جنت:جنس اور پیٹ کی آگ ٹھنڈی کرنے کا اڈہ ؟(آخری حصہ)

نوٹ: سائٹ پر دیئے گئے تمام کالمز اور بلاگز مصنفین کی ذاتی آرا ہیں، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

naeem-baloch1
پہلے حصے میں یہ واضح کرنی کی کوشش کی گئی تھی کہ جنت اور دوزخ کا بیان قرآن مجید کی متشابہ آیات میں آیا ہے اور پوری ذمہ داری سے عرض ہے کہ اس میں ہر گز کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مفسرین کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ جنت کا بیان تشبیہات اور تمثیل کے انداز میں ہے لیکن جنت کی زندگی ہر گز کوئی خواب یا غیر مرئی شکل میں نہیں بلکہ ٹھوس حقیقت کی شکل میں ہو گی ۔ اب آئیے اعتراض کے سب سے اہم حصے کی طرف کہ کیا جنت میں انسان بس عیاشی ہی کرے گا، کوئی تعمیری کام نہیں کرے گا ؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ علماء اس قسم کے سوالات کو پسند نہیں کرتے ۔ ان کے مطابق یہ متشابہ آیات کو متعین کرنے کی کوشش ہے ۔ مثلاًیہ کہنا کہ عورت کا جنت میں کام صرف جنسی تسکین مہیا کرنا ہو گا ، یہ فضول بات ہے ، ایسی کوئی بات قرآن میں بیان نہیں ہوئی کہ حوروں اور عورتوں کا صرف یہی کام ہو گا ۔حتیٰ کہ جنسی عمل، عورت اور حور میں فرق ، مردوں کی مردانگی ،عورت کی نسوانیت، کھانے پینے کی چیزیں ، سونا ، جاگنا ، مشاغل ۔۔۔۔ ان سب کواس دنیا کے لحاظ سے سمجھناا ور(Define ) کرنا بالکل غلط ہو گا ۔ حیرت تو اس بے ذوقی پر ہوتی ہے جب اس دنیا میں جنسی عمل کے چند لمحوں کولطف و نشاط کی معراج سمجھ لیاجائے ۔حالانکہ یہ عین قرین قیاس ہے کہ جنت میں اس کی کوئی انتہائی مختلف شکل ہو گی اور ہو سکتا ہے کہ حضرت انسان جب جنت میں جنسی عمل سے گزرے تو وہ دنیا میں کیے گئے جنسی عمل پر ہنسے او رشرمندہ ہو کہ یہ کیسا عمل تھا جس کے نتیجے میں وہ ناپاک اور غلاظت زدہ ہو کر جاتا تھا،او راس کا تقابل کرتے ہوئے کہے کہ دنیا میں تو اسے جنسی تلذذ کے نام پر محض جھنجنا دے کر ٹرخادیا گیا تھا۔اسی طرح وہاں کی کھانے پینے کی نعمتیں یقینًاایسی نہیں ہوں گی جن سے لطف اندوز ہونے کے بعد انسان بد بو کی دنیا کی سیاحت پر مجبور ہو جائے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ شاید وہاں ہم زندہ رہنے کے لیے آکسیجن ہی کو پھیپھڑوں میں لے جائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا کوئی اور ہی انتظام کرے ۔اللہ کی قدرت سے کیا بعید کہ وہاں عناصرِ زندگی کلی طور پر ہی مختلف ہوں اور ہونے بھی چاہییں کیونکہ یہاں یہ عناصر، زندگی اور موت کے مراحل سے گزرتے ہیں اور وہاں کی زندگی موت اور پیدایش سے ماورا ہو گی ۔اور مزید یہ کہ قرآن صاف اور واضح الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ یہ دنیا ، یہ نظام شمسی تو تباہ ہو جائے گا اور ایک نئی دنیا وجود میں آئی گی ( سورہ قیامہ ) اس لیے یہ پیٹ اور جنس کی بحث محض کج فہمی اور کوتاہ نظری ہے ۔ یہ بات طے ہے کہ اس دنیا کے طور طریقے سرے سے ہی کچھ اور ہوں گے اور ان کو سمجھنے کی کوشش کرنا یا کوئی شکل دینا ہماری محدود عقل سے ماورا ہے !
دوسری بات یہ ہے قرآن نے ہر گز یہ بات بیان نہیں کی جنت کی زندگی میں ان دو کاموں کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہو گا ، کیا خبر کہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ نے متنوع قسم کے ایڈونچرز ، مشاغل، اعزازی مصروفیات کا کوئی انتہائی دلچسپ سلسلہ تیار کر رکھا ہو کہ انسان اسے خوشی خوشی انجام دے ۔ بلکہ ذہن میں یہ خیال ضرور آتا ہے کیا اللہ نے فرشتوں کو جو اعلیٰ مقام دے رکھا ہے کیا یہ کسی آزمایش سے گزارے بغیر دے دیا تھا ؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ انسان نے کیا اللہ تعالیٰ سے خصوصی درخواست کی تھی کہ اسے موت و حیات کی چکی پیس کر آزمایا جائے ؟ اسے کیوں نہیں بلا آزمایش یہ نعمت دی گئی ؟ اس لیے کی منطقی طور یہی لگتا ہے کہ ان کو بھی اسی طرح کے امتحان سے گزا راگیا ہو گا جس سے انسان اس وقت گزر رہا ہے اور پھر انعام کے طور پر ان کو وہ مقام ملا ہو جس پر اب وہ فائز ہیں اور جبرائیلؑ ، میکائیلؑ ، اسرافیلؑ وعزرائیلؑ وغیرہ بن گئے ہیں!اگر ایسا ہے تو اللہ کے آزمائے اور اس کے انعام یافتہ انسان جو جنت میں موت سے آزاد اور ان گنت قوتوں کے مالک ہوں گے ، وہ نئی دنیاؤں کے کارکنان قضا و قدر کیوں نہیں ہو سکتے !( یاد رہے یہ محض ایک نظریہ ہے ، فتویٰ باز نوٹ کر لیں )
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نظریہ محض خیال نہیں بلکہ اس کے پیچھے بعض ٹھوس اشارات ہیں ۔ قرآن نے اصحاب جنت کی نعمتوں کو متعدد بار’’ نذل ‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی کے نزدیک ’نذل ‘ اس ضیافت کو کہتے ہیں جو مہمان کی پر تکلف آؤ بھگت کے لیے دی جاتی ہے ۔ ہمارے ایک صاحب علم دوست پرویز ہاشمی تو ایک متعین نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق قرآن میں اس کے واضح اشارات ملتے ہیں کہ جنت دراصل اللہ تعالیٰ کے اگلے پروجیکٹ کا نام ہے جہاں اللہ تعالیٰ انسان کی خواہش کے مطابق مہمان داری کرنے کے بعداس کی مرضی کے مطابق اسے نئی اسائنمنٹ دے گا۔اور جنت کی نعمتیں دراصل اسی ضیافت کا حصہ ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے ان کی اس رائے کے بڑے مضبوط دلائل ہیں !( ہمارے ایک دوست ابو یحییٰ نے جنت کی زندگی پر دو تہلکہ خیز ناول (جب زندگی شروع ہوگی ، قسم اس وقت کی )تحریر کیے ہیں ۔ قارئین ضرور ملاحظہ فرمائیں آن لائن بھی موجود ہیں )
اب آئیے اس سوال کی طرف کہ حوروں کی موجودگی میں زمینی عورتوں کی کیا اوقات ہوگی ؟یہ سوال بھی قلت تدبر کا نتیجہ ہے ۔ اعتراض کرنے والے نے جنت میں عورت کا مصرف صرف جنس ہی سمجھا ہے ، حالانکہ جنت کی عورت نہ مرد کی دست نگر ہوگی اور نہ یہ ماننا ضروری ہے کہ اس سے جسمانی لحاظ سے کمزور ہوگی ، ناقص العقل ہوگی،حیض وغیرہ کی علتوں کے ساتھ ہوگی ۔۔۔۔ دراصل اس کی اصل حیثیت کو متعین کرنا بھی امورِ متشابہ کے درپے ہونا ہے۔ اس لیے خواتین جمع خاطر رکھیں وہاں ان کی حیثیت حور کی بے حیثیت’ سوکن ‘کی ہر گز نہیں ہوگی!وہ ضرور جنت کی آفاقی دنیا میں مرد کی باوقار ’ پارٹنر ‘ہو گی! باقی رہا وہ نازک سوال جو ایک مرتبہ بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی ایک بے باک طالبہ نے بھری کلاس میں ہم سے پوچھ لیا تھا ۔اس کا سوال تھا کہ اللہ نے مردوں کے لیے تو حوروں کے حسن کو خوب کھول کھول کر بیان کیا ہے ، لیکن وہ عورتیں جن کے شوہر جہنم کے حق دار قرار پائیں گے ، ان کو اگر’ جنتی مرد‘ ملیں گے تو ان کی صفات اللہ تعالیٰ نے کیوں نہیں بیان کیں ؟ ہم نے کہا تھا کہ عزیزہ ! جب آپ کے بھائی کے لیے کوئی پروپوزل آپ کے والدین کے سامنے آئے گا تو پسند آنے پر وہ ضرور اس کی خوبیوں کی تعریف کریں گے لیکن وہ آپ کے لیے آئے پروپوزل پر آپ کے جسمانی حسن کی تعریف ہر گز نہیں کریں گے اور نہ اپنے ہونے والے داماد کی آپ کے سامنے تعریف کریں گے کیونکہ یہ شرم وحیا کے تقاضوں کے خلاف ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بڑھ کے شرم و حیا والا ہے۔ وہ اپنی حوروں اور جنتی عورتوں کے لیے مردوں کی مردانگی اور دوسرے جسمانی خصائص ہر گز بیان نہیں کرے گا ، یہ شرم وحیا کے بنیادی تقاضوں کے خلاف ہے۔۔۔۔سادہ سی بات ہے اپنی بیٹیوں کے لیے داماد کے جسمانی حسن کو بیان نہیں کیا جاتا۔
جنت پر اعتراض اور سوالات کی فہرست کو جنتا مرضی طول دے لیا جائے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ جنت پر نہیں دراصل اللہ کی قدرت، اس کی حکمتِ بالغہ ،اس کی قوت تخلیق و صانع ہونے پر اعتراض ہے ۔ بصد ادب گزارش ہے کہ تصور الہ کو درست کر لیں جب کچھ سمجھ میں آجائے گا ۔( پس تحریر عرض ہے کہ میرے بھائی شبیر احمد کے لیے قارئین سے دعاؤں کی خصوصی درخواست ہے ، ان کو اب دواؤں سے زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے ! )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *