پاکستانی سماج کے پانچ مثبت اشارئیے

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

2014ء ختم ہونے جا رہا ہے ۔اب سے بیس برس بعد ہم کہاں کھڑے ہوں گے ‘کوئی نہیں جانتا ‘مگر آج ہم کہاں کھڑے ہیں ‘ہمارے سماج کے مثبت اور منفی اشارئیے کیا ہیں ‘یہ جاننا ضروری ہے تاکہ مثبت اشاریوں میں اضافہ کیا جائے اور منفی کو مثبت میں تبدیل کیا جائے ‘اسی صورت میں 2034ء کا پاکستان ایک خوبصورت پاکستان ہو سکتا ہے:
1۔ ہمارے لوگوں کی ایک عجیب و غریب خوبی یہ ہے کہ ہم حکومت پر انحصار کئے بغیر مسائل کا حل نکال کر اپنا کام چلانے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں ‘ ہم نظام کی خرابی کا رونا ضرور روتے ہیں ‘ سرکاری محکموں کے ناروا سلوک کے خلاف احتجاج بھی کرتے ہیں اور حکومتی اقدامات کی سست روی کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں مگر ان تمام رکاوٹوں کے باوجود اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے طریقے ایجاد کرنے کی لگن ہم میں کم نہیں ہوتی ۔ یہ درست ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ فرسودہ سرکاری نظام کے ہاتھوں دلبرداشتہ ہو کر ہمت چھوڑ جاتے ہیں مگر معاشرے کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہوتے ہیں ۔دنیا کا کون سا ایسا ملک ہے جو گذشتہ دس برس سے دہشت گردی کا بدترین شکار ہو ‘ جہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہوں ‘ جہاں آئے روز نظام کے خلاف لوگو ں کو بغاوت پر اکسایا جاتا ہو اور جہاں بیشتر سرکاری ادارے آپ کے ارادوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کا کام کرتے ہوں‘ مگران تمام چیلنجز کے باوجود عوام حوصلہ ہارے بغیر اسی نظام اور معاشرے میں اپنے لئے نئی راہیں تلاش کرکے خود کو کامیابی سے ہمکنار کریں اور عالمی سطح پر دیگر ممالک کا مقابلہ کریں !یہ ہمارے معاشرے کا ایسا وصف ہے جو نہایت مثبت بھی ہے اور حیرت انگیز بھی ۔ مغربی دنیاکے جو ممالک آئے روز ریکارڈ بناتے ہیں وہاں ایسی مشکلات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ‘ ان ممالک میں بچے کو پہلے دن سے آئیڈیل ماحول میسر آتا ہے‘ اس کے رجحان کے مطابق اس کی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے‘ ملک کے تمام ادارے اور ماہرین مل کر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ لوگوں کی بہترین صلاحیتیں ملک کے کام آئیں ‘ ملک کا سسٹم انہیں سہولتیں فراہم کرتا ہے جس سے ا ن کا وقت روزمرہ کے فضول کاموں میں ضائع نہیں ہوتا ‘ تب جا کر وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے ٹیلنٹ کا استعمال کرکے ملک کے لئے کچھ کام کرتے ہیں ‘ وہاں دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کے ہجے بھی کسی کو نہیں آتے‘ جبکہ اپنے یہاں جو بچہ 2000ء کے بعد پیدا ہو ا اسے علم ہی نہیں کہ اس ملک میں کبھی امن بھی ہوا کرتا تھا بالکل اس پیدائشی نابینا شخص کی طرح جسے لاکھ بتایا جائے کہ مدھو بالا ایک خوبصورت عورت تھی مگر اس بیچارے کو ککھ سمجھ نہیں آئے گی ۔ان باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایک ایسی ٹیلنٹڈ قوم ہیں جس کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں ‘مطلب صرف اتنا ہے کہ ہم بھی اتنے ہی ہنر مند یا نالائق ہیں جتنی دنیا کی باقی ترقی یافتہ قومیں مگر جو وصف ہمیں ممتاز کرتا ہے وہ کچھ کر گذرنے کی ہماری انتھک لگن ہے ‘ہمارے آگے دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کے پہاڑ جیسے مسائل کھڑے ہیں اس کے باوجود ہم کسی نہ کسی طرح ان مسائل کو چیرتے ہوئے راستہ بنا کر آگے بڑھ رہے ہیں ‘ کیایہ معمولی بات ہے؟
2۔پاکستانی سماج بحیثیت مجموعی مذہبی انتہا پسند نہیں ہے ۔اس بیان پر اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کے نارمل ملک جنونی نہیں ہوتے لہٰذا اس میں مثبت پہلو کہاں سے نکلتا ہے !اعتراض میں وزن ہوتا بشرطیکہ پاکستان ’’نارمل‘‘ ملک ہوتا ‘ ہمارے ہمسائے میں گذشتہ چار دہائیوں سے عالمی طاقتیں تاریخ کی طویل ترین جنگیں لڑتی رہی ہیں ‘ان جنگوں نے جہاں ہمارے ملک پر دور رس اثرات مرتب کئے وہیں ہمیں فرقہ واریت ‘ مذہبی جنویت ‘تنگ نظری اور عقیدے کی بنیاد پر قتل جیسے تحفوں سے بھی نوازا ‘ کسی نے اٹھ کر ہمارے ملک میںکفریہ نظام کو ختم کرنے کا جھنڈااٹھایا تو کسی نے اپنے مسلک کے سواباقی تمام لوگوں کو کافر ڈکلئیر کرکے ختم کرنے کا کنٹریکٹ حاصل کر لیا ‘ مذہبی منافرتوں کی بنیاد پربڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیا ‘ ٹارگٹ کلنگ ہوئی اور ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کو تاک کر نشانہ بھی بنایا گیا۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود عوامی سطح پر پاکستانی سماج نے مذہبی انتہا پسند ی کو رد کیا ہے ‘ یہ درست ہے کہ عقیدے کی بنیاد پر قتل کرنے یا اقلیتی برادری پر توہین مذہب جیسے الزامات لگا کر زندہ جلانے والے واقعات ہمارے سماج پر کالک مل رہے ہیں مگر معاشرے کا ایک بہت بڑا طبقہ بشمول نمائندہ مذہبی جماعتیں کسی طور ان کی تائید نہیں کرتیں‘ یہ واقعات انتظامی نا اہلی کا ثبوت ضرور ہیں مگر سماج کے بحیثیت مجموعی جنونی ہونے کا مظہر نہیں ۔جس روز ریاست نے صحیح معنوں میں ان واقعات کو انتظامی طریقے سے نمٹنے کا تہیہ کر لیا اور اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ ان نمونوں کے سروں سے ہاتھ کھینچ لیا اس روز رہی سہی جنونیت بھی ختم ہو جائے گی ۔
3۔ اگر ہمارے معاشرے کا کوئی ایک طبقہ ایسا ہے جو صحیح معنوں میں سماج کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے تو وہ اس ملک کی عورتیں ہیں ۔گذشتہ چند برسوں میں سماج میں جو مثبت تبدیلی خواتین کی وجہ سے آئی ہے وہ کسی دوسری وجہ سے نہیں آئی ۔اس تبدیلی کی دو نہایت اہم خصوصیات ہیں ‘ پہلی ‘ یہ ناقابل واپسی عمل ہے یعنی irreversible‘ اس پر قدغن لگا کر روکا نہیں جا سکتا ‘جو عورت اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا ہنر جان گئی ہے اور مردوں کے اس معاشرے میں کسی مرد کے رحم و کرم پر نہیں اور اپنا بوجھ خود اٹھانے کے قابل ہو چکی ہے وہ پاکستانی معاشرے میں مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ فعال اور توانا کردار ادا کر رہی ہے ۔دوسری ‘ عورتوں کے اس کردار پر بحث اب دن بدن ختم ہوتی جا رہی ہے ‘ ایک زمانہ تھا جب اس ملک میں اس بات کا جھگڑا تھا کہ ایک عورت ملک کی وزیر اعظم ہو سکتی ہے کہ نہیں اور اب یہ دن ہے کہ وہی مذہبی جماعتیں جو یہ سوال اٹھایا کرتی تھیں ‘عورتوں کی مخصوص نشستوں پر اپنی خواتین کو بڑھ چڑھ کر نامزد کرتی ہیں۔ پاکستانی سماج میں عورتیں کے عملی کردار کی قبولیت اور اس پر ختم ہونے والی بحث ایک نہایت مثبت اعشاریہ ہے ‘اب صرف اس وقت کا انتظار ہے جب عورتیں ہیلمٹ پہنیں گی اور موٹر سائیکل کو کک لگا کر روز مرہ کے کام نمٹائیں گی ‘ اور یہ وقت زیادہ دور نہیں ۔
4۔ہم سوال اٹھانا چاہتے ہیں ۔ایک زمانہ تھا جب اخبارات میں اس قسم کی خبریں شائع ہوا کرتی تھیں کہ ایک ’’حساس‘‘ ادارے کا اہلکار رکشے کی ٹکر لگنے سے زخمی ہوگیا اور اب یہ دن ہے کہ اسی پاکستان میں پارلیمان 2مئی (ایبٹ آباد فیم اسامہ بن لادن)کو ہونے والے واقعے کی تحقیقات کے ضمن میں متعلقہ اداروں کے سربراہوں کو طلب کرکے باز پرس کرتی ہے ۔گویا پاکستانی معاشرہ اب آہستہ آہستہ اس جانب رواں دواں ہے جب ہر ایشو پر نہ صرف سوال اٹھایا جائے گا بلکہ اس کا جواب تلاش کرنے کی سچی کوشش بھی جائے گی‘ سست روی سے ہی سہی مگر ہم اس راہ پرضرور گامزن ہیں جن پر چلتے ہوئے معاشرے ان نام نہاد سچائیوں پر سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں جو برس ہا برس سے محض اس لئے مانی جاتی ہیں کہ ان پر کبھی کسی نے سوال نہیں اٹھایا ہوتا۔
5۔ شہر کاری(Urbanization)کے عمل نے بھی پاکستانی سوسائٹی میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے ‘ چھوٹے قصبوں اور دیہات شہری رنگ ڈھنگ اپنا نے لگے ہیں جس کے نتیجے میں روایتی برادر ی گروہ بندیاں دم توڑ رہی ہیں ‘ جاگیر داری نظام بکھر رہا ہے ‘ قبائلی سردار کمزور پڑ رہے ہیں جس کا ایک بڑا ثبوت ان روایتی نشستوں پر چوہدریوں اور وڈیروں کی انتخابات کی شکست ہے ‘ یہ تمام عمل صرف وسطی پنجاب میں ہی نہیں بلکہ اس کا اثر کم یا زیادہ پورے پاکستان میں ہے ‘ اس عمل سے لوگوں میں قومی سطح کی سوچ پیدا ہورہی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *