بدقسمت شہزادی سیتا وائٹ اور عمران خان کی کہانی۔۔۔۔۔ قسط نمبر 12

sita white بشکریہ وینیٹی فیئر میگزین نیویارک

اس وصیت میں، 27فروری 2004ء کو سیتا نے کیمرون کو اپنا مختار اور ٹیرن کا سرپرست بنا دیا۔سیتا کے ٹرسٹ میں، کیمرون کا نام بطور معاون سرپرست درج کر دیا گیا۔اس وقت سیتا کو سیکس بیز کو جانتے ہوئے ابھی4ہفتوں سے بھی کم عرصہ ہوا تھا۔ اس وصیت میں اس نے یہ بھی واضح کر دیا کہ مندرجہ ذیل میں سے کوئی بھی میری بیٹی کا سرپرست نہیں ہو گا:
’’میری ماں، الزبتھ کیلن ڈی وازکویز، میری بہن، کیرولینا ٹریسا وائٹ، میرا بھائی، لوکاس چارلس وائٹ، میری سوتیلی ماں وکٹوریہ ان وائٹ، جو وکٹوریہ وائٹ اوگاراکے طور پر معروف ہے ، اور نہ ہی عمران خان یا پیٹر سوین نیلسن(نِکسن کے بقول، پیٹر اس وقت سیتا کا بوائے فرینڈ تھا۔)
اس ملاقات میں، اور اس کے بعد کی ملاقاتوں میں، کیمرون کے متعلق کسی بات نے نکسن کوپریشان کیا ۔ اس نے سیتا سے پوچھاکہ کیا اس کا کوئی اور دوست نہیں ہے؟ اور یہ کہ وہ اس شخص کو اتنا زیادہ اختیار کیوں دے رہی تھی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *