ہر جانب یار یار۔۔۔ اوراللہ حافظ

مستنصر حسین تارڑMHT

ویسے تو اگر گردش ایام کو پیچھے لوٹایا جائے تو آٹھ برس کی عمر میں، میں نے بچوں کے رسالوں میں لکھنا شروع کیا اور ان میں ’’ہدایت‘‘ جو نظرزیدی کے زیرادارت شائع ہوتا تھا ’’تعلیم و تربیت‘‘ اور ’’کھلونا‘‘ دہلی وغیرہ شامل تھے۔۔۔ لکھتا کیا تھا یونہی کہانیاں جوڑ جاڑ کر اور لطیفے کچھ خود بنا کر اورکچھ ادھر اُدھر سے کھینچا مار کے رسالوں میں بھیج دیا کرتاتھا، مجھے یاد ہے جب پہلی بار کسی رسالے میں میرانام شائع ہوا تھا تو اُسے دیکھ کر جو نشہ طاری ہوا تھا، کیسے میں نے اپنے آپ کو بقیہ بچوں سے برتر سمجھا تھا تو وہ سر خوشی پھر کبھی نصیب نہ ہوئی ۔۔۔ اور ہاں میں یہ سوچ سوچ کر خوش ہوتا تھا کہ اگر یہ رسالہ پانچ ہزار کی تعداد میں شائع ہوا ہے تو پانچ ہزار رسالوں میں میرانام چھپا ہو گا بلکہ بک سٹالوں پر جا کر اس رسالے کی ورق گردانی کرکے اپنا نام تلاش کرتا کہ کیا بات ہے اس میں بھی میرا نام موجود ہے۔۔۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں اللہ تعالیٰ نے مجھے توقیر بخشی۔۔۔ اشتہاروں اور خوش آمدیدی بینرز پر اپنا نام جلی حروف میں دیکھا۔۔۔ سنکیانگ کے صدر مقام اُرمچی کی یونیورسٹی کی عمارت کے ماتھے پر ایک متحرک نیون سائن کی صورت ’’ویلکم پاکستانی رائٹر مستنصر حسین تاڑ‘‘ حرکت کرتے دیکھا۔۔۔ لیکن وہ سرخوشی اور روح پرور مسرت پھر بھی محسوس نہ ہوئی۔۔۔ بہرطور 1958ء میں پہلی بار میری بالغ اور سنجیدہ تحریروں کا آغاز ہوا اور ان زمانوں کے مؤقر ہفتہ وار ’’قندیل‘‘ میں میرا پہلا سفرنامہ ’’لندن سے ماسکو تک‘‘قسطوں کی صورت میں شائع ہوا۔۔۔ پھر گیارہ برس غفلت میں گزر گئے اور 1969ء میں دوبارہ میں سفرنامہ نویسی کی جانب لوٹا اور’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کی اشاعت ممکن ہوئی۔۔۔ یہ ابتدائیہ قدرے طویل ہو گیا ہے، میں اپنی ادبی زندگی کی روئداد بیان نہیں کرنا چاہتا صرف یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلے تقریباً ساٹھ برس سے ہمارے معاشرے میں جو تبدیلیاں غیرمحسوس طریقے سے رونما ہوئی ہیں میں اُن کا چشم دید گواہ ہوں اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تقریباً ہر پچاس برس کے دوران ن صرف اخلاقی اقدار، زبان کا برتاؤ، لباس، گالیاں، محبت کا اظہار بدل جاتا ہے بلکہ جھوٹ اور سچ کے پیمانے بھی بدل جاتے ہیں بلکہ مذہب میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ یہ موضوع دراصل اتنا گھمبیر ہے کہ ایک پوری کتاب کا تقاضا کرتا ہے تو اسے صرف ایک کالم میں قید کر کے مختصر کرتا ہوں۔
دیہات کے علاوہ شہروں میں ایک بے پردہ عورت کے کردار کے بارے میں شک کیا جاتا تھا۔۔۔ خواتین، مڈل کلاس خواتین سب کی سب برقعہ پوش ہوتی تھیں۔۔۔ میری والدہ اور خالائیں بھی برقع پہنتی تھیں۔۔۔ پھر برقع متروک ہوا اور اس کی جگہ چادر آ گئی اور پھر صرف دوپٹہ رائج ہوا۔۔۔ اور اب وہ بھی مفقود ہو رہا ہے۔۔۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اخلاقی گراوٹ کا چلن ہو گیا ہے بلکہ یہ زمانے کا بہاؤ ہے۔۔۔ اور پھر کچھ عرصہ پہلے خمینی کے انقلاب کے بعد یکدم حجاب پسندیدہ ہونے لگا تو یہ بدلتے زمانوں کا ایک اور رنگ ہے۔
ان زمانوں میں ریڈیو کی ’’لعنت‘‘ عام نہیں ہوئی تھی اور ہفتے میں دو بار آزاد کشمیر ریڈیو پر آدھ گھنٹے کے لئے فلمی گانے سنائے جاتے تھے اور میں اور میری چھوٹی خالہ جان چھپ کر یہ گانے سنتے تھے کہ کہیں ماموں جان کو خبر نہ ہو جائے اور یقین کیجئے اُن دنوں اگر کسی لڑکی کے لئے رشتہ آتا تھا اور انہیں کوئی محلے دار خبر کر دیتا تھا کہ لڑکی تو فلمی گانے سنتی ہے تو رشتہ اکثر منسوخ ہو جاتا تھا۔۔۔ اور اگر کہیں یہ راز افشا ہو جاتا تھا کہ لڑکی نے سینما جا کر ایک فلم دیکھی ہے تو وہ کنواری ہی مر جاتی تھی۔۔۔ اور ان دنوں شادیوں میں انڈین گانوں کی دھنوں پر میں نے ایسی ادھیڑ عمر خواتین کوبھی ناچتے دیکھا ہے جو نہایت باقاعدگی سے نماز پڑھتی ہیں۔
اب یہ جو لفظ ’’یار‘‘ ہے۔۔۔ یہ شرفاء کی زبان پر کبھی نہیں آتا تھا۔۔۔ یہ لفظ صریحاً بے راہروی اور غیراخلاقی رویوں کی ترجمانی کرتا تھا۔۔۔ بے شک فارسی میں آپ ویار من بیا بیا۔۔۔ الاپ سکتے تھے لیکن اردو میںیار کا مطلب یہی تھا کہ لڑکی اپنے یار کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ اور اب یہ ہے کہ ہر جانب ’’یار یار‘‘ ہو رہی ہے۔۔۔ لڑکیاں اسے بے دریغ استعمال کرتی ہیں بلکہ ’’یار ابّو‘‘ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتیں بلکہ میرے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جب میرا پوتا یاشار میرے کندھے پر دھپ مار کر کہتا ہے ’’یار دادا، آئس کریم تو کھلا دو‘‘ اور میں پھر عرض کرتا ہوں کہ یہ اخلاقی گراوٹ کی نشانیاں نہیں ہیں۔۔۔ وقت کے ساتھ اظہار اور الفاظ کے معنی بدل گئے ہیں اور انہوں نے بدلنا ہی تھا۔۔۔ یوں نصف صدی کے دوران مذہب کے اظہار میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ اُس کی بنیادی اقدار تو قیامت تک مستحکم ہیں لیکن ان میں ردوبدل اظہار کی صورت بدلتا رہتا ہے۔ مثلاً اُن زمانوں میں نکاح کی تقریب بے حد سادہ ہوتی تھی، صرف ایجاب و قبول کے معاملات طے پاتے تھے اور اب نکاح بھی نہایت پیچیدہ ہو چکا ہے۔ نکاح خواں ازاں بعد۔۔۔ کھڑے ہو کر ایک طویل تقریر کرتے ہیں بلکہ باقاعدہ خطبہ دیتے ہیں یہاں تک کہ کھانا ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ شادی کے علاوہ مرگ پر بھی اسی نوعیت کی انقلابی تبدیلیاں، جن کا مولانا انقلاب سے کچھ واسطہ نہیں، رونما ہو چکی ہیں۔۔۔ تب ہم بچھڑ جانے والے کو سپردخاک کر کے خاموشی سے قبرستان سے باہر آ جاتے تھے، باہر آ کر ایک مرتبہ پھر فاتحہ پڑھتے تھے اور رنجیدگی میں گھر لوٹ جاتے تھے۔۔۔ اور اب یہ ہے کہ تدفین بھی جدید ہو چکی ہے۔۔۔ یعنی یہ رواج بھی زمانوں کے تغیر کے ساتھ تبدیل ہوا ہے اور گھڑوں کی بجائے سیمنٹ کی سِلیں قبر میں آراستہ کی جاتی ہیں اس اہتمام کے ساتھ کہ ہر سِل پر کلمہ شریف مارکر یا چاک سے لکھا جاتا ہے۔
اور بدلتے زمانوں میں ’’خدا‘‘ کی بجائے ’’اللہ‘‘ مستعمل ہو گیا ہے۔۔۔ ہم تو پوری زندگی ’’خدا حافظ‘‘ کہتے چلے آئے تھے اور یکدم انکشاف ہوا کہ یہ تو سب رائیگاں گیا۔۔۔ ہم نے جن ہزاروں عزیروں دوستوں کو خدا کے سپرد کیا تھا تو ہم کیسے ناداں تھے کہ خدا تو اور قوموں کے بھی ہوتے ہیں تو ہم نے اپنوں کو صرف اللہ کے سپرد کر کے ’’اللہ حافظ‘‘ کہنا ہے۔ میں نے اپنی نادانی میں ایک بار لمحۂ موجود تک سب سے مستند مولانا فتح محمد جالندھری کے قرآن پاک کے اردو ترجمے کا حوالہ دیا کہ انہوں نے آغاز میں ’’شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے‘‘ لکھا ہے تو بھی میری کچھ شنوائی نہ ہوئی کہ زمانے کے ساتھ مذہب کا اظہار بھی بدل چکا تھا۔ خدا کو رخصت کر دیا گیا تھا اس لئے میری عافیت اسی میں ہے کہ میں اس کالم کے آخر میں ’’خدا حافظ‘‘ کا مرتکب نہ ہوں۔۔۔ اس لئے۔۔۔ اللہ حافظ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *