Site icon DUNYA PAKISTAN

اسلم ملک ریٹائر ہوگئے

Share

اگر ایک سرکاری اہلکار کی ریٹائرمنٹ مع خطیر پنشن اور بے پناہ پرکشش مراعات ایسی خبر بن سکتی ہے کہ 23 کروڑ عوام کی روزمرہ زندگی صاحب بہادر کی سبکدوشی یا ممکنہ توسیع نیز مسائل ِجانشینی کی پاڑ سے بندھ جائے، افواہوں کی دھند نو لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر اس طرح چھا جائے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے، سازشوں کے پیچ در پیچ سلسلوں پر دفتر کے دفتر سیاہ کئے جائیں، ملک کے آئین میں ترمیم کی نوبت آ جائے، مصدقہ اور غیر مصدقہ اطلاعات کا طومار خاک نشینوں کی سماعت کا آخری حد تک امتحان لے، قصیدے اور ہجو کی جگل بندی میں تاریخ کے حقائق دھندلا جائیں، تو ایک دیانت دار، با اصول، شریف النفس اور اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار کے حامل صحافی کی 45 سالہ پُرمشقت تمدنی خدمت کے بعد خاموش مگر پروقار ریٹائرمنٹ پر کم از کم ایک کالم تو لکھا جا سکتا ہے۔ تو عزیزو، روزنامہ جنگ کے سینئر سب ایڈیٹر اسلم ملک اس قلم سے دست بردار ہو گئے ہیں جس نے مجھ ایسے سینکڑوں مبتدی قلم کاروں کا املا درست کیا اور انہیں سیدھی سطر لکھنا سکھایا۔ (یہ ملال الگ قصہ ہے کہ درویش بوجوہ ان سے کماحقہ استفادہ نہ کر سکا۔) سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلم ملک نے صحافیوں کی کم از کم تین نسلوں کو اپنے کردار کی روشنی میں حقیقی صحافت کی پیشہ ورانہ اقدار سے آشنا کیا۔

4 مارچ 1951کو بہاولپور میں پیدا ہونے والے اسلم ملک میں کم عمری ہی سے ادب دوستی کے آثار نمایاں تھے۔ بہاولپور میں علم پروری کی روایت توانا رہی ہے۔ محمد خالد اختر، محمد کاظم اور ظہور نظر تو ’گل بدست تو از شاخ تازہ تر ماند‘ کے صیغے میں شمار ہوتے ہیں۔ علم و تمدن کی اس بستی کا ہر کوچہ شاخ صد رنگ تھا۔ اسلم ملک صادق ایجرٹن کالج میں ادبی مجلے کے مدیر رہے۔ 1976 میں پنجاب یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹر کی ڈگری لی جہاں مہدی حسن، عبدالسلام خورشید، مسکین حجازی اور وارث میر ان کے اساتذہ تھے۔ یہ وہ دن تھے جب بیشتر اردو صحافی رسمی تعلیم میں کوتاہ ہوتے تھے اور یونیورسٹی کی سطح پر صحافت کی تعلیم پانے والے تو الشاذ کالمعدوم کے زمرے میں آتے تھے۔ اسلم ملک 1977 میں روز نامہ امروز سے وابستہ ہو گئے۔ تب صحافت کی گلی بازار نہیں ہوئی تھی۔ تاریخ اور ادب میں دلچسپی رکھنے والے اذہان ہی اس راہ کا انتخاب کرتے تھے۔ کم آمیز، سنجیدہ اور خوددار اسلم ملک نے رپورٹنگ کی پرکشش دنیا کی بجائے نیوز ڈیسک کے گوشۂ عزلت کو ترجیح دی۔ اس دوران ملک ضیا آمریت کی تیرہ و تاریک سرنگ میں داخل ہو گیا۔ ان دنوں حرفِ انکار ہماری اجتماعی روایت کا غالب رنگ تھا۔ اسلم ملک کے نہاں خانۂ دل میں بھی سرکشی کی موج لہریں لیتی تھی لیکن وہ بلند آہنگ نہیں تھے۔ نیشنل پریس ٹرسٹ کی صحافت تو یوں بھی اقتدار کی مزروعہ شاملات میں شمار ہوتی تھی۔ عمر عزیز کی دوپہر روز نامہ امروز میں خالی از معنی خبریں سنوارنے کی پاکوبی میں اوجھل ہو گئی۔ 1991ء میں امروز کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا تو اگست 1992 میں روز نامہ جنگ کو ٹھکانہ کر لیا۔ نیوز روم کی ایک شکستہ حال کرسی پر ہر سہ پہر آ کے بیٹھنا، اخبارات کا ایک ضخیم پلندا دیکھنا، ’باوثوق ذرائع‘ سے خبریں لانے والے کم سواد رپورٹروں کی خطِ شکستہ میں شکستہ تر خبروں کی تصحیح کرنا اور شام گئے چہل قدمی کرتے ہوئے فرلانگ بھر کے فاصلے پر پریس کلب میں رات کا کھانا، یہ معمول تین دہائیوں تک جاری رہا۔ اس دوران سبک رفتار ترقی کے عزائم آنکھوں میںلئے ان گنت نوجوان یہاں آئے۔ چند ماہ اسلم ملک سے اصلاح لی اور پھر ترقی کے زینوں پر قدم رکھتے کہیں سے کہیں نکل گئے۔ ان میں سے کوئی سول سیکرٹریٹ کی غلام گردشوں کا رازداں تھا تو کوئی 7 کلب روڈ کے ماتحت عملے کا رابطہ کار۔ کوئی تھانہ محرر سے ربط ضبط کے سہارے آگے بڑھا تو کسی نے چڑیا گھر کے عقبی دروازے سے ترقی کی منزلیں عبور کیں۔ اسلم ملک خاموشی سے تماشائے اہل کرم دیکھتے رہے۔ اسد محمد خان نے اپنی ایک کہانی میں کراچی کی اس گلی کا ذکر کیا ہے جو بوجوہ مشاہیر کے نام سے منسوب نہیں ہو سکی۔ خان صاحب کی کہانی میں پلنگ اور دری کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ یہ فرق کراچی کی نیپیئر روڈ ہی پر نہیں پایا جاتا، اسے پاکستان میں سیاست اور صحافت کا استعارہ بھی سمجھئے۔ جسے جھروکہ درشن دینے کا ملکہ نصیب ہو، اسے شہ نشینی ملتی ہے اور جس نے راگ ودیا کے ریاض میں ایک عمر صرف کی ہو اسے صف نعلین میں بٹھایا جاتا ہے۔ عرصہ ہوا، درویش نے ایک بلوان صحافی سے سوال کیا تھا کہ اسلم ملک جیسے صاحب کمال کو صحافت میں ان کا حقیقی مقام کیوں نہیں مل سکا۔ جواب تلخ تھا مگر سچ سے خالی نہیں تھا۔ کہا کہ ’’اسلم ملک میں ضرورت سے زیادہ شرافت پائی جاتی ہے‘‘۔ حالیہ دنوں میں ایک سیاست دان نے سرعام اپنی سیاسی اہلیت بیان کرتے ہوئے بدمعاشی کی صلاحیت کو بھی اپنے اثاثوں میں شمار کیا تو درویش کو باور ہو گیا کہ اسلم ملک نے درست راہ اپنائی تھی۔ وہ لفظ اور خبر کے آدمی ہیں، دھینگا مشتی کا ہنر نہیں جانتے۔ 1949 میں روزنامہ انقلاب بند ہوا تو عبدالمجید سالک 1200 روپے ماہوار پر ریڈیو پاکستان کراچی چلے گئے۔ ایک مشترکہ دوست نے مولانا غلام رسول مہر کو سالک صاحب کے بارے میں خبر دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ آپ بھی کچھ ایسی کوشش کیجئے۔ مہر صاحب نے فرمایا، ’بھائی اس کا کیا جواب دوں کہ کوئی پہلوانی کے دائو پیچ جانتا ہے اور کوئی اس سے نابلد ہے۔‘ واقعی کچھ بخت آور صحافت میں ضرب لگانے اور جمع تفریق کا کلیہ سمجھتے ہیں اور جو یہ علم نہیں رکھتے، وہ 2022ء کی ایک سہ پہر اسلم ملک صاحب کی طرح ریٹائر ہو کر گھر چلے جاتے ہیں۔ البتہ اس موقع پر کمان کی تبدیلی کی کوئی تقریب منعقد نہیں ہوتی کیونکہ صحافی کے پاس قلم ہوتا ہے، چھڑی نہیں۔

Exit mobile version