بدقسمت شہزادی سیتا وائٹ اور عمران خان کی کہانی۔۔۔۔۔ قسط نمبر 14

بشکریہ وینیٹی فیئر میگزین نیویارکsita white

نکسن کہتا ہے، ’’اس کی شکل و صورت فروری اور مئی کے درمیان ڈرامائی حد تک تبدیل ہو گئی ہے۔ وہ بہت زیادہ کمزورہو گئی ہے۔‘‘
’’ٹام‘‘ نے اسے بتایا کہ وہ اسے سوچ کر بتائے گا کہ اسے کس طرح آگے بڑھنا چاہئے۔ لیکن سیتا کسی قدر بے صبری قسم کی خاتون تھی۔ واپس، لاس اینجلس میں، اس نے دو خطوط ڈرافٹ کئے اور جورج ہرلِک کو فیکس کر دئیے۔ وہ نیو یارک میں ٹام کا ایک نوجوان ساتھی تھاجس کے متعلق ٹام نے اسے بتایا تھا کہ وہ اس پر اعتبار کر سکتی ہے۔
ان دونوں میں سے پہلا خط لوکاس کے نام تھا، جس میں درج تھا:
پیارے بھائی؛ لوکاس،
تقریباً 9برس کی اذیت بلآخر اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔مجھے یہ سوچ کر جتنا زیادہ اچھا محسوس ہو رہا ہے کہ ہم اس دور کو پیچھے چھور آئے ہیں، اتنا ہی میں یہ سوچ کر اداس ہو جاتی ہوں کہ ہمارے درمیان جذباتی تعلق مفقود ہے۔
میں جانتی ہوں کہ تمہارے پاس تمام ذرائع موجود ہیں اور مجھے ہمیشہ یقین رہا کہ تم ہمیں بچانے کیلئے آؤ گے اور درست اقدام اٹھاؤ گے۔
مجھے بہت حیرانی ہو گی اگر مجھے یہ یقین آجائے کہ تم واقعی ان تمام آزمائشوں سے واقف رہے ہو جو ہمیں برداشت کرنی پڑتی رہی ہیں۔اور بہرحال، تم نے جانتے بوجھتے ہوئے میری اور میری بیٹی ٹیرن کی جانب ہمیشہ پشت کئے رکھی ہے۔‘‘(جاری ہے۔)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *