کیا ہم سب بدعنوان ہیں؟

mukhtar-chaudhry-403x400

میں آج ایک لمبی غیر حاضری کے بعد لکھنے لگا ہوں لیکن میری یہ غیر حاضری بلاوجہ نہ تھی بلکہ کالم سے بھی ضروری کام میں مصروف رہا ہوں۔ عام طور پر لکھنے والے حضرات نہ تو کسی عملی کام میں حصہ لیتے ہیں اور نہ ہی اپنے اہل و عیال کو زیادہ وقت دیتے ہیں لیکن میرا معاملہ ذرا مختلف ہے اور میں اپنے گھر والوں  خصوصی طور پر اپنی والدہ صاحبہ کو وقت دیتا ہوں گھر کے کام کاج کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ سماجی معاملات میں بھی حصہ لیتا ہوں اور جہاں کسی کو ضرورت ہو اس کی مدد کی بھی پوری کوشش کرتا ہوں۔ کیوں کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ صرف لکھ کر مسائل کی نشاندہی کر دینا کافی نہیں ہے ہمیں اپنی حد تک عملی طور پر بھی اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے ۔ تو پچھلے ہفتے میں اپنے آبائی گاؤں گیا تو مجھے پتا چلا کہ گاوں کی ایک غریب گھرانے کی لڑکی کا گجرات کے ایک نجی ہسپتال میں ایک انتہائی پچیدہ آپریشن ہوا ہے اور وہ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ہے میں اس لڑکی بلکہ بیٹی کہوں گا کے مسلے سے پہلے سے بھی کچھ جانتا تھا اور سن رکھا تھا کہ وہ آپریشن کے بغیر مزید زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی اور اپریشن کا خرچہ 4 لاکھ ہے اور پھر بھی گارنٹی کوئی نہیں کہ آپریشن کامیاب ہوگا کہ نہیں۔ لیکن اب پتا چلا کہ گجرات کے اس ہسپتال نے 2 لاکھ میں اپریشن کی حامی بھری تھی اور شاید اس سے بھی کم میں ہو جائے۔ میں پچھلے منگل والے دن اس لڑکی کے کچھ رشتہ داروں کے ساتھ اس کو دیکھنے چلا گیا اور وہاں جا کر دیکھا تو میں اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا ایک تو اتنی پیاری سی بیٹی اتنے مشکل آپریشن کے بعد مصنوعی سانس کے سہارے پر تھی اور سب کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اور اوپر سے ہسپتال کے خرچے۔۔۔ اور ڈاکٹر کا رویہ۔۔۔ جس دن میں وہاں گیا اس وقت تک ہسپتال کے اخراجات اڑھائی لاکھ سے تجاوز کر چکے تھے اور تخمینے کے مطابق 4 لاکھ کی حد عبور کر جائیں گے جس وجہ سے اس بیٹی کے لواحقین انتہائی پریشانی کے عالم میں تھے اور ان کے پاس 2 ہی راستے تھے یا تو وہ مزید رقوم کا انتظام کریں یا پھر بیٹی کو موت کے حوالے کر دیں اس بچی کے باپ اور نانا نے مجھے کہا کہ میں ڈاکٹر صاحب سے بات کروں اور لڑکی کی صحت کے متعلق صیح معلومات حاصل کروں اور ساتھ ہی خرچے کے حوالے سے بھی بات کروں کہ مالی معاملات اس گھرانے کی پہنچ سے بہت آگے نکل چکے تھے اور ابھی تک کچھ پتا نہیں تھا کہ کتنی دیر اور اسی حالت میں رہنا پڑے گا ۔ چنانچہ میں ڈاکٹر صاحب کے وارڈ میں آنے کا انتظار کرنے لگا اور جب وہ تشریف لائے تو میں نے مصافحہکرتے ہوئے اپنا نام بتایا اور بات کرنے کے لئیے چند منٹ مانگے تو انہوں نے کہا کہ میرے دفتر میں آکر مجھ سے بات کرنا اور میری بات مزید سنے بغیر آگے کی طرف چل دیئے اور انکے ساتھ کوئی 5 عدد انکے عملے کے لوگ بھی تھے جن کا کام صرف ڈاکٹر صاحب کو پروٹوکول دینا تھا۔ میں ڈاکٹر صاحب کے دفتر کے باہر انتظار کرتا رہا اور وہ جونہی دفتر آئے تو میں ان کے پاس گیا پہلے تو انہوں نے یہ کہہ کر مجھے واپس کر دیا کہ میں باہر بیٹھے ان کے کارندے کو ساتھ لے کر اندر نہیں گیا تھا اور جب میں نے اس سے بات کی وہ مجھے باہر انتظار کا کہہ کر اندر داخل ہوا اور پھر مجھے اندر آنے کو کہا میں اپنے ساتھ اس بچی کے نانا کو بھی لے گیا جن کو اندر داخل ہوتے ہی ڈاکٹر نے باہر نکال دیا اور مجھے سامنے پڑی سائل کی بینچ نما کرسی پر بیٹھنے کو کہا لیکن میں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کرتے ہوئے ڈاکٹر کے پاس والی کرسی پر جا بیٹھا جو ان کو ناگوار گزرا اور انہوں نے مجھ سے بات کرنے سے ہی انکار کر دیا اور کہا کہ میں آپ کو نہیں جانتا اور میں اس مریضہ کے صرف ان لواحقین سے بات کروں گا جن کے ساتھ پہلے دن سے میری بات چل رہی ہے میں نے کہا کہ مجھے لواحقین نے ہی تو بات کرنے کا کہا ہے اور آپ ان کو بھی ساتھ بلوا لیں لیکن ڈاکٹر صاحب کو میرا وہاں بیٹھنا پسند نہیں آرہا تھا لیکن میں بھی اپنی بات پر اڑ گیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ میں بھی اپنی بات کئیے بغیر نہیں جاوں گا اور آپ کو اپنا رویہ درست کرنا ہوگا ورنہ مجھے گھی نکالنے کے لیے اپنی انگلیوں کو ٹیڑھا کرنا پڑے گا ۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے کارندے کو غصہ کرتے ہوئے کہا یہ کیا ہو رہا ہے اس کارندے نے مجھے کہا کہ آپ میرے ساتھ باہر چلیں میں نے جواب دیا کہ بچے یہ تیرے بس کا روگ نہیں کہ مجھے باہر نکال سکو۔ خیر آخر ڈاکٹر صاحب نرم ہوئے اور بچی کے لواحقین کو بھی بلوا کر مجھ سے بات کرنے پر راضی ہو گئے ۔ پھر میرے سوالات کے جوابات میں وہ اپنی مجبوریوں اور مشکلات کا رونا رونے لگے اور پاکستان اور پاکستانی قوم کو کوسنے دیتے رہے اور ساتھ ہی مجھے یہ بتانے لگے کہ انہوں نے 7 سال تک برطانیہ میں نوکری کی ہے اور یورپ کے نظام صحت کے متعلق بتانے لگے تو پھر میں نے بتایا کہ جناب یورپ کے حوالے سے میں بھی کچھ جانتا ہوں اور اگر آپ اتنا عرصہ برطانوی نظام میں گزارنے کے بعد بھی اس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو پھر آپ نے کچھ سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے ۔ اسی طرح کافی دیر تک ہماری بحث چلتی رہی اور ڈاکٹر صاحب کا رویہ بھی قدرے بہتر ہونے لگا اور اگلے دن سے انہوں نے لواحقین سے 2 ہزار روپے روزانہ کے کم لینے کا احسان فرمایا ۔ میں نے اپنی جیب سے اس بیٹی کے والد کی کچھ مدد کی اور اپنے گاؤں کے لوگوں سے بھی اپیل کی اور اپنے چند دوستوں سے بھی گزارش کی جس کے نتیجے میں ابھی تک مجھے ایک لاکھ روپے وصول ہو چکے ہیں جو صرف طارق شہباز صاحب جو میرے بڑے بھائی جیسے دوست ہیں اور ناروے کے مرکزی سیاسی راہنما ہیں نے صرف اپنی جیب سے مجھے بھیجے ہیں اور ان کے علاوہ دوسرے دوستوں کے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن کے مطابق  ایک دو دن میں مزید رقوم بھی مل جائیں گی اور امید ہے کہ ان فرشتہ صفت دوستوں کے سبب ہماری اس بیٹی کو نئی زندگی حاصل ہو جائے گی ورنہ اس کے لواحقین کے پاس کوئی راستہ نہ تھا کہ اس کو موت کے حوالے ہوتے دیکھتے رہتے ۔

bachi

اس واقعے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور میں اس دن سے یہی سوچ رہا ہوں کہ کیا ہم سب بد عنوان ہیں؟ کیا ہم سب اس قدر بے حص ہو چکے ہیں؟  کیا ہمارا سب کچھ پیسہ ہی رہ گیا ہے؟ کیا ہم انسانیت کے درجے سے بہت نیچے گر چکے ہیں؟ تو پھر ہم صبح شام اپنے حکمرانوں،  سیاستدانوں اور بیوروکریسی کی بد عنوانی کا رونا کیوں روتے رہتے ہیں جبکہ ہر کوئی حتی المقدور بدعنوانی میں ملوث ہے؟ ہم اگر روز مرہ کے معمولات،  واقعات اور حادثات پر غور کریں تو یہی سمجھ آتا ہے کہ ہم بطور ایک قوم بدعنوانی میں ملوث ہیں لیکن دوسری طرف ہر کوئی بدعنوانی کے خلاف برسر پیکار بھی ہے ملکی اکثریت بدعنوانی سے پاک معاشرے کی خواہاں ہے لیکن دانستہ یا غیر دانستہ ہر شخص کسی نہ کسی شکل میں بدعنوانی میں ملوث بھی ہے۔ جس کو دیکھو وہ حکمرانوں اور اشرافیہ کے پروٹوکول سے تنگ نظر آتا ہے لیکن خود اپنی اپنی حیثیت میں پروٹوکول کا متمنی بھی ہے۔ آج کل اسرائیل کا وزیراعظم بدعنوانی کے الزامات کی زد میں ہے اور بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پولیس نے 3 گھنٹے تک اپنے وزیراعظم سے پوچھ گچھ کی ہے کیا ایسی کوئی مثال وطن عزیز میں بھی ملتی ہے؟ ابھی پچھلے دنوں ہی سانحہ کوئٹہ پر جسٹس فائز قاضی صاحب کی کمیشن رپورٹ سامنے آئی ہے  (شکر ہے کہ 70 سالوں میں پے در پے سانحات پر بننے والے کمیشنز میں سے کسی کی رپورٹ بھی آگئی ہے) اس رپورٹ میں ایسے ایسے انکشافات ہوئے ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی قانون ہے اور نہ کوئی حکومت ہے اوپر سے ہمارے شعلہ بیان وزیر داخلہ صاحب ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے سیخ پا ہو کر ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کمیشن پر برس پڑتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو بھی سامنے لایا جائے،  حضور والا وزیر داخلہ تو آپ ہی ہیں نا! پھر کس کس رپورٹ کی بات کی جائے؟  آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کا استعفی وزیراعظم صاحب نے قبول نہیں کیا سوال یہ ہے کہ اگر آپ اپنی غلطی ہی تسلیم نہیں کرتے تو پھر استعفی کس بات پر دے رہے ہیں؟  اور اگر آپ کو اپنی غفلت کا احساس ہو ہی گیا ہے تو پھر جناب استعفی دیں اور گھر جائیں وزیراعظم قبول کریں یا نہ کریں آپ کا کیا لینا دینا؟  مگر اپنے وطن میں استعفوں کی روایت ہی کہاں ہے یہاں تو کرکٹ یا ہاکی ٹیم کے کپتان کو بھی ہاتھ پاؤں باندھ کر گھر بھیجنا پڑتا ہے تو پھر حکومتی پروٹوکول اور مراعات کو کون چھوڑے؟ جن اداروں کا کام بدعنوانی کا سدباب ہے وہی ادارے بدعنوانی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں نیب کی کہانیاں ہر زبان زد عام ہیں اسی طرح اس ملک کا ہر ادارہ بدعنوانی میں دوسرے کو مات کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے ملک میں صحت اور تعلیم کے ساتھ جو ہاتھ ہو رہا ہے اس سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہے اور المیہ یہ ہے کہ کسی کو بھی سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں پر اعتماد نہیں ہے لہذا ہر غریب اور امیر نجی سکولوں اور ہسپتالوں کا محتاج ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے ہر گلی محلے میں نجی سکول اور ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے کتبے آویزاں نظر آتے ہیں اور جو بھی ان کے آگے چڑھ جائے وہ پھر اپنی کھال کی خیر منائے۔
اس سارے ظلم کے اوپر ظلم یہ ہے کہ اگر کوئی اس ظلم کے پر آواز اٹھانے کی کوشش کرنا چاہے یا لوگوں کی سوچ بدلنے اور ان کی صیح سمت کی طرف اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو سب لوگ اس کو اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ڈراتے ہیں کہ یہ کام نہ کرنا ورنہ مارے جاو گے۔ لیکن میں جانتا ہوں اور میرا پختہ ایمان ہے کہ جب بھی کوئی اس بد عنوانی کے خلاف جنگ کرنے بے لوث نکلے گا تو لوگ جوق در جوق اس کے ساتھ ملیں گے، کیوں کہ اس ملک میں،  اس قوم میں آج بھی بیشمار ایسے لوگ موجود ہیں جو حق کا ساتھ دینے والے ہیں، جو پاکستان کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ بس ان سے میری التجا ہے کہ کسی کا انتظار مت کرو اٹھو اور اپنی اپنی سطح پر آواز بلند کرو، قدم بڑھاو، آگے بڑھ کر ظالم کا ہاتھ روک دو، جھوٹ کا گلہ گھونٹ دو،بدعنوانی کا سدباب کر دو مظلوموں کو پنجہ استبداد سے نجات دلا دو اور اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کرکے وطن عزیز کو اندھیروں سے نکال دو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *