہی ہے کہ غریب کیلئے وطن عزیز میں انصاف صرف نام ہی کیلئے ہے ساتھ ہی ساتھ ہمارے انتھک محنت کرنے والے وزیر اعلیٰ شہباز شریف ویسے تو خطابات میں دعوی کرتے ہیں کہ ان کے کسی بھی پروجیکٹ میں کسی بھی قسم کی کوئی کرپشن نہیں ہوئی لیکن شائد ایل ڈی اے کا ادارہ ان کی پہنچ سے دور ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *