پڑھے لکھے لوگوں کا المیہ

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

کسی حسین شام کو اچھے سے غیر ملکی ریستوران میں کھانا تناول کرنے کے بعد کافی پینے کا اپنا ہی مزا ہے ‘ ایسے میں اگر آپ سموکنگ ایریا میں بیٹھے ہوں تو کیا کہنے ‘ سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے ملکی حالات پر پڑھے لکھے لوگوں کی گفتگو ایمان تازہ کر دیتی ہے ۔پڑھے لکھے لوگوں کی گفتگو مجھے اس لئے پسند ہے کیونکہ وہ دلیل سے بات کرنے میں یقین نہیں رکھتے ۔ایسی ہی شام تھی‘ ایک صاحب جو تازہ تاز ہ جنوبی افریقہ سے وارد ہوئے تھے‘ کہہ رہے تھے ’’دوستو ‘کیپ ٹائون کے ساحلوں کی ریت پر تنہا چھتری تلے بیٹھ کر میں نے پاکستانی غریب عوام کے بارے میں بہت سوچا !‘‘یہ سن کر میرے ایک ستم ظریف دوست نے پوچھا’’پھر آپ کس نتیجے پر پہنچے ؟‘‘ کیپ ٹائون نے جواب دیا ’’میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جب تک اس ملک میں تعلیم عام نہیں ہوگی اس عوام کا کچھ نہیں بنے گا۔‘‘یہ جملہ چونکہ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں اس لئے میرے دوست سے رہا نہیں گیا اور وہ دوبارہ بولا ’’اگر یہ بات درست ہے تو کیا وجہ ہے کہ انتخابات میں جاہل عوام نے ہمیشہ انتہا پسندوں کو مسترد کرتے ہوئے روشن خیا ل جماعتوں کو ووٹ دئیے ‘اس سے زیادہ بالغ نظری اور کیا ہوگی !‘‘اس کے بعد بحث 1970ء کے انتخابات سے شروع ہوئی اور 11مئی 2013ء کے انتخابات تک آئی ‘ درمیان میں مائو زے تنگ ‘ میسولینی‘ ہٹلر‘ چرچل ‘ اوبامہ‘ اسامہ بن لادن اور کیپ ٹائون کی لڑکیوں کے حسن پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی اور اس کے بعد جس بات پر سب نے اتفاق رائے کیا وہ یہ تھی کہ ٹیبل نمبر تین پر بیٹھی ہوئی خاتون جو بار بار ایک خاص انداز سے اپنے بالوں کو جھٹک رہی تھی کیپ ٹائون کی تمام لڑکیوں سے زیادہ حسین تھی ۔
غیر ملکی ڈگری‘ اعلیٰ نوکری ‘احساس تحفظ‘ بھرے ہوئے پیٹ اور محفوظ مستقبل کے احساس کے ساتھ لاہور ‘ کراچی یا اسلام آباد کے کسی پوش علاقے میں بیٹھ کر ملکی حالات کا تجزیہ کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر زندگی کی جنگ لڑنے میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ایک لمحے کے لئے تصور کریں کہ آپ اس ملک میں کسی ایسی کمیونٹی کا حصہ ہیں جسے ہر لمحے اپنی جان کا خوف لاحق ہو‘ جسے یہ ڈر ہو کہ اس پر کوئی بھی الزام لگا کر عقیدے کی بنیاد پر زندہ جلا دیا جا سکتا ہے ‘ یا اس بلوچ کی طرح سوچیں جس کے باپ کا نام لا پتہ افراد کی فہرست میں شامل ہے اور اب اسے بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اسے بھی غائب کر دیا جائے گا‘ اس کمزور عورت کی طرح سوچیں جو اس سفاک اور بے رحم معاشرے کے رحم و کرم پر ہے ‘ اس اقلیتی فرد کی طرح سوچیں جس کے نومولود بچے سے بھی جینے کا حق چھین لیا گیا ہے ‘ وہ مزدور بن کر سوچیں جس نے روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھر کا چولہا گرم کرنا ہے اور اس کے پاس بیمار ہونے یا چھٹی کرنے کا بھی کوئی آپشن نہیں یا اس عام آدمی کی طرح سوچیں جس نے تن تنہا ظلم کے اس نظام کو شکست دے کر آگے بڑھنا ہے ۔بظاہر یوں لگتا ہے جیسے کسی کے جوتوں میں پیرگھسا کر با ٓسانی سوچا جا سکتا ہے مگر ایسا نہیں ہے ‘ جیسے پانچ سو روپے دیہاڑی کمانے والا شخص اندازہ ہی نہیں کر سکتا کہ کیسے برطانیہ کے کلبوں میں عرب شہزادے پانچ پانچ سو پائونڈز کی ’’ویلیں‘‘ کرواتے ہیں ‘اسی طرح پڑھے لکھوں کو بھی اندازہ نہیں ہو سکتا کہ ہر لمحہ زندگی کی گاڑی کھینچنے والا ’’جاہل‘‘ شخص اس خوفناک دنیا میں زندہ رہنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلتا ہے ۔
پڑھے لکھے لوگوں کا دوسرا المیہ وہ قطعیت ہے جس کے ساتھ یہ سوچتے ہیں‘وہ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے ڈگری حاصل کر لی ہے لہٰذا ان کی بات ہمیشہ درست ہوگی ‘ ان کی گفتگو میںاس قدر تیقّن ہوتا ہے کہ بعض اوقات آپ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کوئی شخص کسی بھی معاملے میں اس قدر حتمی رائے کیسے رکھ سکتا ہے ‘ اپنی رائے تبدیل کرنے یا اس کے بارے میں تشکیک کا اظہار کرنے کو وہ سُبکی سمجھتے ہیں ‘ ان کی باتوں میں حد سے بڑھا ہوااعتماددیکھ کر خوف آتا ہے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو نجی اور سرکاری شعبوں میں کلیدی عہدو ں پر فائز ہیں ‘ بندہ سوچتا ہے کہ اگر ایسے لوگ ہماری تقدیر کے فیصلے کرتے ہیں تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ ہم ابھی تک تنزلی کا شکار ہیں !اپنی تمام تر ڈگریوں کے کرّو فر کے باوجود یہ پڑھے لکھے لوگ ہی ہیں جو انواع و اقسام کی سازشی تھیوریوں میں یقین رکھتے ہیں ‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیر بھی انہی کی وجہ سے ہوئی ‘ یہی وہ طبقہ تھا (اور ہے) جو یہ کہتا تھا کہ پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کے پیچھے را ‘ موساد ‘ سی آئی اے ‘ بلیک واٹر‘ بھارت ‘ اسرائیل ‘ امریکہ ‘مختصراً یہ کہ ساری غیر اسلامی دنیا ہے جو نہیں چاہتی کہ پاکستان واحد اسلامی نیوکلیئر طاقت کے طور پر قائم رہے ‘ ان کے خیال میں واہگہ بارڈر پر ہونے والے حالیہ دھماکے میں خود کش بمبار بھارت سے پیدل چل کر آیا تھا ‘ یہ چونکہ پڑھے لکھے ہیں اس لئے انہیں یہ بتانا ہی فضول ہے کہ حقائق اس کے بر عکس ہیں کیونکہ ان کا کہا ہوا حرف آخر ہے ۔
ایسا نہیں کہ رسمی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں اور ہمیں اپنے بچوں کو سکولوں سے اٹھا لینا چاہئے‘ سکولوں اور کالجوں میں جو الف ب پڑھائی جاتی ہے وہ صرف زندگی کی ابتدا ہے ‘اسے انتہا نہیں سمجھ لینا چاہئے‘ وہ لوگ جو یہ الف ب نہیں پڑھ پاتے وہ نصابی علم سے تو محروم رہ جاتے ہیں مگر ان کا اکتسابی علم ہم سے کہیں زیادہ ہوتا ہے ‘ ان لوگوں کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھنا حماقت سے زیادہ کچھ نہیں ۔اگرہمارے پاس کسی مستند یونیورسٹی کی ڈگری ہے تو بہت اچھی بات ہے مگر اس سے بھی ضروری یہ بات ہے کہ ہم اور آپ سوچتے کیسے ہیں ‘ کیا ہم سچائی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ کیا وہ باتیں جو سالہا سال سے ہمیں رٹائی جاتی رہی ہیں کیاہم ان پر سوال اٹھانے کی جرات کرتے ہیں ‘ کیاہمیں کبھی لگا ہے کہ اکثر اوقات سچ بالکل سامنے کی بات ہوتی ہے مگرکوئی اسے کہنے کی ہمت نہیںکرتا ‘ کیاہماری بی اے کی سند کے مقابلے میں کسی لا پتہ بلوچ فرد کے نوجوان بیٹے کی زندگی کی ڈگری کہیں زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہے ‘ کیاہم نے کبھی اس سچ کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو نصابی کتابوں کے باہر پایا جاتا ہے ! اگر ان میں سے کسی ایک بات کا بھی جواب ہاں میں ہے تو ہمیں اپنی ڈگریوں پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ‘البتہ اگر ہم نے یہ ڈگریاں فقط اس لئے حاصل کیں تھی کہ ایک اچھی نوکری ملے ‘اچھی جگہ شادی ہو جائے‘ بڑا سا گھر اور محفوظ مستقبل ہو تو پھر ہم میں اور کسی ان پڑھ میں کوئی خاص فرق نہیں بلکہ اس کے نمبر زیادہ ہیں جو بغیر کسی ڈگری کے زندگی کی گاڑی کھینچتا ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *