بدقسمت شہزادی سیتا وائٹ اور عمران خان کی کہانی
قسط نمبر 13

بشکریہ وینیٹی فیئر میگزین نیویارکsita white

نکسن نے سیتا کو لاس اینجلس کے ایک سرٹیفائیڈپبلک اکاؤنٹنٹ، وینڈی برلن سے ٹیکس ایڈوائس لینے کیلئے بھیجا لیکن برلن نے صرف ایک ملاقات کے بعد ایک کلائنٹ کے طور پر سیتا کو ڈیل کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ،برلن کے بقول، ان کی میٹنگ میں بھی اور فون پربھی، کیمرون ہمیشہ موجود ہوتا تھااور وہ بے حد بدتمیز اور جارحانہ بھی تھا۔برلن کا کہنا ہے، ’’کبھی اس وجہ سے اور کبھی اس وجہ سے، کیمرون سیکس بی سیتا کو لیکچر دیتا رہتا یہاں تک کہ سیتا قطی طور پر اپنی زندگی میں آنے والے ہر شخص کے خلاف ہوجاتی اور اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیتی: اپنی سوتیلی ماں کو، اپنی ماں کو، اپنے بھائی کو، اپنی بہن کو۔۔۔‘‘اپنی موت سے ایک روز پہلے، سیتا نے برلن کو کال کی اور اپنی اور کیمرون، دونوں کی طرف سے معذرت کی۔اپنے اور کیمرون کے رویوں پر اظہار ندامت کیااور اگلے روز ملاقات کیلئے وقت لیا۔
یکم اپریل کو، سیتا اور کیمرون نیویارک میں کوربلیز سے ملے۔ رینی کے بقول، کیمرون نے سیتا کے گالوں پر عجیب سے نسواری نشان ڈال دئیے تھے اور سیتا نے خود کو بطور ایلزبتھ مارکس متعارف کروایا۔بعد میں، گھبرائی ہوئی سیتا نے دعویٰ کیا کہ کیمرون نے اس سے کہا تھا کہ وہ میٹنگ میں فرضی نام کے ساتھ جائے۔میٹنگ کے دوران بھی ، سیتا کویہ جاننے کیلئے ’’ٹام‘‘(کیمرون) کی نصیحتوں کی ضرورت پڑتی رہی کہ وہ مزید پیسے دینے پر لوکاس کو کس طرح تیار کرے۔وہ مایوس نظر آتی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *