فیشن کو نسوانیت کی ضرورت کیوں؟

fashion 1حیاء بخاری
یہ سال 2017ہے۔ ہم ایسے دلچسپ وقت میں زندہ ہیں جس میں ٹیکنالوجی نے اس قدر ترقی کی ہے کہ ہم آج کائنات کے گہرے ترین رازوں سے واقف ہیں۔ ہم اُس وقت میں رہ رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی نے ناممکن کو ممکن کر دیا ہے۔ انسانوں نے بے پناہ ترقی کی ہے ہاں مگر انسانیت زیادہ ترقی نہیں کر پائی۔
ہم نے اعداد و شمار کے ایسے طریقے دریافت کر لیے ہیں جنہوں نے عملی زندگی میں انسان کی جگہ لے لی ہے ہاں مگر کسی کی جسمانی ساخت کا مذاق اُڑانا ابھی بھی ہمارے لیے مشکل نہیں۔جنس، عمر اور نسلی امتیاز جیسے دقیانوسی خیالات کی پیروی آج بھی کی جاتی ہے، اُس پر دلیلیں دی جاتی ہیں اور انقلاب کو خوب داغدار کیا جاتا ہے۔
کیا غلط بات ہے اگر ایک مشہور اداکارہ ، موسیکارہ اور ایک ہر طرح سے کامیاب عورت Lola Kirke گولڈن گلوب ایوارڈز کی ریڈ کارپٹ تقریب میں اپنے بغلوں کے بال سمیت آگئی؟
اگر ہم ایک منٹ رُک کر اس صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ بات تو ماننے والی ہے کہ جسمانی بال کا اُگنا ایک قدرتی عمل ہے اور اس کا کام ہماری جلد کی اوپری سطح کو طرح طرح کی بیماریوں سے بچانا ہے۔ اور جسمانی بالوں کو صاف کرنے کے نقصانات میں بالوں کے زیادہ اُگنے سے لے کر جلدی سرطان تک سب شامل ہیں۔ تو پھر عورت سے صرف ملائم اور ریشمی جلد کی خواہش صرف مضحکہ خیز ہی نہیں بلکہ عورت کے لیے یہ نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔
اور اس اظہارِ خیال میں ابھی وقت، پیسے اور وسائل کی بات تو ہو ہی نہیں رہی جو عورت اس غیر انسانی حسن کو حاصل کرنے کے لیے صرف کرتی ہے۔ Waxing ایک تکلیف دہ عمل ہے اور کئی دفعہ اس میں جلد جلنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے ، لیزر ایک مہنگا عمل ہے جبکہ شیو کرنے کا مطلب ہے کہ بار بار یہ عمل دہرانا۔
یہ حقیقت ہے کہ عورت کو ہمیشہ یہی سبق پڑھایا جاتا ہے کہ جسمانی بال ایک بری چیز ہیں اور یہ کبھی کسی کونظر نہیں آنے چاہیئیں کجا کہ یہ بال دنیا کو نظر آجائیں۔۔۔ مگر یہ تو کو ئی بات نہیں کہ عورت اپنے خود کے جسم کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لے سکتی۔ کسی کو اُس کے جسمانی بالوں کے لیے شرمندہ کرنا اُتنا ہی برا ہے جتنا کسی کو اُس کی جسمانی ساخت کے لیے شرمندہ کرنا۔
کئی عورتیں ساری زندی صرف اسلیے مذاق کا نشانہ بنتی ہیں کہ وہ کسی ہارمونل بیماری کا شکار ہیں اور سکول سے لے کر عملی زندگی تک اُن کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اُن کے چہرے پر زیادہ بال ہیں۔ فیشن میں یہ خاصیت ہے کہ اس وہ اس روایت کو ختم کرسکتا ہے۔ اِس کے اندر خوبی ہے کہ وہ ان غیر انسانی معیاروں کا مکمل طور پر خاتمہ کر سکے۔ جبکہ مغربی میڈیا نے kirkeکواس بارے میں زیادہ تنقید کا نشانہ نہیں بنایا وہیں پر سوشل میڈیا کے کارندوں اور ناقدین نے تو kirkeکی شخصیت کو ایسا جھنجھوڑا جیسے جسمانی بال دکھانے پر وہ اُنہیں موت کی دھمکیاں تک دے ڈالیں گے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ایک عورت کو صرف اس بات پر پرکھا جائے کہ اپنے جسم کو کیسے دیکھنا اور دکھانا چاہتی ہے ، یہ تو نسوانیت ہی کی توہین ہے بلکہ یہ ایسا ہی ہے کہ برابر حقوق کی بات کرنے والے تمام لوگوں کو فسطائی اصولوں کا پیروکار بنا دیا جائے۔
اب جیسے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے نیچے لکھا تھا کہ آپ اس کو جتنا بھی نسوانیت کا مسئلہ بنا لیں جسمانی بالوں کا نظر آنا ایک گندی بات ہے۔
بات یہ ہے کہ اگر ایسی عورتیں بھی ان مسئلوں کے حل کے لیے کھڑی نہیں ہونگی تو پھر کون ہو گا۔ پھر ہم گھریلو تشدد، عورتوں کے کوٹے پر ایڈمیشن کے بجائے میرٹ پر ایڈمیشن اور اس جیسے مسائل پر بات کیسے کریں گے۔ ہم ایسی عورتوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہی ایک بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ فیشن کو غنڈہ گردی سے پاک کر دیا جائے۔ یہ سچ ہے کہ فیشن میں سب کچھ سٹائل ہی ہے مگر پھر بھی کئی دفعہ اصولوں کے خلاف جا کر بھی ایک منفرد چیز بنائی جاتی ہے۔ اور فیشن کے نام پر کسی کو اُس کی جسم یا پہننے اوڑھنے کے طریقے کے لیے شرمندہ کرنا غلط ہے بلکہ یہ فیشن کی اصل بنیاد یعنی انفرادیت اور جمالیاتی خود اظہار کی منافی کرنا ہی ہے اور اس روّیے کی روک تھام ضروری ہے۔knlm

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *