ایک سوشل تتلی کی ڈائری

بھائی ایک بات جو مجھے سمجھ نہیں آتی وہ یہ کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ پورے امریکہdiary 1 کے گرد دیوار بنوا کر اُس کے پیسے میکسیکو سے لے سکتا ہے تو میں اپنے گھر کے گرد ایک دوسری دیوار بنا کر اُس کے پیسے سارے گلبرگ سے کیوں نہیں لے سکتی؟ اب یہ میری غلطی تو نہیں ہے نا کہ گلبرگ والے، یعنی میرے پڑوسی اپنی شادیوں پہ گانا بجانا کر کے اتنا شور مچاتے ہیں کہ میرے جاگ جاگ کے آنسو نکل آتے ہیں۔ اب کل رات ہماری اگلی گلی میں شادی تھی مگروہاں کا ڈھول اتنا اونچا تھا، اتنا اونچا تھا کہ مجھے لگا کہ ڈھول والا میرے بستر کے ساتھ کھڑا ڈھول بجا رہا ہے وہ بھی رات کے ساڑھے تین بجے تک۔آج مجھے اتنا کوئی بڑا My Grain ہو گیا ہے کہ پوچھو ہی مت۔سچی بات تو یہ ہم جیسے نازک اور نفیس لوگ تو یہ برداشت ہی نہیں کرسکتے۔ اب ہم اس لیے کسی چنگھڑ محّلے میں نہیں بلکہ گلبرگ میں رہتے ہیں کہ یہاں رہنے والے لوگ خاندانی ہیں جن کا bagground بھی اچھا ہے ناکہ رات کے ساڑھے تین بجے تک ڈھول بجانے والے گھٹیا نمبر دو bagground والے۔
ویسے خاندانی کی بات پہ مجھے میری دوست سنی نے بڑے مزے کی بات بتائی۔۔اُس کی انڈین سہیلی کٹی کپور ،جو دہلی کی بڑی ہائی سوسائٹی پارٹی آنٹی ہے ، کی بیٹی کا ابھی بیٹا ہوا ہے۔ پتہ ہے اُس نے اپنی سہیلیوں کی کونسی پارٹی دی؟ ایک placenta party۔۔ جی ہاں ، ہوایوں کہ کٹی کی بیٹی نے اپنا placenta محفوظ کر لیا اور پھر اُس کو کاٹ کر pancakesمیں ملا کر اپنی سہیلیوں کو کھلا دیا۔ اب سوچو ذرا Placenta pancakes۔ اب بھئی یہ Placenta ہوتا تو بڑا غذائیت والا ہے ، بڑا وٹامن سے بھر پور اور یہ کھانے سے آپ دھرتی کی ماں اور پتہ نہیں کیا کیا بن جاتے ہیں۔ اور میں سارا وقت یہی سمجھتی رہی کہ سارے ہندو سبزیاں ہوتے ہیں اوہو میرا مطلب سبزی خور ہوتے ہیں۔ سبزی خور چھوڑو یہ تو آدم خور نکل آئے۔ سچی بتاؤں تو سب قیامت کی نشانیاں ہیں، بھئی دنیا ختم ہونیوالی ہے۔ گلبرگ چنگھڑ محّلہ بن گیا ہے اور ہندو آدم خور ہوگئے ہیں۔ اور اب آپ کو کیا ثبوت چایئیے؟
مترجم: رابعہ جہانزیب خان

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *