ہم بری افواج اور فضائیہ کے احسان مند ہیں

ایازا میرAyaz Amir

شمالی وزیرستان میں افغان بارڈر کے نزدیک ایک دور دراز چوکی پرہونے والی شدید جھڑپ میں ہمارے تین اور فوجی جوانوں نے وطن کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ وطن کے سپوتوں کا بہنے والا یہ لہو ایک بار پھر یاددلاتا ہے... اگر کسی مزید یاددہانی کی ضرورت تھی.... کہ یہ جنگ کس قدر شدید ہے اورجون سے شروع ہونے والے اس آپریشن میں ہمارے فوجی جوانوں نے کس قدرقربانیاں پیش کی ہیں۔
پاک فوج کو پہنچنے والے اس جانی نقصان کی وجہ یہ ہے کہ اس نے طالبان اور دیگر انتہا پسندوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان پر مسلسل دبائو بڑھایا ہوا ہے.... حافظ گل بہادر گروپ نے اس تازہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس دبائو کی وجہ سے ملک کے باقی حصوں میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ۔جون سے لے کر اب تک دہشت گردی کے گنے چُنے واقعات پیش آئے جبکہ اس آپریشن سے پہلے ملک کا ہر حصہ دہشت گردوں کا آسان ہدف تھا۔ اُس وقت (آپریشن سے پہلے)قوم پے درپے حملوں کے باوجود شکست خوردہ احساس کے ساتھ ہر ممکن طریقے سے دہشت گردوںکو مذاکرات کے ذریعے خوش کرنے کی کوشش میں تھی لیکن الحمدﷲ، آج قوم یک سو ہے اورسیاسی قیادت اور سیاسی طبقے کا پھیلا ہو کنفیوژن دور ہوچکا ہے۔
ہمارے ہاں مسائل کی کوئی کمی نہیں.... لوڈ شیڈنگ، مہنگائی،حکومت کی نااہلی ، لیکن سکیورٹی کے حوالے سے قوم مطمئن ہے ۔ اس اطمینان کی وجہ فوج ہے جس کی فضائیہ کے شاہین مغربی محاذپر تاریخ رقم کررہے ہیں۔ ہم اخبارات میں ادارئیے اور مضامین لکھ سکتے ہیں، ٹی وی پر گفتگو کرسکتے ہیں، فیشن شو ز اور مختلف رومانوی ڈراموں اورلاہور اور دیگر شہروں کی رونق سے دل بہلا سکتے ہیں۔ ہم گفتار کے غازی بن کر کشتوں کے پشتے بھی لگا سکتے ہیں۔ اس تمام سہل پسندی اور سکون کی واحد وجہ یہ فوجی آپریشن ہے۔
جب فوج نے اس آپریشن کا فیصلہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی سیاسی قیادت آگے بڑھ کر اس کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیارتھی تو پاکستان پر جنگ مسلط کرنے والے جنگجو گروہ بلاروک ٹوک شہریوں کا خون بہارہے تھے۔ وہ فاٹا کی پناہ گاہوں سے نکل کر ملک میں کہیں بھی حملہ کرنے کی جرأت رکھتے تھے۔ یہ نہیں ہے کہ ان کی صلاحیت مکمل طور پر کچل دی گئی ہے لیکن اب اس میں واضح کمی ضرور آگئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کل صورت ِحال یکسر تبدیل ہوجائے۔ کچھ بھی ڈرامائی صورت رونما ہوسکتی ہے، لیکن آج یہ بات بلاتامل کہی جا سکتی ہے کہ اب دہشت گرد حملوں کا خطرہ ہمارے ذہن میں اُس شدت سے موجود نہیں جتنا یہ کچھ عرصہ پہلے ہوا کرتا تھا۔ اس پیش رفت پر ہم اپنی مسلح ا فواج میں فرائض سرانجام دینے والے جوانوں اور ان میں شامل خواتین( گو مٹھی بھر) کو سیلوٹ کرتے ہیں۔
ہمارے قبائلی علاقے اُس وقت بھی’’ عراق اور شام‘‘ بن چکے تھے جب ان ممالک میں ابھی داعش کے فتنے نے سر نہیں اٹھایاتھا۔ ہمارے ملک میںموجود طالبان داعش سے کم خونخوار اور وحشی نہیں ۔ داعش کی دہشت اس لئے پھیلی کہ اس نے اپنے مخالفین کا سر قلم کرنا شروع کیا جبکہ طالبان اس کام میں بہت پہلے سے ہی مہارت رکھتے تھے۔ اگر خود کش حملہ آور تیار کرنا ایک علم ہے تو ہمارے قبائلی علاقوں کو اس کی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹیاں قرار دیا جاسکتا تھا۔ تاہم اگر فتنہ پرور لہر تھم گئی ، پاکستان شام اور عراق نہیںبنا، ملک کا نظام موجود اور اگر یہ طالبان ہیں جن کی صفوں میں رخنے پڑنا شروع ہوگئے ہیں ، اگر ملا فضل اﷲ طالبان کا متفقہ لیڈر نہیں رہایا جنگجولیڈروں، جیسا کہ منگل باغ اور ملا فضل اﷲ کو افغان سرزمین پر پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے توا س کی وجہ ہمارے ہاں چلنے والی کوئی باد ِ نسیم یا چمکنے والا سورج اور دمکنے والے ستارے نہیں بلکہ اس کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہے.... پاک فوج۔ آپ اس منظر نامے سے فوج کو نکال دیں تو پاکستان شام اور عراق بن جائے گا۔
ایک وقت تھا جب افغانستان ایک پرامن اور مستحکم ملک تھا، لیکن جنگ اور خانہ جنگی نے اسے تباہ کردیا ۔ شام اور عراق بھی مستحکم اور سیکولر، جتنا ایک اسلامی ملک ہوسکتا ہے، ممالک تھے۔ وہاں کے حکمران آہنی ڈنڈے سے حکومت کرتے ہوئے ذرہ برابر اختلاف برداشت نہیں کرتے تھے، تاہم عوام کی مادی ضروریات کافی حد تک پوری ہوتی تھیں اوروہاں اقلیتیں بھی محفوظ تھیں، لیکن امریکہ کی شروع کردہ جنگوں نے ان ممالک کے نظام کا دھڑن تختہ کردیا۔ اس سے ایسی افراتفری اور شورش نے سر اٹھایا جس کا ہم پاکستانی تصوربھی نہیں کر سکتے۔ امریکہ اور نیٹو افواج نے لیبیا جیسے ملک کو کھنڈر بنا دیا۔جس دوران مغربی طاقتیں یوکرائن میں روسی مداخلت کے بارے میں فکر مند ہیں،وہ مشرق ِ وسطیٰ میں اپنی مداخلت کو فراموش کربیٹھیں۔
ہمارے لئے ایک طاقتورفوج رکھنے کا اصل محرک بھارت تھا۔ تقسیم ِ ہند کی تلخ یادیں،خاص طور پر پنجاب میں ہونے والی خونریزی اور بھارت کے ساتھ نہ حل ہونے والے کشمیر کے مسئلے نے ہمیں اپنی ریاست کو سکیورٹی اسٹیٹ بنانے پر مجبور کردیا۔ ایسا کرتے ہوئے پاکستان اُس راہ سے بہت دور نکل آیا جو اس کے بانیوں کے ذہن میں تھی۔ کچھ اور چیلنج بھی قومی افق پر موجود رہے۔ ایک وقت تھا جب کابل سے پشاور تک کا بس کا کرایہ تیس روپے تھا۔ کون تصور کرسکتا تھا کہ آنے والا وقت افغانستان میںتباہی اور بربادی کے ہیولے رقصاں دیکھے گا اور پاکستان فوج کو مشرق کی بجائے مغربی سرحد پر اُن انتہا پسندوںکے خلاف کارروائی کرنا پڑے گی جو کسی بیرونی سرزمین سے نہیں آئے تھے بلکہ ان کی انتہا پسندی کے سوتے اسی سرزمین پر پھوٹتے تھے۔
فوج سے مختلف سربراہوں کی قیادت میں کچھ غلطیاں بھی ہوئیں۔ اگر ہم افغان جہاد کے دلدل میں قدم نہ رکھتے تو شاید ہم بہت سی پیچیدگیوں سے بچ جاتے۔ تاہم گزرے وقت کو واپس نہیں لایا جاسکتا اور جن افراد نے وہ فیصلہ کیا، ان میںسے بیشتر اب اس دنیا میں موجود نہیں۔ فوج کو حالات و واقعات کے جبر تلے نئی طاقتوں کی طرف سے سامنے آنے والے نئے چیلنجوں کے دبائو کے سامنے اپنی ترجیحات کو بدلنا پڑا۔ اسے اپنی عسکری حکمت ِ عملی کو بدلتے ہوئے مشرق کی بجائے مغرب کی طرف توجہ مرکوز کرنا پڑی۔ اس سے چیلنج کے سامنے اس کی فکری حرکیات اور نظریاتی بلوغت کا ثبوت ملتا ہے۔ اگر یہ کوئی عام فوج ہوتی تو اس عقربی دبائو کے سامنے اس کے اعصاب چٹخ جاتے، لیکن پاک فوج، جسے نہایت موثر فضائیہ کا بیک اپ حاصل ہے، نے یہ چیلنج قبول کیا۔جب پاکستان کے زیادہ تر ادارے، بلکہ زیادہ تر حلقے غیر فعال اورنااہل ہیں، پاکستانیوں کے لئے یہ چیز کم از کم طمانیت کا باعث ہے کہ ایک ادارہ اپنی ذمہ داریاں بطریق ِ احسن ادا کررہا ہے ۔
آج ہمارے سامنے مقام ِفکر ہے۔ اگر مسلح افواج اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں، تو کیا ہمارا ان کی طرف کوئی فرض نہیں بنتا؟ کیا ہمارے لئے ضروری نہیں کہ اس دوران کم سے کم کنفیوژن پھیلائیں کیونکہ اس نازک مرحلے پر ژولیدہ فکری مہلک ثابت ہوگی۔ کیا ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات مختلف نہیںہونی چاہئیں؟کیا سیاسی رہنمائو ں کا اس جنگ میںکوئی کردار نہیں ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ نہ اہلیت کا پھل درختوں پر لگتا ہے کہ توڑ کر دامن میں بھر لیا جائے اور نہ ہی بدعنوانی وعظ ونصیحت سے ختم ہوتی ہے کہ بیان بازی سے مسائل حل کرلیں ، لیکن کیا ہمیں ملک میں امن و امان کی صورت ِحال میں بہتری لانے میں اپنا کردار ادا نہیںکرناچاہئے ؟کیا ہماری عدلیہ پر کوئی ذمہ دار ی عائد نہیں ہوتی؟ہم نے توہین کے قوانین کا تماشہ کیوںبنا رکھا ہے؟ کیا یہاں عیسائی شہریوںکوجینے کا کوئی حق نہیں؟ملک سے شاپنگ بیگ ختم کرنے پر کس ناگ دیوتا نے ہمیں بھسم کردینے کی دھمکی دے رکھی ہے؟
جب ہم دیکھتے ہیں کہ نئے خطرے کے پیش ِ نظر فوج نے خود کو تبدیل کرلیا تو باقی اداروں کو بھی اسی مثال کی پیروی کرنی چاہئے۔ فوج اور سول اداروں کی کارکردگی میں وسیع تفاوت پایا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں نعرے اور بیانات کام نہیں دیں گے۔ فوج کو ملکی افق پر اس لئے غلبہ حاصل نہیں ہے کہ اس کے پاس بندوقیں اور ٹینک ہیں، بلکہ اس لئے کہ سیاسی طبقے کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے بعد پھر وہ شکایت نہیں کرنی چاہئے کہ قومی معاملات میں فوج کو بالا دستی حاصل ہے۔

ہم بری افواج اور فضائیہ کے احسان مند ہیں” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 1, 2015 at 9:04 AM
    Permalink

    "اگر یہ طالبان ہیں جن کی صفوں میں رخنے پڑنا شروع ہوگئے ہیں ، اگر ملا فضل اﷲ طالبان کا متفقہ لیڈر نہیں رہایا جنگجولیڈروں، جیسا کہ منگل باغ اور ملا فضل اﷲ کو افغان سرزمین پر پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے توا س کی وجہ ہمارے ہاں چلنے والی کوئی باد ِ نسیم یا چمکنے والا سورج اور دمکنے والے ستارے نہیں بلکہ اس کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہے.... پاک فوج۔"

    گستاخی معاف، جب ملا فضل اللہ اور منگل باغ یہاں دندناتے پھر رہے تھے. نیک محمد اور بیت اللہ محسود کو محب وطن پاکستانی قرار دیا جا رہا تھا، تو اس کی وجہ کون تھا. اصل بات آخر میں رقم ہے، "نئے خطرے کے پیش ِ نظر فوج نے خود کو تبدیل کرلیا ".

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *